Siddaramaiah Slams VB-G RAM G Scheme, Defends Rural Employment Rights منریگا کے خاتمے سے دیہی روزگار کمزور ہوا: وزیرِ اعلیٰ سدارامیا

وی بی۔جی رام جی منصوبہ روزگار کے آئینی حق کے خلاف

منریگا کی منسوخی سے دیہی معیشت اور پنچایتی نظام کو نقصان: سدارامیا

بنگلورو، 3 فروری (حقیقت ٹائمز)

کرناٹک قانون ساز اسمبلی کی کارروائی کے دوران وزیرِ اعلیٰ سدارامیا نے مرکزی حکومت کی جانب سے منسوخ کی گئی مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی اسکیم (منریگا) اور اس کے متبادل کے طور پر نافذ کردہ وی بی۔جی رام جی منصوبے پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے اسے دیہی عوام کے روزگار کے حق، پنچایتی خودمختاری اور آئینی اقدار کے منافی قرار دیا۔وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ منریگا کے تحت تمام طبقات کو مانگ کی بنیاد پر روزگار فراہم کیا جاتا تھا، جس کے باعث دیہی علاقوں سے شہری علاقوں کی طرف ہجرت میں نمایاں کمی آئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ منریگا سے قبل لوگ روزگار کی تلاش میں نقل مکانی پر مجبور تھے، مگر اس قانون نے دیہی زندگی کو معاشی تحفظ فراہم کیا۔انہوں نے سابق وزیرِ اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسی مدت میں خوراک کا حق، تعلیم کا حق، معلومات کا حق اور جنگلاتی باشندوں کے حقوق جیسے قوانین نافذ کیے گئے، جن سے غریب اور کمزور طبقات کو براہِ راست فائدہ پہنچا۔سدارامیا نے کہا کہ آئین کی 73ویں اور 74ویں ترمیم کے تحت گرام سبھاؤں کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ مقامی سطح پر طے کریں کہ کہاں اور کس نوعیت کے کام انجام دیے جائیں، مگر وی بی۔جی رام جی منصوبے میں یہ اختیار مرکز کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے، جو لا‌مرکزیت کے اصولوں کے برخلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی کا نظریہ تھا کہ جب تک گاؤں مضبوط نہیں ہوں گے، ملک ترقی نہیں کر سکتا، اور جواہر لعل نہرو نے بھی پنچایت، اسکول اور کوآپریٹو اداروں کو دیہی ترقی کی بنیاد قرار دیا تھا۔وزیرِ اعلیٰ کے مطابق کرناٹک میں 71.18 لاکھ منریگا کارکنان تھے، جن میں سے 51 فیصد سے زائد خواتین تھیں۔ منریگا کے خاتمے سے خواتین، دلت، آدیواسی اور چھوٹے کسان سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ-19 کے دوران منریگا نے دیہی مزدوروں کو سہارا دیا، مگر اب نہ گرام سبھا مؤثر ہے اور نہ ہی پنچایت کو فیصلہ سازی کا حق حاصل ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ منریگا کے تحت زرعی سرگرمیوں کے دوران بھی کام فراہم کیا جاتا تھا اور اس میں ٹھیکیداروں کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی، جبکہ نئے قانون کے تحت بڑے ٹھیکے، سڑکیں اور شاہراہیں شامل کی گئی ہیں، جس سے مقامی روزگار کے بجائے ٹھیکیداری نظام کو فروغ مل رہا ہے۔سدارامیا کے مطابق وی بی۔جی رام جی قانون کے نتیجے میں دیہی علاقوں میں بے روزگاری میں اضافہ ہوگا, خواتین کی شراکت میں کمی آئے گی, کم از کم اجرت کا کوئی تحفظ نہیں رہے گا,دلت اور آدیواسی خاندانوں پر معاشی دباؤ بڑھے گا ،دیہی ترقی اور خودانحصاری کو نقصان پہنچے گا ،انہوں نے کہا کہ جہاں منریگا کے تحت ہر سال 100 دن کی روزگار ضمانت تھی، وہیں نئے قانون میں کام بجٹ اور مرکزی نوٹیفکیشن سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ 125 دن روزگار کی بات کہی گئی ہے، مگر عملی طور پر 60:40 کے فنڈنگ تناسب کے باعث ریاستوں پر اضافی مالی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔وزیرِ اعلیٰ نے الزام لگایا کہ مرکز ریاستوں کو واجب الادا فنڈز جاری نہیں کر رہا، حتیٰ کہ مالی کمیشن کی سفارشات پر بھی عمل نہیں ہو رہا۔ ان کے مطابق 15ویں مالی کمیشن سے کرناٹک کو تقریباً 15 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ بھدرا اپر پروجیکٹ کے لیے اعلان کردہ 5300 کروڑ روپے بھی تاحال جاری نہیں کیے گئے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب موجودہ وزیرِ اعظم گجرات کے وزیرِ اعلیٰ تھے تو مرکز سے 50 فیصد حصہ داری کا مطالبہ کرتے تھے، مگر اب وزیرِ اعظم بننے کے بعد ریاستوں پر 40 فیصد بوجھ کیوں ڈالا جا رہا ہے۔بحث کے اختتام پر وزیرِ اعلیٰ سدارامیا نے واضح طور پر مطالبہ کیا کہ وی بی۔جی رام جی قانون کو مکمل طور پر منسوخ کیا جائے ،منریگا کو اس کی اصل شکل میں بحال کیا جائے ،عوام کے روزگار کے آئینی حق کو دوبارہ تسلیم کیا جائے ،پنچایتوں کے اختیارات بحال کیے جائیں ،ملک بھر میں کم از کم 400 روپے یومیہ اجرت مقرر کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی کے نام کو روزگار قانون سے ہٹانا ان کی توہین کے مترادف ہے اور اس حوالے سے مرکزی حکومت اور صدرِ جمہوریہ کو باضابطہ یادداشت ارسال کی جائے گی۔

0/Post a Comment/Comments