 |
Pics by : Zaheer Anser |
بنگلورو میں پہلی بار ’شامِ ریختہ‘، اردو ادب و تہذیب کی رنگا رنگ پیشکش
روشن بیگ کی خصوصی کاوش، شاعری، موسیقی اور تھیٹر نے سامعین کو متاثر کیا
بنگلورو، 10 اگست (حقیقت ٹائمز)
اردو زبان و ادب، شاعری، موسیقی، تھیٹر اور ہندوستانی تہذیب کے رنگوں سے سجی یادگار ادبی و ثقافتی شام ’شامِ ریختہ‘ پہلی مرتبہ بنگلورو میں منعقد ہوئی، جس میں اردو داں طبقے کے ساتھ غیر اردو داں افراد اور نئی نسل نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پروگرام کے دوران فنکاروں کی شاندار پیشکشوں کو سامعین نے بھرپور داد دی، جبکہ اختتام پر حاضرین نے کھڑے ہوکر فنکاروں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ریختہ فاؤنڈیشن اور ہریش و بینا شاہ فاؤنڈیشن کے اشتراک سے پریسٹیج سینٹر فار پرفارمنگ آرٹس میں منعقدہ اس پروگرام نے بنگلورو کے ثقافتی منظرنامے میں ایک منفرد رنگ پیدا کیا۔ اس کا مقصد اردو شاعری، موسیقی اور ہندوستانی تہذیبی ورثے کو وسیع تر حلقۂ سامعین تک پہنچانے کے ساتھ نئی نسل اور غیر اردو داں طبقے کو اردو سے قریب لانا تھا۔
شام کا پہلا اہم پروگرام ’ایک ملاقات‘ تھا، جس میں معروف شاعر ساحر لدھیانوی اور معروف شاعرہ امرتا پریتم کی لازوال محبت کی داستان کو ڈرامائی انداز میں پیش کیا گیا۔ معروف اداکار شیکھر سمن اور گیتیکا تیاگی نے اپنی شاندار اداکاری، پُراعتماد مکالمہ نگاری اور شستہ زبان کے ذریعے کرداروں میں ایسی جان ڈال دی کہ سامعین پوری طرح کہانی میں محو ہوگئے۔ سمانا احمد اور سیف حیدر حسن کی تحریر اور سیف حیدر حسن کی ہدایت کاری میں پیش کیے گئے اس ڈرامے کو زبردست پذیرائی حاصل ہوئی۔خصوصاً شیکھر سمن کے مکالموں، برجستہ انداز اور شستہ زبان کے استعمال کو سامعین نے بے حد پسند کیا۔ کئی مواقع پر ہال تالیوں سے گونج اٹھا اور پروگرام کے اختتام پر حاضرین نے کھڑے ہوکر فنکاروں کی صلاحیتوں کو سلام پیش کیا۔
بعد ازاں ’رنگ و نور: اردو شاعروں کے فلمی شاہکار‘ کے عنوان سے موسیقی اور تھیٹر پر مبنی خصوصی پیشکش پیش کی گئی۔ ہما خلیل کی تحریر و ہدایت کاری میں پیش کیے گئے اس پروگرام میں اردو شاعروں کے فلمی شاہکاروں کو شاعری، موسیقی اور بصری فن کے حسین امتزاج کے ساتھ پیش کیا گیا، جس نے سامعین کو اردو شاعری کے ایک منفرد اور دلکش پہلو سے روشناس کرایا۔’شامِ ریختہ‘ کی ایک نمایاں خصوصیت اس کے متنوع سامعین تھے۔ اعلیٰ عدالت کے ججوں، گریٹر بنگلورو اتھارٹی کے چیف کمشنر مہیشور راؤ، آئی ٹی کمپنیوں سے وابستہ ملازمین، آئی اے ایس افسران اور ان کے اہل خانہ سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ اس طرح یہ محفل صرف اردو داں طبقے تک محدود نہیں رہی بلکہ مختلف زبانوں اور پیشہ ورانہ پس منظر رکھنے والے افراد نے بھی اردو ادب اور ہندوستانی تہذیب کی اس خوبصورت پیشکش سے لطف اٹھایا۔

بنگلورو جیسے کثیر لسانی اور عالمی شہر میں پہلی مرتبہ ’شامِ ریختہ‘ کا انعقاد اس لحاظ سے بھی اہم قرار دیا گیا کہ اردو کو محض ایک زبان کے طور پر نہیں بلکہ شاعری، موسیقی، تھیٹر اور تہذیبی ورثے کے وسیع تناظر میں نئی نسل اور غیر اردو داں طبقے کے سامنے پیش کیا گیا۔ پروگرام نے یہ پیغام دیا کہ اردو کی ادبی و تہذیبی کشش کسی ایک طبقے یا زبان تک محدود نہیں بلکہ اس کے رنگ ہر عمر اور ہر زبان کے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرسکتے ہیں۔

بنگلورو میں ریختہ کی آمد میں سابق وزیر اور سینئر رہنما آر روشن بیگ کی خصوصی کاوشوں کو بھی اہم قرار دیا گیا۔ منتظمین کے مطابق شہر میں ’شامِ ریختہ‘ کے انعقاد کی راہ ہموار کرنے میں آر روشن بیگ نے اہم کردار ادا کیا، جبکہ ان کے فرزند آر رومان بیگ اور دختران شایستہ روشن اور صوبیہ روشن کے رائزنگ ایونٹس نے پروگرام کی کامیابی کے لیے بھرپور تعاون کیا۔پروگرام کے اختتام پر ایک خوشگوار اور یادگار لمحہ اس وقت آیا جب فنکاروں، ریختہ کے بانی سنجیو سراف، ہما خلیل اور دیگر فنکاروں کے ساتھ روشن بیگ خاندان نے آر رومان بیگ کی سالگرہ بھی منائی۔ اس موقع پر محفل کا ادبی اور ثقافتی ماحول خوشی اور مسرت میں بدل گیا۔’شامِ ریختہ‘ کے اختتام پر سامعین کا کھڑے ہوکر فنکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرنا اس یادگار شام کی کامیابی کا واضح مظہر تھا۔ پہلی مرتبہ بنگلورو میں منعقد ہونے والی یہ محفل نہ صرف اردو زبان و ادب کے لیے ایک اہم ثقافتی پیش رفت ثابت ہوئی بلکہ اس نے اردو کو نئی نسل، غیر اردو داں طبقے اور شہر کے وسیع تر سماج سے جوڑنے کی ایک نئی اور امید افزا راہ بھی ہموار کی۔
Post a Comment