Shivakumar Seeks Centre’s Intervention on Key Water Projects آبی منصوبوں پر مرکز سے شیوکمار کی مداخلت کی درخواست

آبی منصوبوں کی زیرِ التوا منظوریوں میں تیزی کے لیے مرکز سے شیوکمار کی مداخلت کی درخواست

مرکزی وزیرِ جل شکتی سے ملاقات، میکے داتو اور اپر بھدرا منصوبوں پر جلد کارروائی کا مطالبہ

نئی دہلی، 28 ستمبر (حقیقت ٹائمز)

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی۔ کے۔ شیوکمار نے مرکزی وزیرِ جل شکتی سی۔ آر۔ پاٹل سے ملاقات کرکے ریاست کے اہم آبی منصوبوں سے متعلق زیرِ التوا منظوریوں اور معاملات کو ترجیحی بنیاد پر حل کرنے کی درخواست کی ہے۔ ان میں 16,745 کروڑ روپے کے میکے داٹو ذخائر و پینے کے پانی کے منصوبے کی تفصیلی منصوبہ جاتی رپورٹ کی منظوری بھی شامل ہے۔مرکزی وزیر سے ان کی نئی دہلی میں رہائش گاہ پر ملاقات کے دوران شیوکمار نے کہا کہ پینے کے پانی، آبپاشی اور خشک سالی سے نمٹنے کی ضروریات کے لیے پانی سے متعلق زیرِ التوا معاملات پر بروقت فیصلے ضروری ہیں۔ ریاست نے مرکزی آبی کمیشن سے میکے داٹو منصوبے کی نظرثانی شدہ تفصیلی رپورٹ کا جلد جائزہ لینے کی درخواست کی ہے۔ کرناٹک نے یہ رپورٹ اور تعمیلی رپورٹ 13 اگست 2026 کو مرکزی آبی کمیشن کے سامنے پیش کی تھی۔ شیوکمار نے کرشنا آبی تنازعات ٹریبونل-II کے ایوارڈ کے سلسلے میں بھی مرکزی وزارتِ جل شکتی سے سپریم کورٹ میں ضروری کارروائی کرتے ہوئے خود کو مقدمے میں شامل کرنے اور ایوارڈ کو گزٹ میں جلد شائع کرانے کی درخواست کی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ معاملہ 23 ستمبر کو سپریم کورٹ کے سامنے آیا تھا اور زیرِ التوا سول اپیلوں کے ساتھ 4 نومبر 2026 کو سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایوارڈ کی جلد اشاعت سے کرناٹک کو اپنے مختص آبی حصے کے استعمال اور متعلقہ آبپاشی منصوبوں پر پیش رفت میں مدد ملے گی۔

اپر بھدرا منصوبے کے لیے مرکزی امداد کا مطالبہ

وزیر اعلیٰ نے اپر بھدرا منصوبے کے لیے بھی مرکزی امداد جاری کرنے کی درخواست کی۔ منصوبے کی نظرثانی شدہ تخمینی لاگت 21,167.93 کروڑ روپے ہے، جس کا جائزہ وزارتِ جل شکتی کی مشاورتی کمیٹی کے اجلاس میں 20 مارچ 2026 کو لیا گیا تھا۔انہوں نے مرکزی وزیر سے 16ویں مالیاتی کمیشن کو منصوبے کو پردھان منتری کرشی سینچائی یوجنا کے تحت شامل کرنے کی سفارش کرنے اور مرکزی امداد جلد جاری کرنے کی درخواست کی۔ کرناٹک کا کہنا ہے کہ بروقت مالی امداد سے خشک سالی سے متاثرہ وسطی کرناٹک کے علاقوں میں منصوبے کی پیش رفت برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ اپر بھدرا منصوبہ حالیہ ہفتوں میں بھی ریاستی حکومت کی ترجیحات میں شامل رہا ہے۔ ریاست نے آبپاشی کی ترقی، جدید کاری، سیلاب سے تحفظ اور پانی کے انتظام سے متعلق مختلف تجاویز پردھان منتری کرشی سینچائی یوجنا اور فلڈ مینجمنٹ اینڈ بارڈر ایریاز پروگرام کے تحت بھی پیش کی ہیں۔ شیوکمار نے مرکزی وزارتِ جل شکتی سے مرکزی آبی کمیشن کو ان تجاویز کا جلد جائزہ مکمل کرنے اور ضروری منظوری دینے کی ہدایت جاری کرنے کی درخواست کی۔

اسی طرح گوداوری۔کاویری لنک اور بیڈتی۔وردہ (ہیرے وڈتی) لنک منصوبوں کے سلسلے میں کرناٹک نے قومی آبی ترقیاتی ایجنسی کے ساتھ مفاہمت نامے پر دستخط کے لیے اصولی رضامندی ظاہر کی ہے، تاہم بعض شرائط اور تحفظات کے ساتھ۔ریاست نے اپنے مجوزہ آبی حصے پر نظرثانی اور دیگر استفادہ کنندہ ریاستوں کے لیے تجویز کردہ حصے کے مقابلے میں منصفانہ تقسیم یقینی بنانے کی درخواست کی ہے، جس میں کرناٹک کی کرشنا اور کاویری طاس سے متعلق ضروریات اور مفادات کو بھی مدنظر رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔ڈی۔ کے۔ شیوکمار نے وزارتِ جل شکتی، مرکزی آبی کمیشن اور قومی آبی ترقیاتی ایجنسی سے تمام زیرِ التوا معاملات کا ترجیحی بنیاد پر جائزہ لے کر ضروری کارروائی کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ان منصوبوں کی پیش رفت ریاست میں آبپاشی اور پینے کے پانی کی طویل مدتی ضروریات کے لیے اہم ہے۔

0/Post a Comment/Comments