کینسر سے خوف نہیں، شعور سے نجات ممکن
قدوائی اسپتال کی بیداری ریلی میں اُما شری کا اہم پیغام
بنگلورو، 4 فروری (حقیقت ٹائمز)
عوام میں کینسر کے متعلق شعور بیدار کرنے کے لیے نکالی جانے والی بیداری ریلیوں کو تمام ارکانِ اسمبلی کی سرپرستی اور تعاون حاصل ہونا چاہیے۔ یہ بات قانون ساز کونسل کی رکن اُما شری نے کہی۔وہ بدھ کے روز عالمی یومِ کینسر کے موقع پر بنگلورو میں قدوائی میموریل انسٹی ٹیوٹ آف آنکولوجی کی جانب سے منعقدہ کینسر بیداری ریلی کو ہری جھنڈی دکھا کر خطاب کر رہی تھیں۔اُما شری نے کہا کہ ہر سال عالمی سطح پر یومِ کینسر منایا جاتا ہے اور اس موذی مرض کے خاتمے کے لیے حکومت کے ساتھ ساتھ مختلف سماجی تنظیمیں بھی قابلِ قدر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ارکانِ اسمبلی اپنے اپنے حلقوں میں اس نوعیت کی بیداری ریلیاں منعقد کریں تو عوام میں شعور مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔انہوں نے تجویز پیش کی کہ عام خون کے ٹیسٹ کے پیکیج میں کینسر کی ابتدائی تشخیص سے متعلق عناصر کو شامل کیا جانا چاہیے۔

جس طرح دیگر بیماریوں کے لیے خون کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں، اسی طرح اگر کینسر کی نشاندہی کے نکات شامل کر دیے جائیں تو مرض کی بروقت تشخیص ممکن ہو سکتی ہے، جس سے فوری علاج شروع کیا جا سکتا ہے۔اُما شری نے صحت مند غذا، باقاعدہ ورزش اور ہر سال ازخود طبی جانچ (ہیلتھ چیک اپ) کروانے پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا کہ قدوائی اسپتال برسوں سے عوام میں مسلسل کینسر کے خلاف بیداری پیدا کر رہا ہے اور یہ ملک کے بہترین سرکاری کینسر اسپتالوں میں شمار ہوتا ہے، جو بالخصوص غریب مریضوں کے لیے امید کی کرن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بیدر، ہبلی، میسورو اور ٹمکورو سمیت مختلف علاقوں میں پیری فیرل کینسر یونٹس قائم کر کے اس ادارے کی خدمات کو پورے کرناٹک میں وسعت دی جا رہی ہے۔اُما شری نے قدوائی اسپتال کے ڈاکٹروں کی انسانی ہمدردی پر مبنی خدمات کی بھی ستائش کی۔کینسر بیداری ریلی میں ایک ہزار سے زائد نرسنگ کالج کے طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ اس موقع پر نرسنگ کونسل کے رجسٹرار کے۔ ملو، ڈاکٹروں میں ڈاکٹر سریش بابو، ڈاکٹر مہانتیش، ڈاکٹر وجے، ڈاکٹر ارون کمار سمیت دیگر معززین بھی موجود تھے۔قدوائی میموریل انسٹی ٹیوٹ آف آنکولوجی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ٹی۔ نوین نے کہا کہ ادارے کی جانب سے کینسر کی جانچ اور بیداری سے متعلق مختلف پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام میں شعور پیدا کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ اسپتال میں مریضوں کو عالمی معیار کی طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور علاج کے ساتھ ساتھ مریضوں کی دیکھ بھال میں بھی یہ ادارہ صفِ اوّل میں شامل ہے۔ڈاکٹر نوین نے کہا کہ کینسر کے بارے میں خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں، اگر ابتدائی مرحلے میں طبی جانچ کروا لی جائے تو اس مرض سے نجات ممکن ہے۔ اسپتال میں جدید سہولیات کے ذریعے کینسر کے مریضوں کو مؤثر علاج فراہم کیا جا رہا ہے، اور بروقت تشخیص کی صورت میں مریض جلد صحت یاب ہو سکتے ہیں۔رمیش بھٹ، کنڑ فلمی اداکار نے کہا کہ “کینسر کو عام لوگ ایک مہنگی بیماری سمجھتے ہیں، اس لیے اس کے بارے میں عوامی بیداری نہایت ضروری ہے۔ قدوائی اسپتال ایک سرکاری ادارہ ہونے کے باوجود کارپوریٹ اسپتالوں سے بھی آگے بڑھ چکا ہے۔ یہاں علاج کے لیے آنے والے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کینسر کے مریضوں کو بہترین علاج فراہم کرنے والے قدوائی اسپتال کے ڈاکٹروں، نرسوں اور عملے کی خدمات قابلِ ستائش ہیں۔”
Post a Comment