منریگا کی اصل شکل میں بحالی کا مطالبہ
کرناٹک اسمبلی میں مرکز کے نئے دیہی روزگار قانون کے خلاف متفقہ قرارداد
بنگلورو، 3 فروری (حقیقت ٹائمز)
کرناٹک قانون ساز اسمبلی میں منگل کے روز ایک اہم قرارداد منظور کی گئی، جس میں مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ’’وکست بھارت گارنٹی فار روزگار اینڈ آجیویکا مشن (دیہی)‘‘ یعنی وی بی جی رام جی قانون کو فوری طور پر منسوخ کرے اور اس کی جگہ مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) کو اس کی اصل شکل میں بحال کرے۔اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ منریگا قانون، جو 2005 میں سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت میں نافذ کیا گیا تھا، دیہی غریبوں کے لیے معاشی تحفظ، روزگار کے حق، ہجرت کی روک تھام، صنفی مساوات اور پنچایتی راج نظام کو مضبوط بنانے میں ایک سنگِ میل ثابت ہوا تھا۔قرارداد میں الزام عائد کیا گیا کہ مرکزی حکومت نے ریاستوں سے مشاورت کے بغیر یکطرفہ طور پر وی بی جی رام جی قانون نافذ کیا ہے، جو نہ صرف وفاقی ڈھانچے کے منافی ہے بلکہ دیہی عوام کے روزگار اور زندگی کے بنیادی حق کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اسمبلی کے مطابق نیا قانون آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت حاصل حقِ زندگی اور روزگار سے متصادم ہے، جبکہ 73ویں آئینی ترمیم کے ذریعے گرام پنچایتوں کو دیے گئے اختیارات کو بھی محدود کرتا ہے۔قرارداد میں نشاندہی کی گئی کہ منریگا کے تحت 100 دن کی مزدوری کا مکمل خرچ مرکز برداشت کرتا تھا، لیکن نئے قانون میں ریاستوں پر 40 فیصد مالی بوجھ ڈال دیا گیا ہے، جس سے ریاستی خزانے پر شدید دباؤ پڑے گا۔ اسمبلی کے مطابق اگرچہ نئے قانون میں 125 دن کے کام کی بات کی گئی ہے، مگر حقیقت میں اس کا بڑا مالی بوجھ ریاستوں کو اٹھانا ہوگا۔ایوان کو بتایا گیا کہ کرناٹک ملک کی اُن ریاستوں میں شامل ہے جو سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرتی ہیں اور پنچایتی سطح پر سب سے مؤثر مالی نظم و نسق رکھتی ہیں، اس کے باوجود مختلف مالیاتی کمیشنوں میں ریاست کے حصے میں کمی کی گئی ہے۔ ایسے حالات میں مرکز کی جانب سے اضافی مالی ذمہ داری عائد کرنا ریاست کی معاشی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ منریگا کے تحت مقامی ضروریات کے مطابق دیہی اثاثے تعمیر کیے جاتے تھے، جیسے کھیتوں تک راستے، مویشی باڑے، اسکول کمپاؤنڈ، پنچایت عمارتیں اور کھیل کے میدان، جبکہ نئے قانون کو ’’پی ایم گتی شکتی‘‘ منصوبے سے جوڑ کر بڑی سڑکوں اور ہائی ویز تک محدود کر دیا گیا ہے، جس سے بالواسطہ طور پر ٹھیکیداروں اور کارپوریٹ اداروں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔اسمبلی نے خدشہ ظاہر کیا کہ نئے قانون میں کام کے دن کم، اجرت کی کوئی واضح ضمانت نہیں، اور تمام گرام پنچایتوں کو شامل کیے جانے کی بھی یقین دہانی نہیں دی گئی، جس سے خاص طور پر خواتین، درج فہرست ذات و قبائل، قبائلی طبقات اور غریب کسانوں کے حقوق متاثر ہوں گے۔ان تمام نکات کی بنیاد پر کرناٹک اسمبلی نے متفقہ طور پر قرارداد منظور کرتے ہوئے مرکز سے مطالبہ کیا کہ وی بی جی رام جی قانون کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور منریگا کو اس کی اصل روح اور ساخت کے ساتھ بحال کیا جائے۔ ایوان نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ یہ قرارداد مرکزی حکومت اور عزت مآب صدرِ جمہوریہ ہند کو ارسال کی جائے۔
Post a Comment