سرینواس پور میں صفائی کو ترجیح دینے اور شہری تعاون پر زور: وی۔ ناگراج
گاندھی جینتی پر صفائی و بیداری پروگرام، طلبہ کی انسانی زنجیر اور شجرکاری بھی شامل
سرینواس پور، 4 اکتوبر (شبیر احمد)
مہاتما گاندھی کے صاف ستھرے ہندوستان کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے ہر فرد کو صفائی کو اپنی اولین ترجیح بنانا چاہیے۔ یہ بات سرینواس پور میونسپلٹی کے چیف آفیسر وی۔ ناگراج نے کہی۔شہری ترقی محکمہ، میونسپل انتظامیہ کے ڈائریکٹوریٹ، ضلعی انتظامیہ اور کولار ضلع پنچایت کے اشتراک سے سوچھ بھارت مشن (شہری) کے تحت ’’سوچھتا ہی سیوا–2026‘‘ مہم کے سلسلے میں 17 ستمبر سے 2 اکتوبر تک سرینواس پور میونسپل حدود میں مختلف صفائی اور بیداری پروگرام منعقد کیے گئے۔مہم کے تحت عوامی مقامات، سڑکوں، پارکوں اور بازار کے علاقوں میں خصوصی صفائی مہم چلائی گئی۔ اس کے علاوہ عوام میں صفائی، ماحولیاتی تحفظ اور کچرے کے مؤثر انتظام کے بارے میں بیداری پیدا کی گئی۔

گاندھی جینتی کے موقع پر 2 اکتوبر کو شہر کی اہم سڑکوں پر خصوصی صفائی اور بیداری پروگرام منعقد کیا گیا۔ اسکولی طلبہ نے انسانی زنجیر بناکر بیداری ریلی نکالی اور عوام کو صفائی کی اہمیت سے واقف کرایا۔اسی موقع پر یلڈور گاؤں کے سروے نمبر 45 میں واقع ٹھوس کچرے کے انتظامی مرکز میں میونسپلٹی کی جانب سے پودے لگائے گئے۔میونسپلٹی کے منیجر نوین چندر نے کہا کہ صفائی صرف ایک دن کا پروگرام نہیں بلکہ اسے ہر فرد کی روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔ گھروں، اطراف کے ماحول اور عوامی مقامات کو صاف رکھنے کی ذمہ داری ہر شہری کو نبھانی چاہیے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ کچرا کہیں بھی نہ پھینکیں بلکہ گیلے اور خشک کچرے کو الگ کرکے میونسپلٹی کی کچرا جمع کرنے والی گاڑیوں کے حوالے کریں اور صاف ستھرا شہر بنانے میں تعاون کریں۔میونسپلٹی کی ماحولیاتی انجینئر لکشمی ش نے کہا کہ ’’سوچھتا ہی سیوا‘‘ کے پیغام کے ساتھ عوام، میونسپل عملہ، صفائی کارکنان، مختلف تنظیموں اور طلبہ کی شراکت سے متعدد پروگرام منعقد کیے گئے ہیں۔ صاف اور صحت مند شہر کی تعمیر کے لیے عوام کا تعاون ناگزیر ہے۔پروگرام میں میونسپلٹی کے ماحولیاتی انجینئر سری نواس، ریونیو انسپکٹر این۔ شنکر، ہیلتھ انسپکٹر وجے کمار، جونیئر ہیلتھ انسپکٹر ٹی۔ وی۔ سریش کمار، ناگیش، بال کرشن، منجوناتھ، شیوکمار، سنتوش، پرتاپ، وینکٹیشیا، سری ناتھ، شاردا اور بھاگیہ اماں سمیت میونسپل عملہ اور صفائی کارکنان موجود تھے۔
Post a Comment