From Kurukshetra to Raj Ghat: Wisdom, Conscience and Justice کُروکشیتر سے راج گھاٹ تک: عقل، ضمیر اور انصاف

کُروکشیتر سے راج گھاٹ تک: کرشن کی حکمت، گاندھی کا ضمیر

امبیڈکر کے آئینی انصاف کے ساتھ عقل، اخلاق اور انسانیت کے امتزاج کی تلاش

(کرشن کی حکمت، گاندھی کا ضمیر اور ایک انسان۔ ہندوستانیت کےتناظرمیں)

از : شرف الدین سید بنگلور۔ 9342522346

کبھی کبھی ہمارے ملک کی تاریخ اپنی پوری کتاب بند کرکے ہمارے سامنے صرف دو تصویریں رکھ دیتی ہے۔ایک تصویر میں کُروکشیتر کا میدان ہے، دوسری میں راج گھاٹ کی خاموشی۔ایک طرف کرشن، دوسری طرف گاندھی۔صدیوں کا فاصلہ ہے، مگر سوال ایک ہی: انسان ناانصافی کے سامنے کیا کرے؟کیا وہ حالات کو سمجھے، انسانی کمزوریوں کو پہچانے اور مؤثر ترین تدبیر اختیار کرے؟ یا اپنے عمل کو ایسے اصول کا پابند بنائے جس سے مشکل ترین وقت میں بھی انحراف نہ کرے؟کرشن اور گاندھی شاید اسی سوال کے دو مختلف جواب ہیں۔ کرشن کی دنیا میں زندگی سیدھی لکیر نہیں۔ وہاں دھرم بھی ہے، ادھرم بھی؛ سچ بھی ہے، فریب بھی؛ رشتہ بھی ہے، اقتدار بھی اور سازش بھی۔مہابھارت کی روایت میں کرشن کی شخصیت ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ دنیا کو صرف ویسا دیکھنا کافی نہیں جیسی اسے ہونا چاہیے؛ پہلے اسے ویسا دیکھنا ہوگا جیسی وہ ہے۔ وہ حالات کو پڑھتے ہیں، انسانوں کی نفسیات کو سمجھتے ہیں اور وقت کی نزاکت کے مطابق حکمتِ عملی اختیار کرتے ہیں۔

یہی ان کی شخصیت کا وہ پہلو ہے جسے ہم حالات شناسی اور عملی حکمت کہہ سکتے ہیں۔لیکن یہاں ایک مشکل سوال بھی پیدا ہوتا ہے:کیا اچھا مقصد حاصل کرنے کے لیے ہر مؤثر ذریعہ جائز ہوسکتا ہے؟مہابھارت اس سوال کا آسان جواب نہیں دیتی۔گاندھی اسی مقام پر ایک مختلف راستہ اختیار کرتے ہیں۔ وہ بھی ظلم کو پہچانتے ہیں، طاقت کے کھیل کو سمجھتے ہیں، مگر کہتے ہیں کہ حقیقت کو سمجھ لینا اسے قبول کرلینا نہیں۔اگر ظلم عام ہے تو ظلم میں شریک ہونا ضروری نہیں۔اگر طاقتور کے پاس تشدد ہے تو کمزور کے پاس بھی تشدد ہی واحد جواب نہیں۔گاندھی نے سچ اور عدم تشدد کو محض ذاتی اخلاق نہیں رہنے دیا بلکہ سیاسی مزاحمت کا ذریعہ بنایا۔ ان کے لیے ستیہ گرہ میں احتجاج کے ساتھ خود ضبطی، قربانی اور مخالف کے ضمیر کو مخاطب کرنے کی کوشش بھی شامل تھی۔یہاں سوال بدل جاتا ہے: منزل حاصل کرنے سے زیادہ اہم یہ بھی ہے کہ منزل تک پہنچتے ہوئے ہم خود کیا بن جاتے ہیں۔شاید اسی لیے کرشن کی سیاست میں شطرنج اور گاندھی کی سیاست میں آئینہ نظر آتا ہے۔کرشن کا سوال: وہ کیا کرے گا؟گاندھی کا سوال:میں کیا کر رہا ہوں؟صرف پہلا سوال ہو تو سیاست چالاک ہوسکتی ہے۔صرف دوسرا ہو تو سیاست عملی دنیا کی پیچیدگیوں کے سامنے بے اثر پڑ سکتی ہے۔ایک مہذب معاشرے کو شاید دونوں کی ضرورت ہے: حالات کو سمجھنے والی عقل اور اپنے عمل کو پرکھنے والا ضمیر۔لیکن صرف اچھے انسانوں پر معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا۔

اخلاق ضروری ہے، مگر قانون بھی۔ضمیر ضروری ہے، مگر ادارے بھی۔ یہاں امبیڈکر یاد آتے ہیں۔گاندھی انسان کے اندر تبدیلی چاہتے تھے؛ امبیڈکر اس بات پر زور دیتے تھے کہ ایسا آئینی اور ادارہ جاتی نظام بھی ہو جو انسانی کمزوریوں کے باوجود بنیادی حقوق اور مساوات کی حفاظت کرسکے۔ایک انسان کے ضمیر کو مخاطب کرتا ہے، دوسرا اجتماعی زندگی کے لیے انصاف کا ڈھانچا بناتا ہے۔شاید جدید جمہوریت کو اسی امتزاج کی ضرورت ہے۔پھر ذرا کُروکشیتر کی طرف لوٹیں۔جنگ ہوتی ہے، فتح بھی ہوتی ہے، مگر فتح کے بعد صرف جشن نہیں، ماتم بھی ہے۔مہابھارت کی خصوصیت شاید یہی ہے کہ وہ جنگ کو صرف فتح کی داستان نہیں بناتی؛ جنگ کے بعد بچ جانے والے انسان کے سوال کو بھی زندہ رکھتی ہے۔اگر فتح کے بعد انسان اپنے اندر سے ہار جائے تو کیا اسے واقعی فتح کہا جاسکتا ہے؟گاندھی نے اس سوال کا اپنا جواب سچ اور عدم تشدد میں تلاش کیا۔کرشن کی روایت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیا کی پیچیدگیوں سے آنکھ نہیں چرائی جاسکتی۔گاندھی یاد دلاتے ہیں کہ پیچیدہ دنیا کا بہانہ بناکر ضمیر کو خاموش بھی نہیں کیا جاسکتا۔

شاید اسی لیے کرشن اور گاندھی میں سے کسی ایک کو چن لینا مسئلے کا حل نہیں۔آج دیش کو کرشن سے حالات شناسی، گاندھی سے اخلاقی حوصلہ اور امبیڈکر سے آئینی انصاف سیکھنے کی ضرورت ہے۔گوتم بدھ کی کرُنا(رحمدلی)، بسویشور کی سماجی برابری اور وویکانند کا خود اعتمادی کا پیغام بھی اسی انسانی سفر کے مختلف پہلو ہیں۔آج کا ہندوستان نہ کُروکشیتر ہے، نہ راج گھاٹ۔ یہ ایک پیچیدہ جمہوری معاشرہ ہے جہاں مختلف مذاہب، زبانیں، ذاتیں، نظریات اور ثقافتیں ایک آئینی نظام کے تحت ساتھ رہتی ہیں۔شاید یہی ہمارا اصل کُروکشیتر ہے۔ اس لیے سوال یہ نہیں کہ کرشن بڑے تھے یا گاندھی؟ اصل سوال یہ ہے: کیا ہم کرشن کی بصیرت کو گاندھی کے ضمیر اور امبیڈکر کے آئینی انصاف کے ساتھ جوڑ سکتے ہیں؟ کیونکہ صرف عقل ہو تو وہ چالاکی بن سکتی ہے۔ صرف اخلاق ہو تو وہ بے اثری کا شکار ہوسکتا ہے۔اور صرف قانون ہو تو وہ روح سے خالی ڈھانچا بن سکتا ہے۔انسان کی ضرورت : آنکھ بھی، آئینہ بھی۔عقل بھی، ضمیربھی۔راستہ بھی، منزل بھی۔اور ان سب کے درمیان انصاف بھی۔شاید یہی کُروکشیتر سے راج گھاٹ تک کا اصل سفر ہے۔جنگ کے میدان سے انسان کے اندر تک کا سفر۔اور آخرکار—انسان سے انسان بننے کا سفر۔

0/Post a Comment/Comments