ہاسٹلوں میں طلبہ کی دیکھ بھال میں غفلت پر فوجداری مقدمات درج ہوں گے: ڈاکٹر پروین باگے واڑی
ناقص غذا، بنیادی سہولیات میں لاپرواہی اور جعلی بلوں پر سخت کارروائی کا انتباہ
کولار، 3 اکتوبر (شبیر احمد)
طلبہ کے ہاسٹلوں میں ناقص معیار کا کھانا فراہم کرنے، بنیادی سہولیات کی فراہمی میں لاپرواہی برتنے یا جعلی بل پیش کرکے مالی بے ضابطگی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور معاملہ صرف معطلی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری مقدمات بھی درج کیے جائیں گے۔ یہ انتباہ کولار ضلع پنچایت کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈاکٹر پروین پی. باگے واڑی نے ہاسٹل وارڈنز کو دیا۔وہ ضلع پنچایت کے میٹنگ ہال میں محکمہ سماجی بہبود، پسماندہ طبقات بہبود اور اقلیتی بہبود کے تحت چلنے والے ہاسٹلوں کے وارڈنز اور ضلع و تعلقہ سطح کے افسران کے جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ڈاکٹر پروین پی. باگے واڑی نے کہا کہ غریب اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے بچے تعلیم کے حصول کے لیے ہاسٹلوں میں رہتے ہیں۔ ہاسٹل وارڈنز کو چاہیے کہ وہ بچوں کی والدین کی طرح دیکھ بھال کریں اور ان کے مستقبل کے ساتھ کسی بھی صورت لاپرواہی نہ برتیں۔ انہوں نے ہدایت دی کہ وارڈنز کسی بھی وجہ سے ہاسٹل کا مرکزی مقام چھوڑ کر نہ جائیں۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ ایس ایس ایل سی اور پی یو سی امتحانات میں تقریباً 100 فیصد نتائج حاصل کرنے کے مقصد سے نومبر سے طلبہ کے لیے روزانہ صبح اور شام ایک ایک گھنٹے کی خصوصی کلاسیں لازمی طور پر منعقد کی جائیں۔ ہاسٹلوں میں طلبہ کی تقریباً 100 فیصد حاضری یقینی بنائی جائے اور بایومیٹرک حاضری لازمی طور پر درج کی جائے۔ کھانے کے بل بھی طلبہ کی حاضری کے مطابق ہی تیار کیے جائیں۔انہوں نے ہاسٹلوں میں روزانہ کا غذائی مینو نمایاں جگہ پر آویزاں کرنے اور مقررہ مینو کے مطابق معیاری و غذائیت سے بھرپور کھانا فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ طلبہ کو کھانا پیش کرنے سے قبل وارڈنز خود کھانے کا معیار اور ذائقہ جانچیں۔ خراب یا سڑی ہوئی سبزیوں کے استعمال سے گریز کیا جائے۔ کچن اور بیت الخلاء کو صاف ستھرا اور حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق رکھا جائے، جبکہ کھانا تیار کرنے والے عملے کے لیے ایپرن اور دستانوں کا استعمال لازمی قرار دیا گیا۔چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے طلبہ کی شکایات اور مسائل معلوم کرنے کے لیے ہر 75 بچوں پر ایک شکایت و مشورہ باکس نصب کرنے کی ہدایت دی۔ ہاسٹلوں میں بچوں کی مدد کے لیے 1098 چائلڈ ہیلپ لائن کے بارے میں بھی وسیع پیمانے پر آگاہی فراہم کرنے کو کہا۔انہوں نے تمام ہاسٹلوں میں سی سی ٹی وی کیمروں، آر او پینے کے پانی کے یونٹس اور گرم پانی کے گیزر کو فعال حالت میں رکھنے کی ہدایت دی۔ طالبات کے ہاسٹلوں میں انسی نیریٹرز کو بھی فعال رکھنے پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ فی الحال 42 ہاسٹلوں میں کمپاؤنڈ تعمیر کیے جاچکے ہیں اور باقی ہاسٹلوں میں بھی یہ کام مکمل کیا جائے۔انہوں نے اسٹاک رجسٹر سمیت تمام ضروری دستاویزات باقاعدگی سے اور روزانہ کی بنیاد پر برقرار رکھنے، طلبہ کے مسلسل طبی معائنے کرانے اور ہاسٹل احاطے کو منشیات سے پاک رکھنے کے لیے افسران کو چوکس رہنے کی ہدایت دی۔ والدین کے ساتھ بہتر رابطے کے لیے ہر دو سے تین ماہ میں ایک مرتبہ والدین کا اجلاس منعقد کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔اجلاس میں ضلع پنچایت کے ڈپٹی سکریٹری ٹی. کے. رمیش، محکمہ سماجی بہبود کے جوائنٹ ڈائریکٹر میلّارپا، محکمہ پسماندہ طبقات بہبود کی ضلعی افسر گیتما، تمام تعلقہ سطح کے سماجی بہبود افسران، تعلقہ پنچایتوں کے ایگزیکٹیو افسران، مختلف محکموں کے ضلعی و تعلقہ سطح کے افسران اور ہاسٹل وارڈنز موجود تھے۔
Post a Comment