Naseer Hussain Raises Issue of Pending Central Dues in Rajya Sabha ناصر حسین کا راجیہ سبھا میں مطالبہ: واجب رقوم فوری جاری کی جائیں

مرکزی واجبات کی عدم ادائیگی سے دیہی نظام مفلوج

گرام پنچایتوں کے آئینی فنڈز روکے جانے پر ناصر حسین کی راجیہ سبھا میں آواز

نئی دہلی، 4 فروری (حقیقت ٹائمز)

کانگریس کے رکنِ راجیہ سبھا ناصر حسین نے راجیہ سبھا میں صفر ساعت کے دوران کرناٹک کی گرام پنچایتوں کو درپیش سنگین مالی بحران کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پندرہویں مالیاتی کمیشن کے تحت آئینی طور پر واجب مرکزی فنڈز جاری نہ کیے جانے کے سبب ریاست کی ہزاروں گرام پنچایتیں شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ناصر حسین کے مطابق تقریباً 6 ہزار گرام پنچایتوں کے لیے مختص 2133 کروڑ روپے سے زائد کی رقم اب تک زیر التوا ہے، جن میں 1092 کروڑ روپے کی پہلی قسط بھی شامل ہے، حالانکہ ریاستی حکومت کی جانب سے تمام ضروری رسمی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ فنڈز کی طویل تاخیر کے باعث صفائی ملازمین، مقامی انتظامی عملہ اور دیگر ضروری عملے کی تنخواہیں ادا نہیں ہو پا رہی ہیں، جبکہ پینے کے پانی کی فراہمی، نکاسیٔ آب، صفائی اور اسٹریٹ لائٹس جیسی بنیادی خدمات بھی متاثر ہوئی ہیں۔ کئی گرام پنچایتیں اس حد تک مالی بحران میں مبتلا ہیں کہ روزمرہ کے بنیادی اخراجات پورے کرنا بھی ممکن نہیں رہا۔

ڈاکٹر ناصر حسین نے مزید بتایا کہ منریگا کے تحت 1066 کروڑ روپے اور جل جیون مشن کے تحت 6976 کروڑ روپے بھی اب تک جاری نہیں کیے گئے، جس کے بعد مجموعی بقایا رقم 10 ہزار 175 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ڈاکٹر ناصر حسین نے اس بات پر زور دیا کہ گرام پنچایتیں آئینِ ہند کے حصہ نہم  کے تحت آئینی ادارے ہیں، اور انہیں مالی اختیارات و وسائل کی فراہمی مرکز اور ریاست کے درمیان اشتراکی وفاقیت کا بنیادی تقاضا ہے۔انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام زیر التوا رقوم فوری طور پر جاری کی جائیں اور ایک واضح ٹائم لائن کا اعلان کیا جائے، تاکہ گرام پنچایتیں اپنی آئینی ذمہ داریاں بلا تعطل انجام دے سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامی تاخیر کی قیمت کرناٹک کے عوام کو ادا نہیں کرنی چاہیے۔

0/Post a Comment/Comments