ووٹ کے تحفظ کے لیے فارم 7 کے طریقۂ کار میں اصلاح ضروری
انتخابی فہرست سے نام حذف کرنے کے عمل میں شفافیت اور سخت ضوابط کا مطالبہ
بنگلورو، 2 اکتوبر (حقیقت ٹائمز)
انتخابی فہرست جمہوری نظام کی بنیادی ضرورت ہے اور ہر اہل شہری کے ووٹ کے حق کا تحفظ انتخابی انتظامیہ کی اہم ذمہ داری ہے۔ اسی مقصد کے تحت الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے انتخابی فہرستوں کی نظرِ ثانی کا عمل انجام دیا جاتا ہے۔ تاہم کرناٹک میں جاری خصوصی انتہائی نظرِ ثانی کے دوران انتخابی فہرست سے نام حذف کرنے کے لیے فارم 7 کے استعمال کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔فارم 7 کے ذریعے ایک رجسٹرڈ ووٹر کسی دوسرے ووٹر کے نام کو انتخابی فہرست سے حذف کرنے پر اعتراض درج کراسکتا ہے۔ اعتراض کی بنیاد متوفی ہونا، ایک سے زائد مرتبہ نام کا اندراج یا متعلقہ پتے پر موجود نہ ہونا وغیرہ ہوسکتی ہے۔ تاہم بڑے پیمانے پر ایسے اعتراضات داخل کیے جانے کی صورت میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انتخابی فہرست کی پہلے سے کی گئی گھر گھر تصدیق اور بعد میں موصول ہونے والے اعتراضات کے درمیان باہمی مطابقت کیسے یقینی بنائی جائے۔دستیاب سرکاری تفصیلات کے مطابق کرناٹک میں خصوصی انتہائی نظرِ ثانی کے دوران بڑے پیمانے پر انتظامی مشینری کو گھر گھر تصدیق کے عمل میں شامل کیا گیا۔ اس عمل میں 59,050 بوتھ لیول افسران اور 5,905 سپروائزرز نے ریاست کے تمام 34 اضلاع میں گھر گھر جاکر انتخابی تفصیلات کی جانچ کی۔ اس کے علاوہ 224 انتخابی رجسٹریشن افسران اور 336 معاون انتخابی رجسٹریشن افسران نگرانی کے عمل میں شامل رہے، جبکہ تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے 1.33 لاکھ سے زائد بوتھ لیول ایجنٹس بھی انتخابی فہرستوں کی جانچ کے عمل میں شریک ہوئے۔اس وسیع پیمانے پر گھر گھر تصدیق کے بعد اگر بڑی تعداد میں تیسرے فریق کی جانب سے ووٹروں کے نام حذف کرنے کے اعتراضات موصول ہوتے ہیں تو انتخابی انتظامیہ کے سامنے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا فیلڈ سطح پر کی گئی تصدیق میں بعض معاملات رہ گئے تھے یا پھر موجودہ ضابطے کے تحت بڑے پیمانے پر اعتراضات داخل کرنے کی گنجائش کا استعمال کیا جارہا ہے۔
فارم 7 بنیادی طور پر اس مقصد کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے کہ کسی اہل شہری یا متعلقہ شخص کو انتخابی فہرست میں موجود غلط اندراج کی نشاندہی کرنے کا موقع مل سکے۔ تاہم موجودہ انتخابی ماحول میں بڑے پیمانے پر منظم اعتراضات داخل کیے جانے کے امکان نے اس عمل کی نگرانی اور جانچ کو مزید اہم بنا دیا ہے۔خصوصی طور پر ایسے ووٹروں کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے جو روزگار کے سلسلے میں ایک مقام سے دوسرے مقام منتقل ہوتے رہتے ہیں، عارضی رہائش رکھتے ہیں یا معاشی طور پر کمزور طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ایسے افراد کے نام اگر رہائش سے متعلق اعتراضات کی بنیاد پر حذف کرنے کے عمل میں شامل ہوجائیں تو انہیں اپنی اہلیت ثابت کرنے کے لیے اضافی دشواریوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔انتخابی فہرست سے کسی ووٹر کا نام حذف کرنے کے عمل میں اعتراض کی بنیاد، متعلقہ ثبوت، نوٹس کی فراہمی، سماعت اور فیلڈ تصدیق جیسے مراحل کی شفافیت اس لیے اہم ہے کہ نام حذف ہونے کی صورت میں متعلقہ شہری کا ووٹ ڈالنے کا حق براہِ راست متاثر ہوسکتا ہے۔اسی تناظر میں فارم 7 کے موجودہ طریقۂ کار میں مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جارہا ہے۔ متوفی ووٹر کے نام کے معاملے میں شہری اور پیدائش و اموات کے سرکاری ریکارڈ کے درمیان مؤثر رابطہ قائم کیا جاسکتا ہے تاکہ محض کسی تیسرے فریق کے اعتراض کی بنیاد پر کارروائی کی ضرورت کم ہو۔اسی طرح رہائش سے متعلق اعتراضات کے لیے دستاویزی ثبوت اور تصدیق کے واضح اصول مقرر کیے جانے کی تجویز بھی سامنے آتی ہے۔غلط یا بے بنیاد اعتراضات کے معاملے میں بھی جواب دہی کا نظام ضروری قرار دیا جارہا ہے، تاکہ انتخابی فہرست سے نام حذف کرنے کے عمل کو کسی بھی قسم کے سیاسی یا غیر ضروری دباؤ سے محفوظ رکھا جاسکے۔اہم بات یہ ہے کہ کسی ووٹر کا نام حذف کرنے سے قبل اسے مناسب اطلاع، اعتراض کا جواب دینے کا موقع اور ضروری دستاویزات پیش کرنے کے لیے مؤثر طریقہ فراہم کیا جائے۔ صرف ڈاک یا محدود اطلاع پر انحصار کرنے کے بجائے جہاں ضروری ہو وہاں فیلڈ سطح پر تصدیق کو یقینی بنانے سے غلط حذف کے امکانات کم کیے جاسکتے ہیں۔انتخابی فہرستوں کی درستگی جمہوری عمل کی بنیادی ضرورت ہے، لیکن اسی کے ساتھ اہل ووٹروں کے نام بلاجواز حذف نہ ہوں، یہ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ اگر ریاست بڑے پیمانے پر وسائل خرچ کرکے گھر گھر انتخابی تصدیق کا عمل مکمل کرتی ہے تو بعد میں موصول ہونے والے اجتماعی اعتراضات کی بھی اسی معیار کی جانچ ضروری ہے۔فارم 7 کے استعمال سے متعلق موجودہ بحث کا بنیادی سوال یہی ہے کہ انتخابی فہرست میں غلط ناموں کی اصلاح اور حقیقی ووٹروں کے حقِ رائے دہی کے تحفظ کے درمیان مؤثر توازن کس طرح قائم کیا جائے۔ اس کے لیے واضح ضوابط، مضبوط دستاویزی ثبوت، مؤثر فیلڈ تصدیق، مناسب اطلاع اور شفاف سماعت کے طریقۂ کار کو یقینی بنانا انتخابی نظام پر عوامی اعتماد کو مضبوط کرسکتا ہے۔
Post a Comment