بنگلورو میں بارش سے ساٹھ مکانات زیرآب، متاثرین کی مشکلات میں اضافہ
ووٹ نہیں دیا تو مدد کیوں کروں — رکن اسمبلی کے مبینہ بیان پر منصور علی خان برہم
بنگلورو، 19 مئی (ایم اے تمیم پاشاہ)
بنگلورو شہر میں گزشتہ روز ہوئی موسلادھار بارش کے بعد کئی نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے، جس کے نتیجہ میں عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ خصوصاً بائیپّنہلی ریلوے اسٹیشن کے عقب میں واقع علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہونے سے تقریباً 60 مکانات متاثر ہوئے اور مکینوں کی روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوگئی۔متاثرہ خاندانوں کے مطابق بارش کا پانی گھروں میں داخل ہونے سے غذائی اشیاء، گھریلو سامان اور دیگر ضروری اشیاء کو نقصان پہنچا، جبکہ کئی خاندان رات بھر پانی نکالنے اور اپنے گھروں کو بچانے کی کوششوں میں مصروف رہے۔ خواتین، بچے اور بزرگ انتہائی دشوار حالات میں رات گزارنے پر مجبور ہوئے۔

اس دوران مقامی عوام نے الزام عائد کیا کہ جب وہ مدد کیلئے سی وی رامن نگر حلقہ کے رکنِ اسمبلی ایس رگھو سے رجوع ہوئے تو انہیں مایوس کن رویہ کا سامنا کرنا پڑا۔ متاثرین کے مطابق رکنِ اسمبلی نے مبینہ طور پر کہا کہ ’’آپ نے مجھے ووٹ نہیں دیا، پھر میں آپ کی مدد کیوں کروں؟‘‘اس بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری منصور علی خان نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک منتخب عوامی نمائندہ پورے حلقہ کے عوام کا نمائندہ ہوتا ہے اور اس کی ذمہ داری ہر شہری کی خدمت کرنا ہے، نہ کہ سیاسی وابستگی کی بنیاد پر امتیاز برتنا۔منصور علی خان نے کہا کہ بارش سے متاثرہ خاندان پہلے ہی شدید مشکلات سے دوچار ہیں اور ایسے وقت میں عوامی نمائندوں کو متاثرین کی مدد کیلئے آگے آنا چاہیے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے فوری راحتی اقدامات کرنے، پانی کی نکاسی کا مؤثر انتظام کرنے اور متاثرہ خاندانوں کو ضروری امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔شہر کے مختلف علاقوں میں بارش کے بعد پیدا شدہ صورتحال نے ایک مرتبہ پھر بنگلورو میں نکاسیٔ آب کے ناقص نظام اور شہری بنیادی سہولتوں کی کمزوری کو اجاگر کردیا ہے، جس پر عوامی حلقوں میں تشویش پائی جارہی ہے۔
Post a Comment