بال مزدوری کے خلاف قانون سخت
خلاف ورزی پر 50 ہزار جرمانہ اور دو سال قید کی وارننگ
کلبرگی، 4 فروری (جی چندرکانتھ)
بچہ مزدوری (ممانعت و ضابطہ) قانون کے تحت 14 سال سے کم عمر بچوں کو کسی بھی قسم کی مزدوری پر رکھنا مکمل طور پر ممنوع ہے، جبکہ 15 سے 18 سال کی عمر کے بچوں سے خطرناک مقامات پر کام لینا قابلِ سزا جرم ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں 50 ہزار روپے تک جرمانہ اور دو سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ یہ بات سینئر سول جج اور ضلع لیگل سرویس اتھارٹی کے ممبر سکریٹری جسٹس سری نواس نولے نے کہی۔وہ کلبرگی میں ضلع انتظامیہ، ضلع لیگل سرویس اتھارٹی، محکمہ محنت، ضلع بال مزدوری پروجیکٹ سوسائٹی اور شریمتی ویرما گنگاشری خواتین کالج کے اشتراک سے منعقدہ کے تحت بال مزدوری اور نوعمر مزدوری (ممانعت و ضابطہ) قانون 1986 (ترمیم شدہ 2016) سے متعلق قانونی بیداری پروگرام کا افتتاح کر کے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ بات سامنے آئے کہ والدین خود اپنے بچوں کو مزدوری پر بھیج رہے ہیں تو ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ بچوں کا بچپن چھین لے۔ آئینِ ہند کے آرٹیکل 45 کے تحت 6 سے 14 سال کی عمر کے تمام بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم کا حق حاصل ہے۔ بچوں کی ذہنی، سماجی اور معاشی نشوونما کے لیے تعلیم نہایت ضروری ہے اور تعلیم ہی غربت کے خاتمے کا مؤثر ذریعہ ہے۔جسٹس سری نواس نولے نے کہا کہ بال مزدوری کے خاتمے میں عوام کا کردار نہایت اہم ہے۔ اگر کہیں بال مزدوری نظر آئے تو فوری طور پر چائلڈ ہیلپ لائن نمبر 1098 پر اطلاع دیں تاکہ متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔پروگرام کے آغاز میں ضلع سب ڈویژن لیبر آفیسر شرنپا آر ہوسمنی نے تمہیدی خطاب کیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ پولیس کمشنر شیوانا گوڑا نے کہا کہ بچوں سے کام لے کر ان کا بچپن تباہ نہ کیا جائے۔ اگر بچے تعلیم سے محروم رہے تو اس کا منفی اثر ملک کی معیشت پر بھی پڑے گا، اس لیے حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی مفت اور لازمی تعلیم سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔تقریب میں ضلع اطفال بہبود کمیٹی کے صدر وشوارادھیا ایجیری، ضلع خواتین و اطفال تحفظ افسر منجولا پاٹل، ایڈیشنل ایس پی مہیش میگھن ناور، اسسٹنٹ لیبر کمشنر محمد بشیر انصاری، شریمتی ویرما گنگاشری خواتین کالج کے پرنسپل ڈاکٹر آر بی کونڈا، بال مزدوری پروجیکٹ سوسائٹی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر سنتوش کلکرنی، اساتذہ اور بڑی تعداد میں طلبہ نے شرکت کی۔
Post a Comment