BREAKING: Muslim Leaders Meet Kharge Over Council Representation قانون ساز کونسل میں مسلم نمائندگی کا مطالبہ

قانون ساز کونسل کی نامزدگیوں میں مسلمانوں کو نمائندگی کا مطالبہ 

یو۔ ٹی۔ قادر کی قیادت میں ملکارجن کھرگے سے ملاقات، مسلم مسائل کے حل پر زور 

بنگلورو، 27 ستمبر (حقیقت ٹائمز)

کرناٹک میں قانون ساز کونسل کی آئندہ ہونے والی نامزدگیوں کے پیش نظر مسلم قائدین کے ایک وفد نے کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے سے ملاقات کرتے ہوئے مسلمانوں کو قانون ساز کونسل میں نمائندگی دینے اور دیگر سیاسی و انتظامی معاملات میں بھی مناسب نمائندگی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

ریاستی وزیر صحت ، اقلیتی بہبود، اوقاف و حج یو۔ٹی۔ قادر کی قیادت میں وفد نے ملکارجن کھرگے کے ساتھ مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وفد میں رکن راجیہ سبھا و اے آئی سی سی کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر سید ناصر حسین، رکن راجیہ سبھا منصور علی خان، کرناٹک مسلم لیجسلیچرز فورم کے صدر و رکن اسمبلی این۔اے۔ حارث، گلبرگہ کی رکن اسمبلی کنیز فاطمہ اور مسلم لیجسلیچرز فورم کی جوائنٹ سکریٹری و رکن قانون ساز کونسل بلقیس بانو سمیت دیگر قائدین شامل تھے۔

ملاقات کے دوران وفد نے آئندہ قانون ساز کونسل کی نامزدگیوں میں مسلمانوں کو بھی شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ قائدین نے کہا کہ ریاست کے مسلمانوں سے متعلق مختلف امور اور ان کے مسائل کو مؤثر انداز میں متعلقہ سطح تک پہنچانے کے لیے سیاسی و قانونی اداروں میں مناسب نمائندگی اہم ہے۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں مسلمانوں سے متعلق مختلف سیاسی، سماجی اور انتظامی امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور زیرِ التوا مسائل کی عاجلانہ یکسوئی کے لیے ضروری اقدامات پر زور دیا گیا۔وفد نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ حکومت اور پارٹی کی سطح پر اقلیتی برادریوں سے متعلق مسائل کے حل کے لیے مؤثر رابطہ اور نمائندگی کا نظام مزید مضبوط کیا جانا چاہیے۔ خاص طور پر مسلم برادری سے متعلق ترقی، تعلیم، روزگار، سماجی بہبود اور دیگر امور پر توجہ دینے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب کرناٹک قانون ساز کونسل میں متعدد نشستیں مختلف ادوار میں خالی ہوئی ہیں اور نامزدگیوں و دیگر سیاسی فیصلوں سے متعلق سرگرمیاں جاری ہیں۔ وفد نے ملکارجن کھرگے کے سامنے مسلمانوں کی نمائندگی سے متعلق مطالبات رکھتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان امور پر ریاستی قیادت کے ساتھ مناسب غور کیا جائے گا اور مسلم برادری کے جائز مسائل کے حل کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

0/Post a Comment/Comments