تاریخ کے جھروکوں سے میسور کی داستان
ریاستی تشکیل، علاقائی توسیع اور تاریخی ارتقا کا جائزہ
از : صدیق آلدوری
قسط 1
تایخ اور میسور ریاست گزیٹیر کے مطابق میسور کو ایک ریاست کا درجہ1799 میں دیا گیا شیر میسور ٹیپو سلطان کی حکومت کے خاتمہ کے بعد1881 میں میسور ریاست میں صرف 7 اضلاع ہی بناۓ گۓ تھے۔جن کے نام تھے بنگلور، میسور،کولار، کڈور، ٹمکور، چتردرگہ اور شیموگہ۔1986 میں ریاست کے آٹھویں ضلع کے طور پر درجہ بندی کی گئ۔اس ضلع میں 7 تعلقہ جات بنائے گئے تھے۔1939 میں سات تعلقہ جات کو جوڑ کر بنایا گیا۔
1950 میں مدراس اور میسور ریاست کے کئ علاقوں کی تازہ حدبندی کی جانے کے نتیجہ میں میسور ریاست کے رقبہ میں اضافہ ہوا۔جس کے نتیجہ میں میسور ریاست کا رقبہ 29458 میل سے بڑھ کر 29489 میل ہوگیا۔اکتوبر 1953 میں مدراس ریاست میں شامل بلاری ضلع کے بہت سارے تعلقہ جات کو میسور ریاست میں شامل کرلینے کے نتیجہ میں ریاست کے رقبہ میں9897 کلو میٹر یا 3821 کلومیٹر کا اضافہ ہو گیا۔
1956 کے اسٹیٹس ری آرگنائزیشن ایکٹ کے نتیجہ میں 1956 تک جو علاقے میسور ریاست میں تھے بلاری ضلع کے تمام تعلقہ جات سمیت بلگام ضلع کے چاند گڑھ تعلقہ کو چھوڑ کر اس ضلع کے دیگر تمام تعلقہ جات کو میسور ریاست میں شامل کرلیا گیا۔ ساتھ ہی بیجاپور، دھارواڑ، اور دکشنا کنڑا ضلع کو میسور ریاست میں شامل کرلیا گیا۔ گلبرگہ ضلع کے کوڈگنال اور تانڈور کو چھوڑ کر بقیہ تمام تعلقہ جات رائچور تعلقہ کے عالم پور اور گڈوال تعلقہ کو چھوڑ کر ضلع کے دیگر تعلقہ جات بیدر ضلع کے احمدپور، نلنگا اور اڈگیر تعلقہ کو چھوڑ کر بقیہ تعلقہ جات،بیدر ضلع کےاحمد پور، نلنگا اور اڈگیر تعلقہ کو چھوڑ کر بقیہ تعلقہ جات کو میسور ریاست میں شامل کیا گیا۔جنوبی کینرا ضلع میں سوائے کاسر گوڈ تعلقہ اور جزیرہ امین دیوی کے بقیہ تعلقہ جات میسور ریاست میں شامل کرلئے گئے۔ساتھ ہی کورگ جو پہلے ایک آزاد اور الگ علاقہ تھا اسے بھی میسور ریاست میں شامل کرکے الگ ضلع کا درجہ دیا گیا1951 کے بعد دوبارہ 1961 اور 1971 کے درمیان پھر کوئ توسیع نہیں ہوئ البتہ 1971 میں کولار ضلع کےباگےپلی تعلقہ کے ابکاویری پالیہ کا ایک چھوٹا سا حصہ آندھرا پردیش کے علاقہ کو دے دیا گیا۔
جاری
Post a Comment