
w
انتخابی نظام میں جامع اصلاحات کے بغیر حقیقی سماجی تبدیلی ممکن نہیں: سدارامیا
رقم، ذات اور شراب کے بڑھتے اثرات پر تشویش، انتخابی اخراجات حکومت کی جانب سے برداشت کرنے کے نظام پر غور کی تجویز
بنگلورو، یکم اکتوبر (حقیقت ٹائمز)
سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا ہے کہ انتخابی نظام میں جامع اصلاحات کے بغیر معاشرے میں حقیقی تبدیلی لانا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ انتخابات میں رقم، ذات اور شراب کا اثر بڑھنے کے باعث دیانت دار، غریب، باصلاحیت اور سماجی خدمت کا جذبہ رکھنے والے افراد کے لیے انتخابی سیاست میں داخل ہونا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ جے۔ ایچ۔ پٹیل کی یومِ پیدائش کے موقع پر منعقدہ یادگاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی اصلاحات کسی ایک سیاسی جماعت یا فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ جمہوریت کے مستقبل سے متعلق معاملہ ہے۔ اس لیے تمام سیاسی جماعتوں، عوام، تحریکوں سے وابستہ افراد اور سماجی کارکنوں کو اس موضوع پر کھلے ذہن کے ساتھ تبادلۂ خیال کرنا چاہیے۔سدارامیا نے کہا کہ موجودہ انتخابی نظام سیاست دانوں کو بھی بعض حالات میں غیر قانونی یا غیر ضروری اخراجات کی طرف دھکیلنے کا سبب بنتا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے مقرر کردہ اخراجاتی حد کے اندر انتخاب لڑنے کے دعوے پر عوام کا اعتماد کم ہوا ہے، کیونکہ عملی طور پر انتخابات میں مقررہ حد سے زیادہ رقم خرچ ہونے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔اپنے انتخابی تجربات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 1983 میں پہلی مرتبہ اسمبلی انتخابات لڑنے کے دوران جارج فرنانڈیز نے انہیں 10 ہزار روپے دیے تھے، جبکہ دیہی علاقوں میں عوام بھی 200 یا 500 روپے تک انتخابی اخراجات کے لیے تعاون کرتے تھے۔ ان کے مطابق اس وقت تقریباً 63 ہزار روپے میں انتخابی مہم مکمل ہوگئی تھی اور وہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں تھے۔انہوں نے 1980 میں لوک دل کی جانب سے لوک سبھا انتخابات لڑنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی انتخابی اخراجات کے لیے زیادہ رقم دستیاب نہیں تھی۔ چودھری چرن سنگھ نے ایک لاکھ روپے بھیجے تھے اور رقم ختم ہونے کے بعد عوام کو چائے پلانے تک کے لیے رقم دستیاب نہیں تھی۔ تاہم اس دور میں کم وسائل کے باوجود انتخابات لڑنا ممکن تھا۔ ان کے مطابق بعد کے برسوں میں انتخابی نظام میں نمایاں تبدیلی آئی۔

سدارامیا نے 206 کے چامونڈیشوری ضمنی انتخاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت انتخابی سیاست میں رقم کا استعمال کافی بڑھ چکا تھا اور مخالف امیدوار کی جانب سے بڑے پیمانے پر رقم خرچ کیے جانے کے باعث انہیں بھی اخراجات کرنے کی مجبوری کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق اس کے بعد انتخابات میں رقم کا اثر مزید بڑھتا گیا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں رقم خرچ کیے بغیر، شراب تقسیم کیے بغیر اور ذات کے حساب کتاب سے گریز کرتے ہوئے انتخابات لڑنا مشکل سمجھا جانے لگا ہے۔ ان کے مطابق ایسے ماحول کے باعث سماج کے دیانت دار، غریب، باصلاحیت اور عوامی خدمت کا جذبہ رکھنے والے افراد انتخابی سیاست سے دور رہ سکتے ہیں، جو جمہوریت کے نقطۂ نظر سے سنجیدہ بحث کا موضوع ہے۔سابق وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ انتخابی اصلاحات کے لیے ماضی میں بھی مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں۔ وی۔ پی۔ سنگھ کے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں دنیش گوسوامی کمیٹی، پی۔ وی۔ نرسمہا راؤ کے دور میں این۔ این۔ ووہرا کمیٹی اور اٹل بہاری واجپئی کے دور میں اندرجیت گپتا کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ ان کے مطابق اگر ان کمیٹیوں کی سفارشات پر مکمل طور پر عمل کیا جاتا تو انتخابی نظام میں نمایاں تبدیلیاں لائی جا سکتی تھیں، تاہم سفارشات مکمل طور پر نافذ نہیں ہوئیں۔سدارامیا نے اندرجیت گپتا کمیٹی کی تجویز کردہ طرز پر انتخابی اخراجات حکومت کی جانب سے برداشت کرنے کے نظام پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ امیدواروں کو مساوی مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں کی پالیسی، نظریات اور پروگراموں کو ذرائع ابلاغ کے ذریعے ووٹروں تک پہنچانے کا مؤثر نظام بنایا جانا چاہیے، جس سے انتخابات میں رقم کے غیر ضروری استعمال کو محدود کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ انتخابات آزادانہ، غیر جانب دارانہ اور شفاف انداز میں منعقد ہونے چاہئیں۔ اس مقصد کے لیے صرف قانون یا الیکشن کمیشن کی سطح پر تبدیلیاں کافی نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں، امیدواروں اور ووٹروں کے رویوں میں بھی تبدیلی ضروری ہے۔
سدارامیا نے ووٹروں کے رویے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ سیاست دانوں پر اقتدار میں رہتے ہوئے دولت جمع کرنے کا الزام لگاتے ہیں، انہیں بھی انتخابات کے دوران امیدواروں کی جانب سے رقم دیے جانے کو قبول کرنے کے رجحان پر غور کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ’’رقم ملے تو لے لیں‘‘ جیسی سوچ میں تبدیلی اور ووٹروں میں جمہوری شعور و فکری بیداری پیدا کرنا بھی انتخابی اصلاحات کا اہم حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیم کی شرح میں اضافے کے باوجود معاشرے میں سائنسی مزاج اور فکری شعور اسی تناسب سے نہیں بڑھا ہے۔ تعلیم یافتہ افراد میں بھی ذات پر مبنی سوچ موجود ہے اور انتخابات کے دوران امیدوار کی اہلیت، پالیسی اور پروگرام کے بجائے اس کی ذات کو اہمیت دی جاتی ہے۔ انہوں نے تعلیمی نظام میں فکری اور سائنسی مزاج کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سیاسی جمہوریت کے ساتھ سماجی اور معاشی مساوات بھی ضروری ہے۔ جب تک معاشرے میں عدم مساوات، ذات پات اور چھوت چھات جیسے مسائل موجود ہیں، جمہوریت کے بنیادی مقاصد کی مکمل تکمیل کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق انتخابی نظام کی خامیوں کو دور کرنا بھی سماجی تبدیلی کے عمل کا اہم حصہ ہے۔
جے۔ ایچ۔ پٹیل کو یاد کرتے ہوئے سدارامیا نے انہیں سادہ مزاج، بے باک، صاف گو اور ایک اچھا پارلیمانی مقرر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پٹیل دوسروں کی ترقی سے حسد کرنے کے بجائے انہیں آگے بڑھنے کی ترغیب دیتے تھے اور ان کے سیاسی سفر کے ابتدائی دور میں بھی پٹیل نے انہیں حوصلہ دیا تھا۔sسدارامیا نے کہا کہ جے۔ ایچ۔ پٹیل جیسے مطالعہ رکھنے والے، تحریکوں کے پس منظر سے وابستہ اور قانون ساز اداروں میں سنجیدہ بحث کرنے والے سیاست دانوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔پارلیمنٹ، اسمبلی اور قانون ساز کونسل میں معیاری مباحث کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق پٹیل کے اصول اور عوامی زندگی کی اقدار آئندہ نسل کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ انتخابی نظام میں اصلاحات محض سیاسی نظام کی اصلاح نہیں بلکہ معاشرتی اصلاح سے بھی وابستہ ہیں۔ ان کے مطابق انتخابات کو رقم، ذات اور دیگر ترغیبات کے اثرات سے آزاد کرنے اور دیانت دار و عوامی خدمت کا جذبہ رکھنے والے افراد کے لیے سیاست میں داخلے کے مواقع پیدا کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں اور عوام کے درمیان وسیع اور مسلسل بحث ضروری ہے۔
Post a Comment