محکمۂ آبکاری میں رشوت، آڈیوز اور تبادلوں کا الزام
قائدِ حزبِ اختلاف آر۔ اشوک کا وزیر آر۔بی۔ تماپور سے استعفیٰ کا مطالبہ
بنگلورو، 3 فروری (حقیقت ٹائمز)
کرناٹک اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف آر۔ اشوک نے ریاست کے محکمۂ آبکاری میں وسیع پیمانے پر رشوت، لائسنس کی منظوری اور تبادلوں میں بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے آبکاری کے وزیر آر۔بی۔ تماپور سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے آر۔اشوک نے کہا کہ محکمۂ آبکاری ریاست کا سب سے زیادہ بدعنوانی میں ملوث سرکاری محکمہ بن چکا ہے، جہاں لائسنس کے اجرا سے لے کر افسران کے تبادلوں تک ہر مرحلے پر رشوت کی باقاعدہ شرح طے ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس سلسلے میں متعلقہ افسران کے درمیان ہونے والی گفتگو کی آڈیوز منظر عام پر آ چکی ہیں اور لوک آیکتہ میں باضابطہ شکایات بھی درج کی گئی ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کے بعض پروگراموں کے موقع پر شراب کی فروخت بڑھانے کے لیے سرکاری افسران کے ذریعے شراب فروشوں کو اسٹاک جمع رکھنے کی ہدایات دی گئیں، جو عوامی مفاد کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ حساسیت کی بات کرتے ہیں، مگر عملی طور پر شراب نوشی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔آر۔اشوک نے دعویٰ کیا کہ محکمۂ آبکاری میں ہر دکان سے ماہانہ 15 سے 20 ہزار روپے کی رشوت وصول کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں ماہانہ تقریباً 21 کروڑ اور سالانہ 252 کروڑ روپے کی غیر قانونی آمدنی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں 14 ہزار سے زائد شراب فروخت کرنے والے ادارے موجود ہیں، مگر اس کے مقابلے میں بنیادی صحت مراکز کی تعداد کہیں کم ہے۔انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مختلف عہدوں پر تبادلوں کے لیے کروڑوں روپے وصول کیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق، ڈپٹی کمشنر کے تبادلے کے لیے 2.5 سے 3.5 کروڑ، سپرنٹنڈنٹ کے لیے 25 سے 30 لاکھ، انسپکٹر کے لیے 40 سے 50 لاکھ اور کانسٹیبل کے لیے 5 سے 8 لاکھ روپے تک کی رقم طے ہے۔قائدِ حزبِ اختلاف کے مطابق، ایک آڈیو میں جائنٹ کمشنر ناگراجپا اور ایک وکیل کے درمیان 18 لاکھ روپے کے لین دین کی بات سامنے آئی ہے، جس میں مبینہ طور پر وزیر تماپور اور ان کے بیٹے کا بھی حوالہ موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان آڈیوز کو فارنسک جانچ کے لیے بھیجنے کے بجائے افسران کو بچانے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ بعض افسران سیاسی وابستگی اور ذات پات کی بنیاد پر رشوت کی رقم کم یا زیادہ کرنے کے مشورے دیتے رہے، جو انتظامیہ کی سنگین زبوں حالی کی علامت ہے۔آر۔اشوک نے کہا کہ سابق بی جے پی حکومت کے دوران جب وزراء پر اسی نوعیت کے الزامات عائد ہوئے تو ان سے استعفیٰ لیا گیا، لیکن موجودہ حکومت میں اتنے الزامات اور شواہد کے باوجود وزیر تماپور اپنے عہدے پر برقرار ہیں۔اسمبلی اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے آر۔اشوک نے وزیر اعلیٰ سدارامیا کی جانب سے مرکزی حکومت کے خلاف پیش کی گئی قرارداد کو غیر آئینی اور قواعد کے خلاف قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ قواعد کے مطابق ایسی قرارداد پیش کرنے سے قبل سات دن کا نوٹس دینا لازم ہے، جو نہیں دیا گیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ یہ قرارداد دراصل اسمبلی کی نہیں بلکہ کانگریس اور اس کی قیادت کی سیاسی سوچ کی عکاس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت پر الزام تراشی کر کے آبکاری گھوٹالے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔آر۔اشوک نے واضح کیا کہ ان الزامات کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی اور ذمہ داروں کو بے نقاب کر کے عوام کے سامنے لایا جائے گا۔
Post a Comment