کنڑ کے نام پر اردو کے آئینی حقوق کی مخالفت کیوں؟
تمام زبانوں کے احترام اور لسانی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ آئینی ذمہ داری ہے
از: محمد الطاف حسین (الطاف رضوی) , موبائل نمبر: 9845234218
کرناٹک میں ایک عجیب افواہ پھیلائی جا رہی ہے کہ جب بھی حکومت اردو کے آئینی حقوق، اردو اسکولوں، اردو اکیڈمی یا اردو کو دوسری سرکاری زبان کے طور پر قانونی درجہ دینے کی بات کرتی ہے تو کچھ تنظیمیں فوراً ’’کنڑ ہار گئی، اردو جیت گئی‘‘ کا نعرہ لگاتی ہیں۔ اگرچہ یہ نعرہ بظاہر کنڑ زبان سے محبت کا اظہار لگتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ آئین مخالف موقف ہے۔پہلا سچ یہ ہے کہ کوئی بھی کنڑ زبان کی حیثیت نہیں چھین سکتا۔ کرناٹک آفیشل لینگویج ایکٹ 1963 کے مطابق کنڑ کرناٹک کی واحد سرکاری زبان ہے۔ یہ حتمی ہے۔ کوئی حکومت یا کوئی عدالت اسے تبدیل نہیں کر سکتی۔

کرناٹک میں اردو کی حیثیت یہ ہے کہ اسے آئین کے آرٹیکل 347 کے تحت اقلیتی زبان کے طور پر تحفظ حاصل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں اردو بولنے والوں کی تعداد 15 فیصد سے زیادہ ہے، وہاں سرکاری فارم، نوٹیفکیشن اور دیگر سہولیات بھی اردو میں فراہم کی جائیں۔ اس سے کنڑ کا ایک لفظ بھی کم نہیں ہوتا۔ اس لیے یہ کہنا کہ اردو کو حقوق دینا کنڑ کی شکست ہے، اتنا ہی مضحکہ خیز ہے جتنا یہ کہنا کہ چھوٹے بھائی کو کھانا کھلانے سے بڑے بھائی کی شکست ہو گئی۔دوسرا سچ یہ ہے کہ اردو کو حقوق دینا حکومت کا احسان نہیں بلکہ آئینی فرض ہے۔ ہمارا آئین ہمیں مساوات کا سبق سکھاتا ہے۔ آرٹیکل 29 کہتا ہے کہ ہر طبقے کو اپنی زبان اور رسم الخط کو محفوظ رکھنے کا حق حاصل ہے۔ آرٹیکل 350 اے واضح طور پر کہتا ہے کہ ہر ریاست لسانی اقلیتوں کے بچوں کو ان کی مادری زبان میں ابتدائی تعلیم فراہم کرنے کی کوشش کرے۔
جب ہاویری، کلبرگی، وجئے پور، بھٹکل، میسور جیسی جگہوں پر لاکھوں بچے ہیں جن کی مادری زبان اردو ہے تو انہیں اردو میں تعلیم دینا کنڑ کی توہین کیسے ہے؟ یہ تو آئین کا منڈیٹ ہے۔ 2014 میں سپریم کورٹ نے بھی واضح کیا کہ اردو ہندوستان میں پیدا ہوئی اور پروان چڑھی، یہ کوئی غیر ملکی زبان نہیں ہے۔
ایسی افواہیں پھیلانے والوں کے لیے ایک آئینہ
وہ تنظیمیں یا سیاسی رہنما جو یہ افواہیں پھیلاتے ہیں کہ اردو آنے سے کنڑ ختم ہو جائے گی، انہیں ان تین سوالات کا جواب دینا چاہیے۔1۔ کیا آپ آئین سے بڑے ہیں؟ جب آئین خود کہتا ہے کہ اردو زبان کی حفاظت کی جائے تو آپ اس کے خلاف افواہیں پھیلا کر کس سے وفاداری ظاہر کر رہے ہیں؟ 2۔ کیا کنڑ اتنی کمزور ہے؟ کنڑ ایک عظیم اور بھرپور زبان ہے، جس کی ہزاروں سال کی تاریخ ہے اور جس نے 8 گیان پیٹھ ایوارڈ حاصل کیے ہیں۔ اگر کوئی سرکاری حکم اردو میں شائع ہوتا ہے تو کیا اس سے کنڑ تباہ ہو جائے گی؟ یہ سمجھنا کہ اردو کے کسی حق سے کنڑ کو خطرہ ہے، دراصل کنڑ کو کمزور سمجھنے کے مترادف ہے۔ 3۔ مساوات کا سبق کہاں گیا؟ہم اپنے بچوں کو اسکول میں یہ سکھاتے ہیں کہ ’’سروے جنَہ سکھینو بھونتو‘‘، یعنی سب کی بھلائی ہو۔ کیا مساوات کا مطلب یہ ہے کہ ایک کو آئینی حقوق دینے سے دوسرے کے حقوق چھین لیے جائیں؟
اصل فتح کیا ہے؟
یاد رکھیں، کنڑ کو اس دن شکست نہیں ہوگی جس دن اردو کو اس کا حق مل جائے گا۔ اس کے بجائے ہماری اصل شکست اس وقت ہوگی جب ہم کسی دوسری ہندوستانی زبان کو گالی دیں گے، دوسری آئینی زبان کی توہین کریں گے اور اردو جیسی عظیم اور سریلی زبان کے حقوق کو دبائیں گے۔ کیا یہ ایک اچھے ہندوستانی شہری کی نشانی ہو سکتی ہے؟جس دن ایک کنڑ بچہ کنڑ میں اور ایک اردو بچہ اردو میں، دونوں آئین کے سائے میں یکساں طور پر اور فخر سے پڑھے گا، وہ کنڑ اور کرناٹک کی حقیقی فتح ہوگی۔ اردو کو اس کا آئینی حق دے کر آپ کنڑ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا رہے ہیں بلکہ کرناٹک کو ایک بالغ ریاست بنا رہے ہیں۔’’سرو بھاشا سمان‘‘، یعنی تمام زبانوں کی برابری، ہی ہندوستان کی اصل جیت ہے۔اس سے ہٹ کر ہر معاملے کو سیاست کا رنگ دینا، خوف کا ماحول پیدا کرنا، ملک میں اقلیتوں کو دبائے رکھنے کی کوشش کرنا اور انہیں ان کے حقوق سے محروم کرنے کی سازش کرنا کبھی بھی ملک کی ترقی کے حق میں بہتر نہیں ہوگا۔
Post a Comment