حج 2026 کے لیے طبی فٹنس لازمی قرار
سرکاری جانچ کے بغیر نہ ویکسین، نہ سفر کی اجازت
بنگلورو / ممبئی 4 فروری (حقیقت ٹائمز)
حج 2026 کے لیے منتخب ہونے والے تمام عازمینِ حج کے لیے طبی جانچ اور فٹ قرار دیا جانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ حج کمیٹی آف انڈیا کے سرکیولر کے مطابق ہر عازم کو صرف سرکاری ایلوپیتھک ڈاکٹر سے مکمل طبی معائنہ کروانا ہوگا، اور فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر نہ حج ویکسین دی جائے گی اور نہ ہی سفر کی اجازت ہوگی۔حج جیسے عظیم الشان اور کٹھن فریضے میں عازمین کو روزانہ کئی کلومیٹر پیدل چلنا ہوتا ہے ، شدید گرمی اور غیر معمولی جسمانی مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،انتہائی اژدہام میں طویل وقت گزارنا ہوتا ہے، ایسے میں صرف وہی افراد حج کے لیے اہل تصور کیے جائیں گے جو جسمانی اور ذہنی طور پر مکمل طور پر صحت مند اور مستحکم ہوں۔

طبی رہنما خطوط کے مطابق وہ عازمین عموماً فٹ سمجھے جائیں گے جو بغیر کسی سہارے کم از کم 500 میٹر پیدل چل سکتے ہوں ،نہانے، لباس پہننے اور دیگر روزمرہ امور خود انجام دے سکتے ہوں ، بلڈ پریشر، شوگر اور دمہ جیسے امراض قابو میں ہوں ، کسی سنگین یا غیر مستحکم بیماری میں مبتلا نہ ہوں ،ذہنی طور پر ہوشیار اور مستحکم ہوں۔درج ذیل صورتوں میں عازمین کو حج کے لیے نااہل قرار دیا جائے گا جن میں جسمانی و ذہنی مسائل ،خود سے چلنے پھرنے سے قاصر افراد ،روزمرہ کاموں کے لیے دوسروں پر انحصار ،شدید یادداشت کی بیماری یا ڈیمنشیا ،اہم اعضا کی سنگین بیماریاں ،شدید دل کی ناکامی (آرام کی حالت میں بھی سانس کی تکلیف) ،آکسیجن پر منحصر پھیپھڑوں کی بیماری ،گردوں کی شدید خرابی (ڈائلیسس پر موجود مریض) ،جگر کی سنگین بیماری ،متعدی امراض ،تپ دق (ٹی بی)،کوئی بھی ایسا متعدی مرض جو ہجوم میں دوسروں کے لیے خطرہ بن سکتا ہو، غیر قابو شدہ طبی حالتیں ، بے قابو بلڈ پریشر، شوگر یا دمہ ،کینسر کے وہ مریض جو کیموتھراپی یا ریڈی ایشن کے مراحل میں ہوں ،گزشتہ تین ماہ میں بڑی سرجری اور مکمل صحت یابی نہ ہوئی ہو ،غیر مستحکم ذہنی امراض ،خواتین عازمین کے لیے خصوصی ہدایات دی گئی ہیں ،حکام کے مطابق 28 ہفتوں سے زائد حمل یا ہائی رسک حمل کی صورت میں حج کی اجازت نہیں دی جائے گی ،ضرورت پڑنے پر حمل کا ٹیسٹ یا اسکین بھی کروایا جا سکتا ہے۔طبی جانچ سے متعلق اہم اُصولوں کے مطابق تمام طبی معائنے صرف سرکاری ڈاکٹروں اور سرکاری اسپتالوں سے ہوں گے ،خون کے ٹیسٹ، ایکس رے اور اسکین بھی سرکاری اداروں سے لازمی ،غلط یا جعلی طبی سرٹیفکیٹ دینا قابلِ سزا جرم ہوگا۔صرف وہی عازمین جنہیں طبی جانچ کے بعد فٹ قرار دیا جائے گا، انہیں حج ویکسین دی جائے گی۔عازمین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ صحت کارڈ پورے حج سفر کے دوران اپنے پاس رکھیں ،شوگر، بلڈ پریشر اور دیگر مستقل ادویات باقاعدگی سے استعمال کریں ،اپنی بیماری یا صحت سے متعلق تمام معلومات بغیر کسی پردہ پوشی کے ڈاکٹر کو بتائیں ۔حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ طبی جانچ عازمین کی حفاظت اور سہولت کے لیے ہے، نہ کہ کسی کو حج سے محروم کرنے کے لیے۔ تمام عازمین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مکمل تعاون کریں اور طبی ہدایات پر سختی سے عمل کریں تاکہ ان کی اپنی اور دیگر عازمین کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔
Post a Comment