فوزیہ ترنم معاملہ، ہائی کورٹ نے سیاست دانوں کو آئینہ دکھا دیا
مذہبی بنیاد پر بیانات ناقابلِ قبول، این۔ روی کمار کیس کی سماعت 20 اگست کو
بنگلورو، 7 اگست (حقیقت ٹائمز)
کرناٹک ہائی کورٹ نے سیاست دانوں کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف توہین آمیز اور اشتعال انگیز بیانات دینے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے بیانات کی وجہ سے غیر ضروری فوجداری مقدمات درج ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں قتل، ڈکیتی اور سنگین جرائم جیسے اہم مقدمات برسوں تک زیر التوا رہ جاتے ہیں۔یہ ریمارکس جسٹس ایم۔ ناگ پرسنّا پر مشتمل یک رکنی بنچ نے بی جے پی کے رکن قانون ساز کونسل این۔ روی کمار کی اس درخواست کی سماعت کے دوران دیے، جس میں انہوں نے گلبرگہ کے اسٹیشن بازار پولیس تھانے میں اپنے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کی استدعا کی تھی۔عدالت نے درخواست گزار اور سرکاری وکیل دونوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاست دان عوامی فلاح و بہبود کے مسائل پر گفتگو کرنے کے بجائے اشتعال انگیز بیانات دے رہے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس معاملے میں کوئی بھی سیاسی جماعت اس رجحان سے مستثنیٰ نہیں ہے۔بنچ نے ریاستی حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ترنگا جھنڈا لے کر جلوس نکالنے پر پابندی عائد کرنا بھی ناقابلِ قبول اقدام ہے۔درخواست گزار کے وکیل ایم۔ ونود کمار نے مؤقف اختیار کیا کہ جلوس میں شریک افراد کو تقریباً 9 گھنٹے غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ این۔ روی کمار نے ضلع کلکٹر کے طرزِ عمل پر سوال اٹھایا تھا، تاہم بعد میں وہ اپنے بیان پر معذرت بھی کر چکے ہیں۔اس پر عدالت نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ "کیا صرف معافی مانگ لینے سے سب کچھ ختم ہو جاتا ہے؟" عدالت نے کہا کہ صرف اس بنیاد پر کہ ضلع کلکٹر فوزیہ ترنم ایک مسلم خاتون ہیں، انہیں مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنانا انتہائی نامناسب ہے۔عدالت نے درخواست گزار کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہر شخص کی عزتِ نفس ہوتی ہے اور کسی کو بلاجواز مجروح کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے مزید کہا کہ اگر سیاست دان اسی طرح کے بیانات دیتے رہے اور پھر عدالت سے ریلیف مانگتے رہے تو ایسی صورت میں عدالت کسی بھی قسم کی راحت فراہم نہیں کرے گی اور ضرورت پڑنے پر معاملہ سپریم کورٹ جانے دیا جائے گا۔بعد ازاں درخواست گزار کے وکیل نے ترنگا جلوس پر پابندی اور مقدمہ درج کرنے کی منظوری سے متعلق ریکارڈ عدالت میں پیش کرنے کے لیے مہلت طلب کی، جسے قبول کرتے ہوئے عدالت نے سماعت 20 اگست تک ملتوی کر دی۔عدالت نے اس کے ساتھ ہی این۔ روی کمار کے خلاف کسی بھی سخت یا جبری کارروائی نہ کرنے سے متعلق پہلے سے جاری عبوری حکم میں بھی توسیع کر دی۔واضح رہے کہ این۔ روی کمار کے مبینہ بیان، جس میں انہوں نے ضلع کلکٹر فوزیہ ترنم کے بارے میں متنازع تبصرہ کیا تھا، کے بعد ان کے خلاف گلبرگہ کے اسٹیشن بازار پولیس تھانے میں بھارتیہ نیائے سنہتا، 2023 کی دفعات 196(1)(ا)، 196(1)(ب) اور 353(2) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
Post a Comment