خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کی تعلیمات انسانیت کی خدمت کا عملی درس ہیں
سدلگٹہ میں خطبہ جمعہ کے دوران غریبوں، ضرورت مندوں اور بے سہارا افراد کی مدد پر زور
سدلگٹہ، 4 اکتوبر (ایم اے تمیم پاشاہ)
مسجد بلال سدلگٹہ کے خطیب و امام حافظ ادریس رضا قادری نے کہا کہ موجودہ دور میں انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کے ساتھ بھی نامناسب سلوک کے واقعات سامنے آتے ہیں، جبکہ غریب، لاچار اور مفلس افراد اپنے جائز حقوق سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے انسانیت، ہمدردی اور خدمتِ خلق کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔وہ مسجد بلال سدلگٹہ میں خطبہ جمعہ کے دوران حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کی حیات و تعلیمات پر خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ نظام الدین اولیاءؒ برصغیر کے معروف صوفیائے کرام میں شمار ہوتے ہیں اور سلسلۂ چشتیہ کے عظیم بزرگوں میں ان کا نمایاں مقام ہے۔ آپؒ کی زندگی زہد و تقویٰ، سخاوت، اخلاص اور انسانیت سے محبت کی مثال تھی۔ بھوکوں کو کھانا کھلانا اور ضرورت مندوں کی مدد آپؒ کی تعلیمات کا اہم حصہ تھا۔
حافظ ادریس رضا قادری نے بتایا کہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کا اصل نام سید محمد تھا۔ آپؒ کے والد کا نام حضرت سید احمد بخاری اور والدہ کا نام بی بی زلیخا تھا۔ آپؒ کا خاندان وسطی ایشیا کے شہر بخارا سے ہندوستان منتقل ہوا تھا۔ کم عمری میں والد کے انتقال کے بعد آپؒ کی پرورش والدہ نے مشکل حالات کے باوجود دینی ماحول میں کی۔انہوں نے کہا کہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ نے ابتدائی تعلیم بدایوں میں حاصل کی اور بعد ازاں دہلی میں فقہ، حدیث، تفسیر اور عربی ادب کی تعلیم حاصل کی۔ تقریباً 20 سال کی عمر میں آپؒ نے حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ کے دستِ حق پرست پر بیعت کی۔ بعد میں حضرت بابا فریدؒ نے آپؒ کو خلافت عطا کی اور آپؒ نے اپنے مرشد کے حکم پر دہلی کے قریب غیاث پور میں قیام کیا۔انہوں نے کہا کہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ نے اپنی زندگی عبادت، مجاہدہ اور خدمتِ خلق میں گزاری۔ آپؒ کی خانقاہ ہر خاص و عام کے لیے کھلی رہتی تھی اور لنگر کے ذریعے غریبوں، مسافروں اور ضرورت مندوں کو کھانا فراہم کیا جاتا تھا۔ آپؒ کی زندگی کا بنیادی پیغام انسانوں سے محبت، ضرورت مندوں کی مدد اور مخلوقِ خدا کے ساتھ حسنِ سلوک تھا۔حافظ ادریس رضا قادری نے کہا کہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ نے دنیاوی اقتدار اور شاہی دربار سے دور رہتے ہوئے اپنی توجہ روحانی تربیت اور خدمتِ خلق پر مرکوز رکھی۔ ان کی حیاتِ طیبہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کو اقتدار اور دنیاوی مفادات کے بجائے اخلاق، تقویٰ، اخلاص اور انسانیت کی خدمت کو ترجیح دینی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کی تعلیمات کو عملی زندگی میں اختیار کرتے ہوئے بھوکوں کو کھانا کھلانے، غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے اور معاشرے میں محبت و بھائی چارے کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ یہی تعلیمات معاشرے میں انسانیت اور باہمی ہمدردی کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
Post a Comment