Congress Alleges Mass Voter Deletion Under SIR ایس آئی آر معاملہ،کانگریس ہائی کورٹ جانے تیار

ایس آئی آر کے نام پر ایک کروڑ سے زائد ووٹروں کے نام حذف کرنے کی کوشش: کانگریس کا الزام

بی جے پی اور الیکشن کمیشن پر جانبداری کا الزام، مدت میں ایک ماہ کی توسیع کا مطالبہ

بنگلورو، 6 اگست (حقیقت ٹائمز)

کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) نے الزام عائد کیا ہے کہ ریاست میں خصوصی انتخابی نظرِ ثانی (ایس آئی آر) کے دوران ایک کروڑ سے زائد اہل ووٹروں کے نام فہرست سے خارج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کی براہِ راست ذمہ داری بھارتیہ جنتا پارٹی پر عائد ہوتی ہے۔کے پی سی سی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے شعبۂ ذرائع ابلاغ و مواصلات کے سربراہ اور رکن قانون ساز کونسل رمیش بابو نے کہا کہ پارٹی نے اس معاملے پر متعدد مرتبہ الیکشن کمیشن سے رجوع کیا ہے، لیکن مؤثر جواب نہیں ملا۔

 انہوں نے کہا کہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ریاست کے 5.40 کروڑ ووٹروں میں سے تقریباً 20 فیصد ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کا اندیشہ ہے، جبکہ گزشتہ ہفتے یہ شرح 15 فیصد بتائی جا رہی تھی۔انہوں نے الزام لگایا کہ ایس آئی آر کے نام پر صرف ووٹر فہرست کی نظرِ ثانی نہیں ہو رہی بلکہ کانگریس کے حامی ووٹروں کو نشانہ بنا کر ان کے نام حذف کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق غیر حاضر، فوت شدہ، ایک سے زیادہ مقامات پر اندراج رکھنے والے اور پتہ تبدیل کرنے والوں کے ناموں کی آڑ میں اہل ووٹروں کے نام بھی نکالے جا رہے ہیں۔رمیش بابو نے کہا کہ کئی علاقوں میں انتخابی عملہ ووٹروں کے گھروں تک نہیں پہنچا اور نہ ہی مردم شماری کے فارم تقسیم کیے گئے، اس کے باوجود انہیں غیر حاضر قرار دے کر نام حذف کیے جا رہے ہیں۔ 

انہوں نے دعویٰ کیا کہ صرف کے آر پورم اسمبلی حلقے میں ہی ایک لاکھ ووٹروں کو غیر حاضر قرار دیا گیا ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب الیکشن کمیشن خود 97.7 فیصد مردم شماری فارم تقسیم ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے تو پھر اتنی بڑی تعداد میں ووٹروں کو غیر حاضر کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن افراد نے رہائش تبدیل کی یا جن کا سابقہ اندراج مطابقت نہیں رکھتا، انہیں بھی فارم فراہم نہیں کیے گئے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت کے دباؤ میں ریاست میں ایک کروڑ سے زائد ووٹروں کے نام فہرست سے نکالنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو 43 فیصد ووٹ ملنے کے باعث اس کے حامی ووٹروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔رمیش بابو نے کہا کہ بی جے پی کے متعدد قائدین، جن میں آر اشوک، چلوادی نارائن سوامی، بی وائی وجیندرا اور مرکزی وزیر پرہلاد جوشی شامل ہیں، الیکشن کمیشن کی کارروائی کی حمایت کر رہے ہیں، اس لیے اگر اہل ووٹر اپنے حقِ رائے دہی سے محروم ہوتے ہیں تو اس کی مکمل ذمہ داری بی جے پی پر ہوگی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرکزی الیکشن کمیشن فوری مداخلت کرتے ہوئے مردم شماری فارم جمع کرانے کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع کرے اور ووٹروں کے نام بڑے پیمانے پر حذف کیے جانے کے عمل کو روکے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو کانگریس اس معاملے میں ہائی کورٹ سے رجوع کرے گی۔پریس کانفرنس میں کے پی سی سی گریجویٹس ونگ کے صدر نتراج گوڑا اور سابق میئر رام چندرپا بھی موجود تھے۔

0/Post a Comment/Comments