چکمگلور ضلع میں مسلم مسائل پر تشویش
ضلعی مسلم کانفرنس کے ذریعے حکومت سے عملی اقدامات کا مطالبہ
چکمگلور یکم فروری (فیروز نشیمن، فرحت افزا)
چکمگلور ڈسٹرکٹ مسلم فیڈریشن (مسلم وکوٹہ سمیتی) کی جانب سے ہفتہ کے روز 31 جنوری کو جی۔ کے۔ پیالس فنکشن ہال میں ایک ضلعی سطح کی مسلم کانفرنس منعقد کی گئی۔ کانفرنس کا مقصد ضلع چکمگلور میں مسلمانوں کو درپیش مسائل، سرکاری سطح پر ہونے والی نظراندازی اور مسلم مفادات کے تحفظ کے لیے اجتماعی طور پر لائحۂ عمل طے کرنا تھا۔کانفرنس میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ضلع چکمگلور میں مسلمانوں کے ساتھ سوتیلا سلوک روا رکھا جا رہا ہے اور ہر معاملے میں انہیں نظرانداز کیا جا رہا ہے، جو انتہائی افسوسناک امر ہے۔ مقررین نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کے موقع پر کانگریس قائدین نے وعدہ کیا تھا کہ اقتدار میں آتے ہی مسلمانوں کے مسائل حل کیے جائیں گے، مگر ڈھائی سال گزرنے کے باوجود مسلمانوں کا کوئی بنیادی مسئلہ حل نہیں ہو سکا۔اسی پس منظر میں مسلم وکوٹہ سمیتی کی جانب سے یہ کنونشن منعقد کیا گیا تاکہ ضلع بھر کے مسلمان متحد ہو کر حکومت کی توجہ اپنے مسائل کی جانب مبذول کرا سکیں۔کانفرنس میں ضلع بھر سے مسلم کمیونٹی کے قائدین، مختلف تنظیموں اور اداروں کے عہدیداران نے شرکت کی۔ نمایاں شرکاء میں کانگریس لیڈر سی۔ این۔ اکمل، سابق چیئرمین سی۔ ڈی۔ اے عتیق قیصر، سابق صدر انجمن اسلامیہ نذیر احمد کالوبا، ٹی۔ ایم۔ ناصر اپھلا، سابق میونسپل پریسیڈنٹ محمد اکبر، نثار احمد، اکرم موڈگیرہ، کے۔ محمد (سابق صدر ضلع پریشد)، سمیع اللہ شریف تریکیرہ، عباس کرگوندہ اور دیگر ذمہ داران شامل تھے۔جلسے کا آغاز مولانا مولوی اورنگزیب عالمگیر رشادی، خطیب و امام مسجد اکبری کی تلاوتِ کلامِ الٰہی سے ہوا۔ اس کے بعد مہمانوں کا استقبال سابق میونسپل کونسلر بدرالدین نے کیا، جنہوں نے نظامت کے فرائض بھی انجام دیے۔سی۔ این۔ اکمل اور عتیق قیصر نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج فرقہ پرست طاقتیں مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، حالانکہ یہی طاقتیں ملک کی آزادی کی جدوجہد میں شریک نہیں تھیں بلکہ انگریزوں کا ساتھ دے رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں نے ملک کی آزادی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں، جس کا ثبوت دہلی کے انڈیا گیٹ پر درج ہزاروں مسلم شہداء کے نام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو فرقہ پرست طاقتوں سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔سابق میونسپل پریسیڈنٹ محمد اکبر نے کہا کہ ریاست کرناٹک میں کانگریس حکومت کی تشکیل میں مسلمانوں نے تن، من اور دھن سے حصہ لیا، مگر حکومت بننے کے ڈھائی سال بعد بھی مسلمانوں کے مسائل پر توجہ نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کی طرف توجہ دے تاکہ مسلم طبقہ مایوسی کا شکار نہ ہو۔تریکیرہ سے تشریف لائے سمیع اللہ شریف نے کہا کہ کانگریس حکومت میں مسلمانوں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے اور انہیں کوئی بااثر عہدے نہیں دیے جا رہے، حالانکہ انتخابات میں مسلمانوں نے قیمتی ووٹ دے کر حکومت کو کامیاب بنایا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں کو سیاسی شعور کے ساتھ ساتھ تعلیم کے میدان میں بھی آگے بڑھنا بے حد ضروری ہے۔کانفرنس میں مولانا اورنگزیب عالمگیر رشادی، نثار احمد، نذیر احمد کالوبا، عباس کرگوندہ، محمد ابراہیم (سی۔ نیوز)، ٹی۔ ایم۔ ناصر، اکرم موڈگیرہ اور کے۔ محمد نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔آخر میں تمام شرکاء اور سامعین کا شکریہ بدرالدین نے ادا کیا۔ منتظمین کی جانب سے بہترین ضیافت کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔
Post a Comment