سولہویں کرناٹک اسمبلی کا نواں اجلاس اختتام پذیر
نو دنوں میں اہم قانون سازی اور طویل مباحث: اسپیکر یو ٹی قادر
بنگلورو، 4 فروری (حقیقت ٹائمز)
اسمبلی کے نویں اجلاس کی کارروائیاں بدھ کے روز اختتام پذیر ہو گئیں۔ اجلاس کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے اسپیکر کرناٹک اسمبلی یو۔ٹی۔قادر نے بتایا کہ یہ اجلاس 22 جنوری 2026 سے 4 فروری 2026 تک کل 9 دن جاری رہا، جس دوران ایوان نے 48 گھنٹے 53 منٹ تک مؤثر قانون ساز کارروائیاں انجام دیں۔اسپیکر نے کہا کہ اجلاس کے پہلے دن ریاستی گورنر نے قانون ساز اسمبلی اور قانون ساز کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔ گورنر کے خطبے پر پیش کیے گئے تشکری قرارداد پر 27 معزز اراکین نے حصہ لیا اور 15 گھنٹے 17 منٹ تک تفصیلی بحث ہوئی۔ یہ قرارداد 2 فروری کو رائے شماری کے بعد منظور کر لی گئی۔انہوں نے بتایا کہ اجلاس کے دوران حال ہی میں انتقال کر جانے والی اہم شخصیات کے لیے تعزیتی قراردادیں پیش کر کے منظور کی گئیں، جبکہ گورنر کی منظوری حاصل کرنے والے قوانین سے متعلق سکریٹریٹ کی رپورٹ بھی ایوان میں پیش کی گئی۔ یو ٹی قادر کے مطابق کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی جانب سے پیش کی گئی دو اہم آڈٹ رپورٹس ایوان میں رکھی گئیں، جن میں ایَتّنہولے جامع پینے کے پانی منصوبے کے نفاذ سے متعلق کارکردگی آڈٹ رپورٹ اور نیشنل اسمارٹ سٹی مشن سے متعلق آڈٹ رپورٹ شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ اجلاس کے دوران ضابطہ 69 کے تحت مختلف نوٹس پر بحث ہوئی، جبکہ مجموعی طور پر 799 سوالات موصول ہوئے، جن میں سے بیشتر کے جوابات تحریری اور زبانی طور پر فراہم کیے گئے۔ اس کے علاوہ توجہ دلاؤ نوٹس، استحقاق سے متعلق نوٹس اور صفر ساعت کے معاملات پر بھی گفتگو کی گئی۔اسپیکر نے بتایا کہ 3 فروری 2026 کو ایک اہم سرکاری قرارداد پیش کی گئی، جس میں مرکزی حکومت کے وی۔بی۔جی رام جی منصوبے کو منسوخ کرنے اور مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی اسکیم (منریگا) کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس قرارداد پر 17 اراکین نے 6 گھنٹے 46 منٹ تک بحث کی، جس کے بعد 4 فروری 2026 کو اسے منظور کر لیا گیا۔اجلاس کے اختتام پر اسپیکر یو ٹی قادر نے وزیر اعلیٰ، نائب وزیر اعلیٰ، کابینہ کے اراکین، اپوزیشن قائدین، تمام معزز اراکین، میڈیا نمائندوں، سرکاری افسران اور اسمبلی سیکریٹریٹ کے عملے کا تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ریاست کے عوام کو آنے والی مہاشیو راتری کے تہوار کی مبارکباد بھی پیش کی۔آخر میں قومی ترانے کے ساتھ ایوان کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔
Post a Comment