Milli Council Karnataka Plans Year-Long Education and Welfare Initiatives ملی کونسل کی نئی ٹیم کا ایک سالہ عملی منصوبہ

آل انڈیا ملی کونسل کرناٹک کا تعلیم، خدمت اور شہری بیداری پر ایک سالہ منصوبہ

نئی ٹیم نے نوجوانوں، خواتین، اوقاف، قانونی بیداری اور حکومتی رابطے کو ترجیحات میں شامل کیا

بنگلورو، 3 اکتوبر (حقیقت ٹائمز)

 آل انڈیا ملی کونسل کرناٹک کی نئی تشکیل شدہ ٹیم نے ریاست میں ملی، تعلیمی، سماجی اور فلاحی سرگرمیوں کو منظم انداز میں آگے بڑھانے کے لیے ایک سالہ ’’ملی خدمت ایکشن پلان 2026-27‘‘ کا اعلان کیا ہے۔ کونسل کے مطابق آئندہ ایک سال کے دوران تعلیم، نوجوانوں کی تربیت، خدمتِ خلق، خواتین کی شمولیت، اوقاف، قانونی بیداری، روزگار، شہری شعور اور حکومتی رابطے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔دارالعلوم سبیل الرشاد، بنگلورو میں ہفتہ 3 اکتوبر کو منعقدہ پریس کانفرنس میں کونسل کے صدر مفتی احمد ثمال رشادی اور جنرل سکریٹری محمد فیاض شریف سمیت دیگر ذمہ داران نے ایک سالہ منصوبے کی تفصیلات پیش کیں۔کونسل کے ذمہ داران نے کہا کہ تشکیل جدید کے بعد نئی مجلس عاملہ اور عہدیداران نے ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں اور تنظیمی ڈھانچے کو مزید مستحکم کرنے، ضلعی سطح پر سرگرمیوں کو وسعت دینے، کارکنان کی تربیت اور مختلف شعبہ جات کو فعال بنانے پر توجہ دی جائے گی۔ کونسل کے مطابق مقصد محض اجلاسوں اور پروگراموں کا انعقاد نہیں بلکہ عوامی مسائل کی نشاندہی، عملی خدمت، تعلیمی رہنمائی، نوجوانوں کی مثبت تربیت اور سماجی بہبود کو مستقل سرگرمیوں کی شکل دینا ہے۔ایکشن پلان کے تحت اکتوبر میں تنظیم سازی، نومبر میں عوامی رابطہ اور سماجی ضروریات کے جائزے، دسمبر میں کارکنان کی تربیت، جنوری میں نوجوانوں کی رضاکارانہ سرگرمیوں، فروری میں تعلیمی رہنمائی اور مارچ میں روزگار و ہنرمندی سے متعلق پروگراموں پر توجہ دی جائے گی۔ اپریل میں خدمتِ خلق، مئی میں صحت، جون میں خواتین کی تعلیم و تربیت، جولائی میں اوقاف اور قانونی بیداری، اگست میں شہری و سیاسی شعور اور حکومتی رابطے جبکہ ستمبر میں سالانہ کارکردگی کے جائزے اور آئندہ کے منصوبے کی تیاری کا پروگرام رکھا گیا ہے۔

کونسل نے نوجوانوں کو رضاکارانہ سرگرمیوں سے جوڑنے کے لیے ’’ٹیم خدمت بائز‘‘ کے تحت ایک منظم نیٹ ورک قائم کرنے کا منصوبہ بھی پیش کیا۔ اس کے ذریعے خون کا عطیہ، صفائی مہم، شجرکاری، مریضوں کی معاونت، تعلیمی خدمات، ہنگامی حالات میں رضاکارانہ امداد، روزگار کی رہنمائی اور شہری و سیاسی بیداری سے متعلق سرگرمیاں انجام دینے کی بات کہی گئی ہے۔تعلیم کے شعبے میں مستحق طلبہ کی شناخت، تعلیمی معاونت، حصولِ روزگار سے متعلق رہنمائی، وظائف کے حصول میں معاونت، مسابقتی امتحانات کی تیاری اور تربیت و سرپرستی کے پروگرام شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ نوجوانوں کے لیے ملازمت کے لیے درخواست تیار کرنے، انٹرویو کی تیاری، ڈیجیٹل مہارت، خود روزگاری اور پیشہ ورانہ منصوبہ بندی سے متعلق رہنمائی بھی فراہم کی جائے گی۔خواتین اور طالبات کے لیے تعلیمی بیداری، ہنرمندی، روزگار سے متعلق رہنمائی اور سماجی خدمت کے پروگرام منعقد کرنے کے ساتھ مختلف اضلاع میں خواتین رضاکاروں کی ٹیمیں تشکیل دینے کا بھی منصوبہ ہے۔

اوقاف اور قانونی امور کے سلسلے میں کونسل نے قانونی بیداری پروگرام منعقد کرنے، اوقافی املاک کے دستاویزی ریکارڈ کو درست رکھنے، معلوماتی نشستوں اور مشاورتی نظام کے قیام کی بات کہی۔کونسل کے مطابق اوقافی املاک کے تحفظ، ریکارڈ کی درستگی اور زیر التوا قانونی مسائل کے حل کے لیے متعلقہ سرکاری محکموں سے رابطہ کیا جائے گا۔سیاسی اور شہری بیداری کے شعبے میں کونسل نے آئینی و شہری حقوق سے متعلق آگاہی، ووٹر بیداری، انتخابی عمل میں ذمہ دارانہ شرکت اور نوجوانوں کو سماجی و سیاسی قیادت کے لیے تیار کرنے کو منصوبے کا حصہ بنایا ہے۔ کونسل کے مطابق اس کا مقصد کسی سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت نہیں بلکہ شہری و آئینی حقوق کے تحفظ، عوامی مسائل کی مؤثر نمائندگی اور جمہوری عمل میں ذمہ دارانہ شرکت کو فروغ دینا ہے۔ریاستی حکومت، ضلعی انتظامیہ، متعلقہ محکموں، عوامی نمائندوں اور قانونی ماہرین کے ساتھ رابطہ مضبوط کرنے کے لیے بھی ایک خصوصی رابطہ اور پیروی کا نظام قائم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ کونسل کے مطابق تعلیم، وظائف، روزگار، اوقاف، اقلیتی بہبود، سرکاری اسکیموں، قانونی تحفظ اور شہری سہولتوں سے متعلق زیر التوا مسائل کو مرتب کرکے متعلقہ حکام کے سامنے پیش کیا جائے گا اور ان پر پیش رفت کی نگرانی کی جائے گی۔

کونسل نے ’’ہر ماہ ایک خدمت‘‘ کے تحت ہر ماہ کم از کم ایک نمایاں خدمتِ خلق پروگرام منعقد کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔ اس کے تحت ضرورت کے مطابق طبی جانچ، خون کا عطیہ، مستحق خاندانوں کی معاونت، طلبہ کی مدد اور بزرگوں و مریضوں کی خدمت جیسے پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔کونسل کے مطابق ایک سالہ منصوبے کی پیش رفت کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا۔ ضلعی یونٹوں سے ماہانہ رپورٹ حاصل کی جائے گی، جبکہ ہر 3 ماہ بعد کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔ سال کے اختتام پر سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کرنے کی بھی کوشش کی جائے گی۔اس موقع پر کونسل نے اساتذہ، ڈاکٹروں، وکلا، ماہرین تعلیم، صنعت کاروں، سماجی کارکنوں، اہل خیر اور نوجوانوں سے اپنی صلاحیت، تجربہ، وقت اور وسائل کے ذریعے ملی و سماجی خدمت کی سرگرمیوں میں تعاون کی اپیل کی۔کونسل کے صدر مفتی احمد ثمال رشادی اور جنرل سکریٹری محمد فیاض شریف نے کہا کہ نئی ٹیم کے لیے آئندہ سال تنظیم سازی، تعلیم، خدمت، تربیت، سیاسی و شہری بیداری، حکومتی رابطے اور اجتماعی شعور کے فروغ کا سال ہوگا۔ ملی کونسل کے قومی عہدیداران میں سلیمان خان اور دیگر بھی موجود تھے ۔

0/Post a Comment/Comments