BREAKING: U.T. Khader Announces ‘Urdu Habba’ for Urdu Day یومِ اردو پر ودھان سودھا میں اردو ہبا
byHAQEEQAT TIMES (Administrator)-1
AI Image for representation purpose
یومِ اردو پر ’اردو ہبا‘، ودھان سودھا کی سیڑھیاں بنیں گی اردو ثقافت کا مرکز
کتاب میلہ، ثقافتی پروگرام، مشاعرہ اور سالانہ ایوارڈز کا اہتمام، 9 نومبر کو ہوگا انعقاد: یو۔ ٹی۔ قادر
بنگلورو، 29 ستمبر (حقیقت ٹائمز)
کرناٹک میں پہلی مرتبہ سرکاری سرپرستی میں ودھان سودھا کی عظیم سیڑھیوں پر یوم اردو کے اہتمام کیلئے راہ ہموار ہوئی ہے ۔وزیر صحت و خاندانی بہبود، اقلیتی بہبود، حج و اوقاف یو۔ ٹی۔ قادر فرید نے اعلان کیا ہے کہ 9 نومبر کو یومِ اردو کے موقع پر بنگلورو کے ودھان سودھا کی عظیم الشان سیڑھیوں پر ’اردو ہبا‘ منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد اردو زبان و ادب کے ساتھ اس سے وابستہ تہذیب، ثقافت اور ادبی روایت کو ریاست کے مختلف طبقات تک پہنچانا اور اردو کی ثقافتی اہمیت کو وسیع سطح پر اجاگر کرنا ہے۔ کرناٹک پروا 2026 کے چوتھے روز اردو اخبارات کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے یو۔ ٹی۔ قادر نے کہا کہ اگر ودھان سودھا کے احاطے میں مختلف محکموں اور شعبوں کی تقریبات منعقد کی جا سکتی ہیں تو اردو زبان و ادب سے متعلق ایک بڑے پروگرام کا انعقاد بھی اسی مقام پر کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی تصور کے تحت یومِ اردو کے موقع پر ودھان سودھا کی سیڑھیوں پر بڑے پیمانے پر اردو میلے کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجوزہ اردو میلے میں صرف ادبی سرگرمیوں تک محدود رہنے کے بجائے اردو ثقافت، کتاب، کھانے اور فنون کو ایک ہی پلیٹ فارم پر پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ پروگرام کے تحت کتاب میلہ، فوڈ فیسٹیول، ثقافتی پروگرام تفویض سالانہ ایوارڈز، اور بڑے پیمانے پر مشاعرہ منعقد کرنے کی تجویز ہے، تاکہ اردو زبان و ادب سے وابستہ مختلف پہلوؤں کو عوام کے سامنے پیش کیا جا سکے۔
اردو ادب اور تہذیب سے عوام کو روشناس کرانے کی کوشش
یو۔ ٹی۔ قادر نے کہا کہ اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ اس کے ساتھ ایک وسیع ادبی اور تہذیبی روایت بھی وابستہ ہے۔ ان کے مطابق اردو ادب کی لطافت، شاعری، نثر، موسیقی اور تہذیبی روایات سے ریاست کے دیگر طبقات کو بھی روشناس کرانا ضروری ہے۔ اردو میلے کے ذریعے اس مقصد کے لیے ایک مشترکہ ثقافتی پلیٹ فارم فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ یومِ اردو کے موقع پر منعقد ہونے والا یہ پروگرام اردو زبان کے ادیبوں، شاعروں، قلم کاروں، ناشرین، کتابوں اور مختلف فنون سے وابستہ افراد کو ایک وسیع عوامی پلیٹ فارم فراہم کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ مشاعرے کے ساتھ کتاب میلے اور ثقافتی سرگرمیوں کے انعقاد سے پروگرام کو مختلف عمر اور طبقے کے لوگوں کے لیے قابلِ شرکت بنانے پر توجہ دی جائے گی۔
کرناٹک پروا کو ڈویژن اور ضلع سطح تک وسعت دینے کا منصوبہ
جناب یو ٹی قادر نے کرناٹک پروا 2026 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کے ذریعے ریاست کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے اقلیتی طبقات کے دستکاروں، ہنرمندوں اور فن کاروں کی مصنوعات اور صلاحیتوں کو عوام کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مختلف اسٹالز کے ذریعے روایتی ہنر اور مصنوعات کو صارفین تک پہنچانے کا موقع ملا ہے، جس سے متعلقہ ہنرمندوں کے لیے مستقبل میں نئے بازار اور کاروباری امکانات پیدا ہونے کی توقع ہے۔انہوں نے بتایا کہ کرناٹک پروا کو آئندہ ڈویژن سطح تک وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ ضلع سطح پر بھی ایسے پروگرام منعقد کرنے کے امکان پر غور کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس سے مختلف علاقوں میں موجود روایتی ہنر، دستکاری اور ثقافتی سرگرمیوں کو مقامی سطح پر فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔
محکمہ اقلیتی بہبود، حج و اوقاف میں اصلاحات
یو۔ ٹی۔ قادر نے محکمہ اقلیتی بہبود، حج و اوقاف کے کام کاج میں مختلف اصلاحات کی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اوقافی جائیدادوں سے متعلق مقدمات اور قانونی کارروائی کی نگرانی کے لیے سینئر افسر ایم۔ اے۔ خالد کی نگرانی میں ایک کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ کمیٹی اوقافی مقدمات سے متعلق جاری قانونی پیروی اور دیگر متعلقہ امور کی نگرانی کرے گی۔وزیر نے کہا کہ محکمہ سے متعلق مختلف امور میں انتظامی بہتری اور مؤثر نگرانی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاکہ متعلقہ معاملات کی پیروی اور نگرانی کو زیادہ منظم بنایا جا سکے۔یو۔ ٹی۔ قادر کا کہنا تھا کہ 9 نومبر کو یومِ اردو کے موقع پر مجوزہ اردو میلہ اردو زبان، ادب اور تہذیب کو وسیع تر عوامی دائرے میں متعارف کرانے کی ایک کوشش ہوگا، جبکہ ودھان سودھا کی تاریخی سیڑھیوں پر مشاعرے سمیت مختلف پروگراموں کا انعقاد اس تقریب کو ایک نمایاں ثقافتی پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔
Masha Allha A tu bahut hi kushi ki Bath hai,,, Karnataka me first time Urdu Day U T Khadar sir k Koshish ki wajha se horaha hai,
ReplyDeletePost a Comment