D.K. Shivakumar Inaugurates Karnataka Parva 2026, Stresses Inclusion کرناٹک پروا 2026 کا افتتاح، خودکفالت پر زور
byHAQEEQAT TIMES (Administrator)-0
کرناٹک پروا 2026 کا افتتاح، ڈی۔ کے۔ شیوکمار نے تنوع اور ہنر کی اہمیت اجاگر کی
اقلیتی نمائندگی، خواتین کے معاشی استحکام اور ووٹ کے حق کے تحفظ پر زور
بنگلورو، 26 ستمبر (حقیقت ٹائمز)
وزیر اعلیٰ ڈی۔ کے۔ شیوکمار نے کہا ہے کہ تنوع میں اتحاد اور ہنر کے ذریعے خودکفالت کرناٹک پروا کا بنیادی مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے ذریعے ریاست کے روایتی فنون، دستکاری اور ثقافتی تنوع کو فروغ دینے کے ساتھ کاریگروں اور چھوٹے کاروباری اداروں کو بازار تک رسائی فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وہ آج پیلس گراؤنڈز میں منعقدہ کرناٹک پروا 2026 کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کر رہے تھے۔ پروگرام میں 180 سے زائد اسٹال قائم کیے گئے ہیں، جہاں مختلف علاقوں کے دستکار اپنی مصنوعات پیش کر رہے ہیں۔ ڈی۔ کے۔ شیوکمار نے کہا کہ کرناٹک مختلف مذاہب، زبانوں، روایات، فنون اور غذائی ثقافتوں کا مرکز ہے اور یہی تنوع ریاست اور ملک کی طاقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ روایتی فنون کے تحفظ اور کاریگروں کی معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے ایسے پروگرام اہم ہیں۔
اقلیتی برادری کی نمائندگی
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اقلیتی برادری کی خودکفالت کرناٹک کی مجموعی ترقی کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق ریاست میں مختلف اقلیتی برادریوں کو حکومتی سطح پر نمائندگی دینے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے تین افراد کو وزیر بنایا گیا ہے، جبکہ ایک رکن کو قانون ساز کونسل کے چیئرمین کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 25 سے زائد افراد کو مختلف کارپوریشنوں اور بورڈز کے سربراہ کے طور پر ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ڈی۔ کے۔ شیوکمار نے کہا کہ ریاست کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے اقلیتی رہنماؤں کو بھی مختلف ذمہ داریاں دی گئی ہیں اور حکومت سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا کی حکومت کے دوران اقلیتی برادری کے تحفظ اور فلاح کے لیے شروع کیے گئے پروگراموں کو آگے بڑھا رہی ہے۔
اقلیتی ووٹروں سے ایس آئی آر کے معاملے میں محتاط رہنے کی اپیل
وزیر اعلیٰ نے اقلیتی برادری سے اپیل کی کہ وہ ایس آئی آر کے عمل کے دوران اپنے ووٹ کے حق کے تحفظ کے معاملے میں محتاط رہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایس آئی آر کے عمل کے دوران اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے ووٹروں کے نام ووٹر فہرست سے خارج کیے جانے کی سازش کی جا رہی ہے اور کہا کہ ان کی حکومت اس کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے۔ انہوں نے ووٹروں پر زور دیا کہ وہ اپنے نام اور ووٹنگ کے حق سے متعلق تفصیلات پر توجہ دیں۔ڈی۔ کے۔ شیوکمار نے کہا کہ ووٹ دینے کا حق شہریوں کے بنیادی جمہوری حقوق میں شامل ہے اور اسے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔
خواتین خودکفیل بنیں اور روزگار پیدا کریں
وزیر اعلیٰ نے خواتین سے اپیل کی کہ وہ خودکفیل بننے کے ساتھ کاروباری سرگرمیوں میں آگے آئیں اور دوسروں کے لیے بھی روزگار کے مواقع پیدا کریں۔انہوں نے کہا کہ حکومت خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ضمانتی اسکیموں کے ذریعے خواتین اور سماج کے مختلف طبقات کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت سماج کے مختلف طبقات کو معاشی طاقت فراہم کرنے کے لیے ہر سال تقریباً 1.20 لاکھ کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے۔وزیر اعلیٰ نے کرناٹک پروا کو ریاست کے ثقافتی تنوع، روایتی ہنر، دستکاری اور چھوٹے کاروباروں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کا مقصد فنون کے تحفظ کے ساتھ ہنرمند افراد کے لیے بہتر معاشی مواقع پیدا کرنا ہے۔ اس موقع پر پروگرام کے روح رواں وزیر صحت و خاندانی بہبود، اقلیتی بہبود اوقاف و حج یو ٹی قادر کی قایدانہ صلاحیتوں کا بھی وزیر اعلی نے اعتراف کیا ۔ اس موقع پر تلنگانہ کے وزیر برائے اقلیتی بہبود و سابق کرکٹر محمد اظہر الدین اور کیرلا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیمات روجی ایم جان نے اسٹالس کا افتتاح کیا ۔اس موقع پر قانون ساز کونسل کے چیئرمین سلیم احمد، ریاستی وزیر برائے شہری رسد و خوراک رضوان ارشد، ارکان راجیہ سبھا ڈاکٹر سید ناصر حسین، منصور علی خان، سابق رکن پارلیمان و اداکارہ رمیا، ارکان اسمبلی یاسر خان پٹھان، رحیم خان، کنیز فاطمہ، رکن کونسل بلقیس بانو، ریاستی وقف بورڈ کے چیئرمین محمد علی الحسینی، ریاستی حج کمیٹی کے چیئرمین ذوالفقار احمد خان ٹیپو، کے ایم ڈی سی چیرمین بی کے الطاف خان، گارنٹی اتھارٹی کے نائب چیئرمین مہروز خان، سنٹرل ریلیف کمیٹی کے چیئرمین آغا سلطان، کے علاوہ متعدد رہنما اور عمایدین موجود تھے ۔
Post a Comment