By Abdul Haleem Mansoor: Judicial Neutrality Under Scrutiny Amid Religious Assertions عدالتی غیر جانب داری اور مذہبی اظہار: اعتماد کے آئینی سوالات

 انصاف کا ترازو اور مذہب کا سایہ

 عدالتی غیر جانب داری پر ایک سنجیدہ سوال

از : عبدالحلیم منصور 

عدالت محض اینٹ، پتھر اور کاغذی کارروائی کا نام نہیں، یہ کسی بھی جمہوری سماج میں عوام کے اجتماعی ضمیر اور آخری امید کی علامت ہوتی ہے۔ جب سیاست مفادات کی دلدل میں اتر جائے، انتظامیہ کمزور یا جانبدار نظر آنے لگے اور سماج ناانصافی کے بوجھ تلے دب جائے، تب نگاہیں فطری طور پر عدالت کی طرف اٹھتی ہیں۔ اسی لیے عدالتوں سے صرف فیصلوں کی نہیں بلکہ غیر جانب داری، اخلاقی وقار اور آئینی وفاداری کی توقع کی جاتی ہے۔ مگر سوال اس وقت سنگین صورت اختیار کر لیتا ہے جب خود عدالتی منصب پر فائز کسی شخصیت کے الفاظ اس بنیادی اعتماد کو متزلزل کرنے لگیں۔

حالیہ دنوں مدراس ہائی کورٹ کے ایک جج کے عوامی بیان نے اسی نوعیت کی بحث کو جنم دیا ہے۔ جب کوئی جج یہ کہتا ہے کہ وہ اپنے مذہبی عقیدے کو دل میں رکھ کر عوامی فرائض انجام دینا چاہتا ہے تو یہ بات محض ذاتی اظہار نہیں رہتی۔ عدالتی منصب کی نوعیت ہی ایسی ہے کہ وہاں ذاتی سوچ، ذاتی عقیدہ اور ذاتی رجحان بھی ایک اجتماعی اور ادارہ جاتی پیغام بن جاتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں مسئلہ فرد سے نکل کر عدلیہ کی ساکھ، عدالتی اخلاقیات اور عوامی اعتماد سے جڑ جاتا ہے۔

یہاں یہ نکتہ واضح ہونا چاہیے کہ ہندوستان کا آئین کسی ابہام کے بغیر ایک سیکولر دستاویز ہے۔ سیکولرازم کا مطلب مذہب دشمنی نہیں بلکہ ریاست اور اس کے تمام ستونوں کی مذہبی غیر جانب داری ہے۔ آئین تمام شہریوں کو مساوی حیثیت دیتا ہے، مذہب، ذات، نسل یا شناخت کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے امتیاز کو مسترد کرتا ہے اور انصاف کو ہر عقیدے سے بالاتر رکھتا ہے۔ ایک جج جب حلف اٹھاتا ہے تو وہ کسی مذہبی روایت، فلسفے یا فکری مکتب کا محافظ بننے کا وعدہ نہیں کرتا، بلکہ آئین کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کا عہد کرتا ہے۔ یہی عہد عدالتی منصب کی اصل روح اور اخلاقی بنیاد ہے۔

یہ بھی ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ جج سماج ہی سے آتے ہیں۔ ان کی ذاتی شناخت، مذہبی پس منظر اور فکری وابستگیاں ہو سکتی ہیں، مگر جج کی کرسی ایک ایسی جگہ ہے جہاں ذاتی شناخت کو شعوری طور پر پسِ پشت ڈالنا پڑتا ہے۔ یہی عدالتی اخلاقیات کا بنیادی اصول ہے۔ اسی لیے دنیا بھر کی جمہوریتوں میں یہ اصول تسلیم شدہ ہے کہ انصاف صرف ہونا کافی نہیں، بلکہ ایسا نظر آنا بھی چاہیے کہ ہر فریق بلا خوف و تردد اس پر یقین کر سکے۔

جب کوئی جج اپنے مذہبی عقیدے کو عوامی فرائض کا رہنما قرار دیتا ہے تو فطری طور پر چند ناگزیر سوالات جنم لیتے ہیں۔ کیا اس کے بعد تمام شہری خود کو یکساں محفوظ محسوس کریں گے؟ کیا اقلیتوں کو یہ اعتماد رہے گا کہ ان کے مقدمات صرف قانون، شواہد اور آئینی اصولوں کی بنیاد پر سنے جائیں گے؟ کیا ایک مسلم، عیسائی یا دلت فریق یہ یقین کر پائے گا کہ اس کے ساتھ مذہبی شناخت کی بنیاد پر لاشعوری امتیاز نہیں برتا جائے گا؟ اور اگر کسی مقدمے میں مذہبی شناخت بالواسطہ طور پر شامل ہو تو کیا فیصلہ واقعی غیر جانب دار رہے گا؟ یہ سوالات بدنیتی پر مبنی نہیں بلکہ عدالتی نظام پر عوامی اعتماد کے لیے ناگزیر ہیں۔

موجودہ سماجی اور سیاسی تناظر میں یہ تشویش مزید گہری ہو جاتی ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں مذہبی بنیادوں پر تشدد، نفرت انگیز بیانیہ، ہجومی کارروائیاں اور عبادت گاہوں سے متعلق تنازعات ایک تلخ حقیقت بن چکے ہیں۔ گورکشا، مبینہ لو جہاد اور مذہبی شناخت کی بنیاد پر تشدد جیسے معاملات نے اقلیتوں میں عدم تحفظ کے احساس کو بڑھایا ہے۔ ایسے ماحول میں عدالت ہی وہ واحد ادارہ رہ جاتی ہے جس سے مظلوم طبقے انصاف اور تحفظ کی امید باندھتے ہیں۔ اگر اسی ادارے سے مذہبی جھکاؤ یا جانبداری کا تاثر ملنے لگے تو یہ آئینی جمہوریت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے، محسوس بھی ہونا چاہیے۔

عدالتی روایت ہمیشہ سے اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ جج نہ صرف غیر جانب دار ہو بلکہ اس کی گفتار، طرزِ عمل اور عوامی موجودگی سے بھی غیر جانب داری جھلکتی ہو۔ اسی اصول کے تحت ماضی میں سپریم کورٹ اور مختلف ہائی کورٹس نے ججوں کے سیاسی تبصروں، نظریاتی اظہار اور مذہبی نوعیت کے عوامی بیانات کے حوالے سے احتیاط کو لازمی قرار دیا ہے۔ جج کے الفاظ عام شہری کے الفاظ نہیں ہوتے، وہ پورے عدالتی نظام کی نمائندگی کرتے ہیں، اس لیے ان کی ذمہ داری دوہری ہوتی ہے—قانونی بھی اور اخلاقی بھی۔

یہ معاملہ کسی ایک بیان یا ایک جج تک محدود نہیں۔ یہ اس بنیادی سوال سے جڑا ہے کہ ہم اپنے عدالتی نظام کو کس سمت میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ کیا عدالتیں محض قانونی تنازعات سلجھانے کا ادارہ بن کر رہ جائیں گی یا وہ واقعی آئینی قدروں کی محافظ بنیں گی؟ ضرورت اس بات کی ہے کہ عدالتی ادارے اپنے اخلاقی معیارات کو مزید واضح کریں، ججوں کے عوامی بیانات کے لیے مضبوط روایت اور حد بندی قائم رکھیں، اور عدالتی تربیت میں سیکولرازم کو محض ایک اصطلاح نہیں بلکہ ایک عملی قدر کے طور پر شامل کیا جائے۔

آخرکار، اگر واقعی کسی جج کے دل میں کوئی “دھرم” ہونا چاہیے تو وہ انصاف سے غیر مشروط وابستگی کا دھرم ہو۔ ایسا دھرم جو ثبوت پر یقین رکھے، دلیل کو جذبات پر فوقیت دے اور ہر شہری کو بلا تفریق برابر سمجھے۔ یہی آئین کی روح ہے اور یہی جمہوری ہندوستان کی بنیاد۔

haleemmansoor@gmail.com

0/Post a Comment/Comments