حج کی تیاریاں عروج پر، منیٰ میں عازمین کے لیے جدید انتظامات مکمل
خیموں کا شہر جدید سہولیات اور اسمارٹ ٹیکنالوجی سے آراستہ
مکہ مکرمہ، 15 اپریل (حقیقت ٹائمز)
حج 2026 کے مقدس سفر کی آمد کے پیش نظر سعودی عرب میں تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔ بالخصوص منیٰ—جسے دنیا بھر میں “خیموں کا شہر” کہا جاتا ہے—میں لاکھوں عازمینِ حج کے استقبال کے لیے غیر معمولی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق، سعودی وزارتِ حج و عمرہ کی نگرانی میں منیٰ کے خیموں کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا جا رہا ہے، تاکہ عازمین کو زیادہ سے زیادہ آرام، تحفظ اور سہولت فراہم کی جا سکے۔ اس سال خاص طور پر ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم، جدید ایئر کنڈیشننگ، بہتر حفظانِ صحت کے انتظامات اور ہجوم کے نظم و نسق کے لیے اسمارٹ ٹیکنالوجی متعارف کروائی جا رہی ہے۔
منیٰ میں عازمین کے قیام کے لیے لاکھوں کشادہ اور فائر پروف خیمے نصب کیے گئے ہیں، جہاں پانی، بجلی، طبی سہولیات اور خوراک کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے خصوصی میڈیکل ٹیمیں اور ایمبولینس سروسز بھی تعینات کی جا رہی ہیں۔سعودی حکام کے مطابق، اس بار حجاج کرام کی سہولت کے لیے ای-گائیڈنس سسٹم اور موبائل ایپلی کیشنز کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے، تاکہ عازمین کو راستوں، عبادات اور خدمات سے متعلق بروقت رہنمائی مل سکے۔یاد رہے کہ منیٰ، حج کے اہم ارکان میں شامل ایامِ تشریق کے دوران عازمین کا مرکزی قیام گاہ ہوتا ہے، جہاں رمیِ جمرات سمیت اہم عبادات ادا کی جاتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت کی جانب سے ہر سال جدید سہولیات کا اضافہ حج انتظامات کو عالمی سطح پر ایک مثالی نمونہ بنا رہا ہے۔ اس مرتبہ بھی توقع کی جا رہی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور مربوط منصوبہ بندی کے ذریعے عازمین کو ایک محفوظ، منظم اور روحانی ماحول فراہم کیا جائے گا۔
Post a Comment