مسلمان ہونا کیا جرم ہوگیا؟ سیکن خان کا قتل اور شناخت کی سیاست کا سوال
راجستھان میں مسلم کسان کی ہلاکت نے مذہبی شناخت، نفرت اور شہری تحفظ پر نئی بحث چھیڑ دی
از : محمداعظم شاہد، بنگلور
ایک چالیس سالہ مسلم کسان سیکن خان 24 ستمبر2026 کی صبح اپنے گھر والوں سے یہ کہہ کر وداع ہوتا ہے کہ وہ اپنی موٹرسائیکل کیلئے نیا ٹائر خریدنے بازار جارہا ہے-راستے میں بروڈامیوپولیس اسٹیشن کے روبرو اس کو اس کی گاڑی سے گرا کر سرعام پتھر سے سر کچل کر قتل کردیا گیا-گھریلو ذرائع کے مطابق مہلوک سیکن خان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی- وہ سرپر ٹوپی اور چہرے پر داڑھی رکھتے تھے- محض اس وجہ سے کہ وہ اپنے لباس، داڑھی اور ٹوپی کے باعث مسلمان پہچانے گئے اور حملہ آور نے ان پر بے رحمانہ حملہ اور بہیمانہ طور پر قتل کردیا-یہ واقعہ دن دہاڑے پولیس اسٹیشن کے روبرو ہوا- کسی نے بھی مظلوم کو بچانے کیلئے کوئی کوشش نہیں کی،نہ پولیس کے عملہ نے اور نہ ہی راہگیروں نے-تین بچوں کا باپ سیکن خان راجستھان کے ضلع الور کے باراوس دیہات کا رہنے والا تھا- مہلوک کے خاندان والوں نے پولیس سے منصفانہ کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قتل مسلمانوں سے نفرت کے پس منظر میں ہوا ہے-مقامی پولیس نے اکیس سالہ حملہ آور مجرم ہرش کو حراست میں لیا ہے-پولیس نے اس نفرت انگیز قتل کو ابھی فرقہ وارانہ وجوہات سے نہیں جوڑا ہے- پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور کا دماغی توازن ٹھیک نہیں ہے -تفتیش جاری ہے- بے قصور سیکن خان پر جان لیوا حملہ اور بے دردی کے ساتھ قتل کیا جانا ، ملک میں عام شہریوں کیلئے بڑھتے عدم تحفظ اور انتظامیہ اور حکومت کی جانب سے بے توجہی کی سنگین صورتحال کا بولتا عکس ہے- ایسے درد ناک واقعات صرف ایک گھر والوں کی محرومی اور بربادی کی تصویر نہیں پیش کرتے بلکہ ملک میں مسلمانوں کے خلاف فرقہ پرستوں کی نفرت اور دشمنی کی جانب اشارہ کرتے ہیں-جہاں ہر شہری کیلئے بلاتفریق مذہب یکساں حقوق اور سماجی تحفظ Social Seurity کی ہم باتیں کرتے ہیں-وہیں اس طرح کی ہلاکتیں مذہبی نفرت Hate کے بڑھتے چلن کی موجودہ صورتحال پیش کرتے ہیں جو ملک کے تکثیریتی مزاج اور وراثت کیلئے بڑا چیلنج ہیں-
اس وحشت ناک قتل کے بعد راجستھان کے کانگریس لیڈران نے بھاجپا کی زیر قیادت ریاستی حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ لاقانونیت اور دہشت کیلئے یہاں کی بھاجپا حکومت کی نااہلی اور پولیس کی بے توجہی ذمہ دار ہے-دلی میں راجیہ سبھا رکن پون کھیڑا نے اس واقعہ پر کہا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے وزیراعظم مودی نے کھلے عام کہاتھاکہ ہم لباس سے پہچان لیں گے - یہی پہچان کی نفرت والی سیاست اپنا اثر دکھارہی ہے - مسلمانوں کو کئی غیرضروری سماجی وسیاسی مسائل میں الجھایا جاتا رہا ہے- ان (مسلمانوں) کے خلاف ہجومی تشدد ، کھانے پینے ، رہن سہن، لباس اور عقیدے پر بھی نفرت آمیز بیانات دئے جاتے رہے ہیں -ملک میں بسنے والے مسلمانوں کو’’غیر‘‘ کہاجاتا رہا ہے-نیوز پورٹل ’’دی وائر‘‘میں شائع شدہ رپورٹ میں اس واقعہ سے جڑے کئی پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے- اپوزیشن نے کہا ہے کہ ریاست میں حکمران بھاجپا پر یہ واقعہ ایک سیاہ دھبہ ہے-
مسلمانوں کے گھروں پر، دکانوں،مساجد اور مدرسوں پر مقامی حکام کا بلڈوزر چلانا یہ سب عام سا ہوگیا ہے-آئے دن مساجد اور مدرسوں کو نشانہ بنانا اب عام ہوگیا ہے،مسلمانوں کو ملک دشمن ، ہندودشمن ثابت کرنے فرقہ پرستوں نے مسلمانوں کے دائرۂ حیات کو تنگ کرنے کی مذموم کوششیںکی ہیں- مسلمانوں کے ساتھ ہر طرح کے سماجی وکاروباری تعلقات بائیکاٹ کرنے کی آواز دی جاتی رہی- خصوصی طورپر اترپردیش میں سڑک کنارے مسلمانوں کی دکانوں پر ان کے نام لکھنے پر مجبور کیا جاتا رہا ہے- اس ریاست(یوپی) کے وزیراعلیٰ یوگی مسلمانوں کی توہین کرتے انہیں (مسلمانوں کو ) کٹ ملا کہتے ہیں اوروہ بھی ریاستی اسمبلی میں -کسی بھی مظاہرے میں حکومت کے خلاف اگر مسلمان شامل ہیں تو ان کی شناخت کرکے ان کی تصاویر سرکاری طورپر اشتہاروں میں منظرعام پر لائی جاتی ہیں - ان پر ہرجانہ ادا کرنے کے احکامات جاری کئے جاتے ہیں -ان سب پہلوؤں کو دیکھیں تو یہی نتیجہ سامنے آتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح مسلمانوں کو ہراساں کیا جائے، ستایا جائے، حوصلہ شکنی کی جائے، توہین کی جائے، کوئی شرپسند مسلمانوں کے خلاف اگر اشتعال انگیز نفرت بھری تقریر Hat Speech کرتا ہے تو اس پرقانونی کارروائی دور دور تک ہوتے نظر نہیں آتی- مسلمانوں کو نقصان پہنچانے والے شرپسند کھلے عام سر اٹھائے گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں جب کہ بے قصور مسلمان سلاخوں کے پیچھے اپنے مقدمات کی شنوائی کے منتظر پریشان رہتے ہیں -
مسلمانوں کے خلاف جب گوشت کی سیاست نے سراٹھایا تھا تب ہجومی تشدد نے سنگین اور خطرناک صورتحال اختیارکرلی تھی- ادھر چند مہینوں اور برسوں سے مسلمانوں پر حملے کی وارداتوں میں کمی آئی تھی،مگر ان دنوں الگ الگ ریاستوں میں جہاں بھاجپا اقتدار میں ہے وہاں ایسی وارداتیں ہوتی رہی ہیں- وزیراعظم اور وزیرداخلہ کی ان معاملات میں پراسرار خاموشی زیر بحث رہتی آئی ہے- تین سال قبل بھی راجستھان کے الور ضلع میں ایک ہجومی تشدد کی واردات ہوئی تھی، جس میں تین مسلم نوجوان وسیم، آصف اور اظہرالدین کو قتل کردیا گیا تھا-حملہ کرنے والے اس شک کی بنیاد پر کہ یہ تینوں مسلم نوجوان غیرقانونی طورپر جنگل میں لکڑی چوری کیلئے درخت کاٹ رہے تھے،ان پر ہجومی حملہ کرکے قتل کردیاتھا،جس پر کانگریس اور بھاجپا کے درمیان کافی سیاسی بحث اور الزامات کی بوچھاڑ ہوئی تھی-مگر ہر اعتبار سے نقصان ان مسلم نوجوانوں کے خاندانوں کا ہوا جس کی بھرپائی ممکن نہیں -
راجستھان کے ضلع الوار میں جو ایک مسلم کسان سیکن کا بہیمانہ قتل کی وجوہات جو بھی رہی ہوں - تفتیشی رپورٹ کے آتے آتے روایتی تاخیر ہوجائے گی-مقامی دیہات اور آس پاس کے لوگوں کا مظاہرہ اس واقعہ کو لے کر انصاف کیلئے جاری ہے- جو غیرمسلم پڑوسی مقتول کو جانتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ میل جول سے بھائی چارگی سے وہ رہا کرتے تھے-جب سیکن خان اپنے ایک دوست کے ساتھ اپنے گاؤں سے اپنی موٹر سائیکل پر باروڈہ میوآیا تھا -مگر داڑھی اورٹوپی کی شناخت پر صرف سیکن پر حملہ ہونا فرقہ پرستی اور نفرت اور شناخت کا تناؤ ہے جو ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے- ٹوپی داڑھی اوراپنے لباس سے پہچانے جانے کی وہ بات جو وزیراعظم نے کہی تھی وہ کس حد تک تنگ نظر ہم وطنوں کے ذہنوں میں سمائی ہے-یہ بات اس طرح کی وارداتوں سے واضح طورپر سامنے آتی ہے-مقامی پولیس کس طرح اس پورے معاملے میں غیر جانبدارانہ طورپر تفتیش کرے گی-مجرم پر کس نوعیت کی قانونی کارروائی ہوگی اور مقتول کے پسماندگان کو کب اور کتنی عجلت یا تاخیر سے انصاف ملے گا-ان سب پہلوؤں کا اندازہ تو لگایا جاسکتا ہے -مگر انصاف میں اگر تاخیرہوجائے تو وہ ناانصافی ہی تو ہوگی-
Post a Comment