Naseer Ahmad Clarifies, CT Ravi Refuses Apology; Karnataka Council Paralysed بی جے پی کی ہٹ دھرمی، نصیر احمد کا ذمہ دارانہ مؤقف
byHAQEEQAT TIMES (Administrator)-0
کرناٹک قانون ساز کونسل میں بی جے پی کی ہٹ دھرمی سے ایوان مفلوج
سی ٹی روی کے فرقہ وارانہ بیان پر معذرت سے انکار، کانگریس کا شدید احتجاج
بنگلورو، 3 فروری (حقیقت ٹائمز)
کرناٹک قانون ساز کونسل میں بی جے پی رکن سی ٹی روی کے متنازعہ اور فرقہ وارانہ بیان نے ایوان کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا ہے۔ روی نے ایک مخصوص مذہبی طبقے کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں دشمن ملک سے تشبیہ دی، لیکن معذرت خواہی سے قطعی انکار کر دیا، جس سے ایوان میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی۔واقعہ اس وقت پیش آیا جب کانگریس کے سینئر رہنما اور وزیراعلیٰ کے سیاسی مشیر نصیر احمد نے پیر کے روز گورنر کے خطاب تشکر پر بحث کے دوران وزیراعظم نریندر مودی سے متعلق ایک متنازعہ بیان دیا۔
نصیر احمد نے بعد میں اپنے بیان پر فوری طور پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ جذباتی کیفیت میں یہ بات کہہ گئے تھے۔لیکن بی جے پی رکن سی ٹی روی نے اس موقع کو فرقہ وارانہ سیاست کے لیے استعمال کرتے ہوئے ایک انتہائی نازیبا اور خطرناک بیان دیا۔ انہوں نے مخصوص مذہبی طبقے کو نشانہ بناتے ہوئے دشمن ملک سے موازنہ کیا اور مسلم منتخب نمائندوں کی حب الوطنی پر سوالیہ نشان لگایا۔سی ٹی روی کے اس فرقہ وارانہ بیان پر کانگریس کے سینئر رہنماؤں نے شدید احتجاج کیا۔ بی کے ہری پرساد، سلیم احمد، عبدالجبار اور بلقیس بانو کے علاوہ سینئر وزراء ایچ کے پاٹل، ایم بی پاٹل، رامالنگا ریڈی، سنتوش لاڈ اور بوس راج نے ایوان میں کھڑے ہو کر واضح الفاظ میں کہا کہ بی جے پی کا یہ رویہ آئین اور جمہوریت کی توہین ہے۔کانگریس رہنماؤں نے زور دیا کہ اس ملک میں پیدا ہونے والا ہر شخص، چاہے وہ کسی بھی مذہب یا طبقے سے تعلق رکھتا ہو، اس ملک کا مساوی شہری ہے اور اسے برابر کے آئینی حقوق حاصل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی مسلسل مخصوص طبقے اور اس کے منتخب نمائندوں کو نشانہ بنا کر ان کی حب الوطنی پر سوالات اٹھاتی ہے، جو کہ قطعی ناقابل قبول ہے۔ کانگریس نے سی ٹی روی سے فوری معذرت خواہی کا مطالبہ کیا، لیکن بی جے پی رکن نے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے سے قطعی انکار کر دی۔
سی ٹی روی نے بار بار کہا کہ ان کا ضمیر انہیں یہ نہیں کہتا کہ انہوں نے کوئی غلطی کی ہے، اس لیے وہ معذرت نہیں مانگیں گے۔حیران کن بات یہ ہے کہ بی جے پی قیادت نے نہ صرف روی کے فرقہ وارانہ بیان کی مذمت کرنے سے گریز کیا، بلکہ پارٹی نے اپنے رکن کی کھلی حمایت کی۔ بی جے پی اراکین نے اس پورے معاملے کو پلٹتے ہوئے نصیر احمد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ جاری رکھا، حالانکہ نصیر احمد پہلے ہی اپنے بیان پر افسوس کا اظہار کر چکے تھے۔منگل کی صبح جب ایوان کی کارروائی شروع ہوئی تو بی جے پی اراکین نے منظم انداز میں ایوان کے وسط میں آ کر شور شرابہ شروع کر دیا۔ انہوں نے نعرے بازی کرتے ہوئے نصیر احمد سے غیر مشروط معافی کا مطالبہ کیا۔چیئرمین بسوراج ہوراٹی نے بارہا اراکین سے نظم و ضبط برقرار رکھنے کی اپیل کی اور سی ٹی روی سے اپنا بیان واپس لینے کی درخواست کی، لیکن بی جے پی نے ایوان کی کارووائی کو یرغمال بنائے رکھا۔
کانگریس رہنماؤں نے بی جے پی پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب نصیر احمد نے جذباتی کیفیت میں ایک بیان دیا تو بی جے پی نے اسے قومی مسئلہ بنا دیا، لیکن جب ان کے اپنے رکن نے کھلے عام فرقہ وارانہ زبان استعمال کی اور ایک پورے مذہبی طبقے کی توہین کی تو پارٹی نے اس کا دفاع کیا۔ سلیم احمد نے ایوان میں کہا، "یہ صاف ظاہر ہے کہ بی جے پی کا مقصد ملک میں نفرت پھیلانا اور مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانا ہے۔ وہ ہمیں مسلسل یہ احساس دلانا چاہتے ہیں کہ ہم اس ملک کے نہیں ہیں، حالانکہ ہماری نسلیں صدیوں سے یہاں رہتی آئی ہیں۔"چیئرمین کی اپیل پر نصیر احمد نے دوبارہ ایوان میں موقف واضح کیا۔ انہوں نے کہا، "میں نے پہلے ہی کہا تھا اور دوبارہ کہتا ہوں کہ اگر میرے بیان سے کسی کو تکلیف پہنچی ہو تو میں شدید افسوس کا اظہار کرتا ہوں۔ میں اشتعال کی کیفیت میں یہ بات کہہ گیا تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب میں اپنی غلطی تسلیم کر رہا ہوں تو سی ٹی روی صاحب اپنے فرقہ وارانہ اور زہریلے بیان پر کیوں معذرت نہیں مانگ رہے؟"تاہم بی جے پی اراکین نے اس وضاحت کو بھی مسترد کرتے ہوئے ہنگامہ جاری رکھا۔اسپیکر نے متعدد بار دونوں جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ معاملہ ختم کریں اور ایوان کو کام کرنے دیں۔ انہوں نے خاص طور پر سی ٹی روی سے کہا کہ وہ اپنا بیان واپس لیں یا کم از کم اس کی وضاحت دیں، لیکن بی جے پی رکن نے ہر بار انکار کیا۔ایوان میں تلخ کلامی کا تبادلہ ہوتا رہا۔ چیئرمین نے واضح کیا کہ غیر پارلیمانی الفاظ ریکارڈ سے حذف کیے جائیں گے، لیکن بی جے پی کی طرف سے کوئی تعاون نہیں ملا۔آخرکار شدید شور شرابے اور بی جے پی و کانگریس کی جانب سے کسی بھی قسم کے سمجھوتے سے انکار کے بعد نائب چیئرمین پرانیش نے منگل کی شام ایوان کی کارروائی ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی جان بوجھ کر اس تنازعے کو طول دے رہی ہے تاکہ فرقہ وارانہ ماحول بنایا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب حقیقی مسائل جیسے بیروزگاری، مہنگائی اور ترقی پر بات ہو تو بی جے پی فرقہ وارانہ کارڈ کھیل کر عوام کی توجہ ہٹا دیتی ہے۔کانگریس نے صاف کر دیا ہے کہ وہ سی ٹی روی سے معذرت کے مطالبے پر ڈٹی رہے گی۔
Post a Comment