Karnataka Assembly Passes Resolution Against VB-Gram G Scheme سدارامیا کی پیش کردہ قرارداد پر مہر، اپوزیشن کا واک آؤٹ

وی بی-گرام جی کے خلاف اسمبلی کی واضح رائے

وزیرِ اعلیٰ سدارامیا کی قرارداد منظور، حزبِ اختلاف کا واک آؤٹ

بنگلور، 4 فروری (حقیقت ٹائمز) 

کرناٹک قانون ساز اسمبلی نے بدھ کی شام وزیرِ اعلیٰ سدارامیا کی جانب سے وی بی-گرام جی قانون کے خلاف پیش کی گئی قرارداد کو اکثریتِ رائے سے منظور کر لیا۔ قرارداد کی منظوری کے موقع پر حزبِ اختلاف نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔جب حزبِ اختلاف کے ارکان ایوان سے باہر چلے گئے تو وزیرِ اعلیٰ سدارامیا نے اسپیکر سے قرارداد کو منظوری کے لیے پیش کرنے کی درخواست کی۔ اس پر اسمبلی اسپیکر یو ٹی قادر نے قرارداد کو ووٹنگ کے لیے رکھا اور اکثریت میں حمایت ملنے پر اسے منظور شدہ قرار دیا۔ اس کے بعد اسپیکر نے ایوان کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔واضح رہے کہ پورے دن حزبِ اختلاف کی جانب سے محکمۂ ایکسائز میں مبینہ بدعنوانی کے معاملے پر متعلقہ وزیر کے استعفے کے مطالبے کو لے کر شدید احتجاج کیا گیا، جس کے باعث قرارداد پر بحث میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔

 اسپیکر کے مطابق اس قرارداد پر گزشتہ دو دنوں کے دوران 17 ارکان نے 6 گھنٹے 51 منٹ تک بحث کی۔قرارداد کی منظوری سے قبل نائب وزیرِ اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ منریگا کے تحت دیہی عوام کو وقار کے ساتھ روزگار حاصل کرنے کا موقع میسر تھا۔ اندرا گاندھی نے دیہی عوام کو اپنی ہی زمین پر کام کر کے خودداری کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق دیا تھا، لیکن مجوزہ وی بی-گرام جی منصوبے کے تحت لوگوں کو روزگار کے لیے ٹھیکیداروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت دیہی عوام کے روزگار کے حق کو سلب کر رہی ہے۔ایم ایل اے ایم روپکلا نے کہا کہ منریگا نے دیہی خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنایا، خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں تالابوں اور آبی ذخائر کی ترقی ممکن ہوئی۔ ان کے مطابق دیہی خواتین کے لیے منریگا ہی روزگار کا واحد سہارا تھا، جو وی بی-گرام جی کے نفاذ سے متاثر ہوگا۔ایم ایل اے بی آر پاٹل نے کہا کہ یہ قانون گاندھی جی کے تصورِ دیہی خود کفالت کے منافی ہے اور اس سے گرام پنچایتوں کے اختیارات کمزور ہو رہے ہیں۔اے ایس پوننّا نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ایسی اسکیم یا قانون کو، جو ریاستی حکومت پر مالی بوجھ ڈالے، ریاست سے مشاورت کے بغیر نافذ کرنا غیر آئینی ہے اور یہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے بھی خلاف ہے۔وزیر پریانک کھرگے نے کہا کہ منریگا نے دیہی علاقوں میں اثاثہ جاتی ترقی کے ساتھ ساتھ سماج کے آخری فرد کو روزگار کی ضمانت فراہم کی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بین الاقوامی لیبر تنظیموں نے بھی منریگا کی ستائش کی ہے اور خود وزیرِ اعظم نریندر مودی اور وزیرِ خزانہ نرملا سیتارامن نے عالمی فورمز پر اس منصوبے کے فوائد کا اعتراف کیا ہے۔ ایسے میں اس قانون میں ترمیم جمہوریت اور آئین دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

0/Post a Comment/Comments