اقلیتوں کی ترقیاتی اسکیمیں اور زمینی حقیقت
مؤثر نفاذ کے لیے افسران کی دیانتداری فیصلہ کن
از : شبیر احمد
ریاست میں اقلیتی برادریوں کی ہمہ جہت ترقی کو مقصد بنا کر وزیر اعلیٰ سدارامیا کی قیادت میں ریاستی حکومت نے کئی عوام دوست اور فلاحی منصوبے نافذ کیے ہیں۔ تعلیم، معاشی خود کفالت، سماجی بہبود اور ثقافتی ترقی کے شعبوں کو ترجیح دیتے ہوئے حکومت نے ایسے پروگرام مرتب کیے ہیں جن کا مقصد اقلیتوں کے معیارِ زندگی میں بہتری لانا ہے۔ اگرچہ ان منصوبوں نے اقلیتی طبقوں میں امید کی ایک نئی کرن پیدا کی ہے، لیکن ان کا حقیقی فائدہ مستحقین تک پہنچنے کے لیے نفاذ کے مرحلے میں سرکاری افسران کی دیانتداری اور سنجیدگی نہایت ضروری ہے۔
حکومت کی جانب سے تیار کردہ منصوبے خواہ کتنے ہی جامع کیوں نہ ہوں، اگر وہ صرف کاغذات تک محدود رہ جائیں تو ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ منصوبوں کے اصل مقاصد اسی وقت پورے ہوتے ہیں جب وہ زمینی سطح پر مؤثر طریقے سے نافذ ہوں۔ اس تناظر میں افسران کی جواب دہی، وابستگی اور شفاف طرزِ عمل نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ نفاذ کے عمل میں لاپروائی، تاخیر یا بے توجہی کا خمیازہ براہِ راست اقلیتی برادریوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔
تعلیم کے شعبے میں ریاستی حکومت نے اقلیتی طلبہ کے لیے کئی اہم اسکیمیں متعارف کروائی ہیں۔ ان میں وظائف، مولانا آزاد ماڈل اسکول، پی یو سی کالج، ایل کے جی اسکول، طلبہ و طالبات کے لیے ہاسٹلس، رہائشی اسکول، پیشہ ورانہ اور اعلیٰ تعلیم کے لیے امداد، مسابقتی امتحانات کی تربیت، بیرونِ ملک تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کے لیے قرض سہولتیں شامل ہیں۔ ان تمام منصوبوں کا مقصد اقلیتی طلبہ کو تعلیم کے میدان میں مساوی مواقع فراہم کرنا ہے۔
معاشی خود کفالت کے تحت خود روزگار اسکیمیں، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے قیام کے لیے سبسڈی، ہنرمندی کی ترقی اور پیشہ ورانہ تربیتی پروگرام نافذ کیے گئے ہیں۔ اسی طرح سماجی شعبے میں سادہ شادی اسکیم، رہائشی منصوبے اور اقلیتی بستیوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے گرانٹس دی جا رہی ہیں۔ ان منصوبوں کا مقصد محض مالی امداد فراہم کرنا نہیں بلکہ مستفیدین کو خود مختار بنانا ہے۔
تاہم زمینی سطح پر ان منصوبوں کے نفاذ کے تعلق سے عوام میں ملے جلے تاثرات پائے جا رہے ہیں۔ کچھ علاقوں میں منصوبے مؤثر انداز میں نافذ ہو رہے ہیں اور مستحقین کو براہِ راست فائدہ مل رہا ہے، جبکہ کئی مقامات پر افسران کی لاپروائی، تاخیر اور رسمی کارروائیوں پر ناراضگی ظاہر کی جا رہی ہے۔ منصوبوں سے متعلق مناسب معلومات اور تشہیر کے فقدان کے باعث کئی اہل افراد سہولتوں سے محروم رہ جانے کی شکایت کر رہے ہیں۔
ترقیاتی کاموں کے معیار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اقلیتی بستیوں میں سڑکوں، پینے کے پانی، نکاسیٔ آب اور بجلی کے کاموں میں بعض مقامات پر معیار برقرار نہ رکھنے کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ کئی منصوبوں میں لاگت اور تفصیلات پر مشتمل نام پٹ لگائے بغیر ہی کام مکمل کیے جا رہے ہیں، جس سے شفافیت متاثر ہو رہی ہے۔ بعض علاقوں میں محض خانہ پری کے طور پر کام مکمل کر کے فنڈز کے استعمال کی باتیں بھی عوامی حلقوں میں گردش کر رہی ہیں، جو حکومت کے عزائم پر عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچا رہی ہیں۔
درحقیقت کسی بھی ترقیاتی منصوبے کی کامیابی کا فیصلہ نفاذ کے مرحلے میں ہی ہوتا ہے۔ اگر افسران دیانتداری، شفافیت اور عوام دوستی کے جذبے کے ساتھ کام کریں تو ہی حکومتی منصوبے اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔ منصوبوں کے بارے میں مکمل معلومات کی فراہمی اور اہل مستحقین تک بروقت سہولتوں کی ترسیل سے اقلیتی برادریوں میں حکومت کے تئیں اعتماد مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ افسران محض دفتری سطح تک محدود نہ رہیں بلکہ زمینی سطح پر اتر کر جائزہ لیں۔ نگرانی کے نظام کو مضبوط بنایا جائے اور ترقیاتی کاموں کے معیار و پیش رفت کا باقاعدہ معائنہ کیا جائے۔ جہاں بھی کوتاہیاں یا خامیاں نظر آئیں، وہاں فوری اصلاحی اقدامات کیے جائیں۔
مجموعی طور پر اقلیتوں کی ترقی کے لیے حکومت کی جانب سے اعلان کردہ منصوبے پسماندہ طبقات کے لیے امید کی ایک روشن کرن ہیں، مگر اس امید کو حقیقی ترقی میں بدلنے کے لیے افسران کی ایماندار اور مخلصانہ خدمات ناگزیر ہیں۔ اگر افسران اپنی ذمہ داریوں کو پوری دیانت اور سنجیدگی سے نبھائیں تو یہ منصوبے اقلیتی برادریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں مؤثر ثابت ہوں گے۔
Post a Comment