بنگلورو کے شہری منصوبوں کے لیے دفاعی اراضی سے متعلق منظوریوں میں تیزی لانے کی درخواست
ڈی۔ کے۔ شیوکمار کی وزیرِ دفاع سے ملاقات؛ 730 ایکڑ دفاعی اراضی کو عوامی پارک کے طور پر مختص کرنے سمیت 7 اہم تجاویز پر فوری کارروائی کا مطالبہ
نئی دہلی، 28 ستمبر (حقیقت ٹائمز)
کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی۔ کے۔ شیوکمار نے پیر کو نئی دہلی میں مرکزی وزارتِ دفاع سے بنگلورو کے مختلف اہم شہری بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق زیرِ التوا منظوریوں اور دفاعی اراضی کے معاملات کو جلد حل کرنے کی درخواست کی۔ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ نے گریٹر بنگلورو اتھارٹی، بنگلورو کی پانچ شہری کارپوریشنوں اور دیگر شہری بلدیاتی اداروں کے ساتھ دفاعی اراضی سے متعلق معاملات میں وزارتِ دفاع کے تعاون کو سراہا اور سات اہم زیرِ التوا معاملات پر فوری کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔ان میں ایک اہم تجویز آئی بلور فائرنگ رینج کے قریب تقریباً 730 ایکڑ دفاعی اراضی کو بنگلورو کے لیے مستقل عوامی پارک اور سبز پٹی کے طور پر ترقی دینے سے متعلق ہے۔ ریاست نے تجویز دی ہے کہ اس اراضی کو تجارتی سرگرمیوں کے بغیر صرف عوامی پارک کے طور پر استعمال کیا جائے، جبکہ اس کی ملکیت دفاعی حکام کے پاس برقرار رہے۔وزیر اعلیٰ نے بنگلورو میں دفاعی اراضی پر واقع تقریباً 43.838 ایکڑ پر مشتمل 10 نوٹیفائیڈ کچی آبادیوں کے مسئلے کے لیے بھی عملی حل کی درخواست کی۔ ریاست نے بنگلورو میں مساوی قدر کی متبادل اراضی تلاش کرنے میں پیش آنے والی مشکلات کے پیش نظر مناسب مقام پر مساوی رقبے کی سرکاری اراضی فراہم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ مون سون کے دوران بارش اور پانی جمع ہونے کے مسائل کے باعث ان بستیوں کی مرمت اور ازسرنو ترقی کے لیے فوری اجازت دینے کی درخواست بھی کی گئی۔

ہوائی اڈوں کے اطراف عمارتوں کی بلندی کی پابندیوں پر نظرثانی
ریاست نے ایچ۔ اے۔ ایل ہوائی اڈے اور یلہنکا ایئر فورس اسٹیشن کے اطراف عمارتوں کی بلندی سے متعلق پابندیوں پر بھی نظرثانی کی درخواست کی ہے۔ ریاستی حکومت نے پروازوں کی سلامتی کو برقرار رکھتے ہوئے بنگلورو کی شہری ترقی کی ضروریات کو مدنظر رکھنے کی بات کہی اور تجویز دی کہ لازمی عدم اعتراض سرٹیفکیٹ کی شرط ہوائی اڈے کے حوالہ جاتی مقام سے 15 کلومیٹر کے دائرے تک محدود کی جائے، جبکہ موجودہ پابندی 20 کلومیٹر کے دائرے سے متعلق ہے۔ ریاست نے لوئر اگرم روڈ پر واقع سرکاری اسپتال کے قریب سے سروجاپور روڈ تک ایجی پورہ جنکشن کے راستے 24 میٹر چوڑی سڑک کی تعمیر کے لیے دفاعی اراضی فراہم کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔ بیلندور جھیل کے قریب مجوزہ سڑک سے مشرقی اور جنوبی بنگلورو کے درمیان رابطہ بہتر ہونے اور اندرونی و بیرونی رنگ روڈز پر ٹریفک کا دباؤ کم ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ ریاست نے بتایا کہ منصوبے کا ٹینڈر جاری ہوچکا ہے اور کام کا ٹھیکہ بھی دیا جاچکا ہے، اس لیے ابتدائی اجازت جلد دینے کی درخواست کی گئی ہے۔

مجوزہ بنگلورو اربن وہیکلر ٹوئن ٹنل منصوبے کے تحت ہیبال کے قریب ریمپ کی تعمیر کے لیے 2.039 ایکڑ دفاعی اراضی درکار ہے۔ ریاست نے میکری سرکل کے قریب دفاعی علاقوں سے ٹنل گزارنے کی اجازت بھی مانگی ہے، اس شرط کے ساتھ کہ سطحی دفاعی اراضی متاثر نہ ہو۔ اس سلسلے میں مجوزہ لائسنس فیس، جو اراضی کی لاگت کا 33 فیصد یعنی 60.72 کروڑ روپے بنتی ہے، کو کم کرکے 2 فیصد کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔اس کے علاوہ ایئرپورٹ روڈ یعنی بیلاری روڈ کو سروجرا لے آؤٹ سے جوڑنے والی 18 میٹر چوڑی لنک روڈ کے لیے 6.837 ایکڑ دفاعی اراضی فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ ریاست کے مطابق مجوزہ راستہ دفاعی سرگرمیوں میں خلل ڈالے بغیر تیار کیا گیا ہے۔ساتویں تجویز مہکری سرکل، بیلاری روڈ پر سڑک کی توسیع سے متعلق ہے، جس کے لیے گریٹر بنگلورو اتھارٹی نے ڈی جی کیو اے اور پی آر ٹی سی سے 0.775 ایکڑ اراضی حاصل کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ موجودہ دو لین والی سڑک کو تین لین میں تبدیل کرکے ہوائی اڈے کی سمت اہم جنکشن پر ٹریفک کے دباؤ کو کم کیا جاسکے۔ڈی۔ کے۔ شیوکمار نے وزارتِ دفاع سے ان تمام سات تجاویز پر ترجیحی بنیاد پر کارروائی کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ان معاملات کے حل سے بنگلورو کے شہری بنیادی ڈھانچے، رابطہ نظام اور منظم شہری ترقی میں مدد ملے گی۔
Post a Comment