Manipal Hospital Performs Successful Kidney-Pancreas Transplant گردہ اور لبلبہ ٹرانسپلانٹ کی کامیاب سرجری

منی پال اسپتال میں گردہ اور لبلبہ ٹرانسپلانٹ کی کامیاب سرجری

ٹائپ 1 ذیابیطس اور گردوں کی ناکامی سے متاثرہ مریض کا بیک وقت دونوں اعضا کا ٹرانسپلانٹ

کولار، یکم اکتوبر (شبیر احمد)

منی پال اسپتال، بنگلورو کے ماہر ڈاکٹروں نے ٹائپ۔1 ذیابیطس اور گردوں کی ناکامی سے متاثرہ ایک مریض کا بیک وقت گردہ اور لبلبہ ٹرانسپلانٹ کامیابی کے ساتھ انجام دیا ہے۔ اسپتال کے ڈاکٹروں نے کولار میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران پیچیدہ طبی عمل اور مریض کی صحت یابی سے متعلق تفصیلات پیش کیں۔ڈاکٹروں کے مطابق دیوراج وی۔ ایم۔ گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے ٹائپ۔1 ذیابیطس میں مبتلا تھے اور بعد میں ان کے گردوں کی کارکردگی بھی شدید متاثر ہوئی، جس کے باعث انہیں باقاعدگی سے ڈائلیسس اور انسولین پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔ کامیاب ٹرانسپلانٹ کے بعد وہ صحت یابی کی جانب گامزن ہیں اور فی الحال ڈائلیسس اور مسلسل انسولین کے انحصار سے آزاد ہیں۔منی پال اسپتال کے شعبۂ امراضِ گردہ و ٹرانسپلانٹ میڈیسن کے چیف کنسلٹنٹ ڈاکٹر وشوناتھ ایس۔ نے بتایا کہ اسپتال میں ہر سال تقریباً 100 سے 120 گردہ ٹرانسپلانٹ کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گردوں کی کارکردگی شدید متاثر ہونے کی صورت میں بعض مریضوں کے لیے گردہ ٹرانسپلانٹ ضروری ہوجاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ٹائپ۔1 ذیابیطس کے مریضوں میں طویل عرصے تک بیماری رہنے کی صورت میں گردوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ صرف گردہ ٹرانسپلانٹ کے بعد بعض مریضوں کو انسولین کا استعمال جاری رکھنا پڑسکتا ہے، جبکہ موزوں مریضوں میں گردے کے ساتھ لبلبہ ٹرانسپلانٹ کرنے سے انسولین کی ضرورت ختم ہونے کا امکان ہوتا ہے۔

ڈاکٹر وشوناتھ ایس۔ کے مطابق گردہ اور لبلبہ کا بیک وقت ٹرانسپلانٹ ایک پیچیدہ اور نسبتاً کم انجام دیا جانے والا طبی عمل ہے۔ اس کے لیے مریض کی مکمل طبی جانچ، سرجری کے لیے موزونیت اور مناسب عطیہ کنندہ کی دستیابی اہم عوامل ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ اس نوعیت کا بیک وقت دو اعضا کا ٹرانسپلانٹ زندہ عطیہ کنندہ سے ممکن نہیں ہوتا، کیونکہ ایک زندہ شخص اپنے دونوں گردے عطیہ نہیں کرسکتا۔ اس لیے مناسب عطیہ کنندہ اور طبی مطابقت کا عمل اس علاج میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

پیچیدہ سرجری میں یورو آنکولوجی، روبوٹک سرجری اور گردہ ٹرانسپلانٹ کے ماہر ڈاکٹر محمد شاہد علی اور جنوبی خطے کے یورو آنکولوجی و روبوٹک سرجری شعبے کے سربراہ ڈاکٹر دیپک دوبے کی قیادت میں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے باہمی تال میل کے ساتھ خدمات انجام دیں۔ڈاکٹروں کے مطابق تقریباً 8 سے 10 گھنٹے جاری رہنے والی سرجری کے 21 دن بعد مریض کا طبی معائنہ کیا گیا۔ معائنے کے دوران دیوراج وی۔ ایم۔ کی صحت یابی کو اطمینان بخش قرار دیا گیا اور بتایا گیا کہ وہ معمول کی زندگی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔پریس کانفرنس میں گردہ ٹرانسپلانٹ کے ماہر ڈاکٹر محمد شاہد علی اور منی پال اسپتال کے شری ناتھ سمیت دیگر موجود تھے۔

0/Post a Comment/Comments