اقلیتی بہبود کے منصوبوں پر بروقت عمل درآمد یقینی بنایا جائے: ڈی کے شیوکمار
تعلیمی امور اور ہاسٹل نظام کے جائزے کے لیے کمیٹیاں، مقامی سطح پر مسائل سننے کی ہدایت
بنگلورو، 8 ستمبر (حقیقت ٹائمز)
وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے عوامی نمائندوں اور افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے اپنے دائرۂ کار میں اقلیتی برادریوں کے مسائل کو سنیں اور ان کے حل کے لیے فوری طور پر اقدامات کریں۔ انہوں نے اقلیتوں کی تعلیمی ترقی پر خصوصی توجہ دینے اور حکومت کی جانب سے اعلان کردہ فلاحی منصوبوں کو مقررہ مدت میں نافذ کرنے پر زور دیا۔وزیر اعلیٰ نے منگل کو ودھان سودھا میں اقلیتی بہبود محکمہ کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتی برادری کی تعلیمی ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے۔ انہوں نے محکمہ کے مختلف منصوبوں کی پیش رفت اور ان کے نفاذ کا تفصیلی جائزہ لیا۔اجلاس میں اقلیتی ترقیاتی کارپوریشن کی جانب سے ریشم کی کاشت کے لیے فراہم کی جانے والی مالی امداد اور قرض کی سہولت پر بھی غور کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ ریشم کے کاشت کاروں سے براہِ راست مشاورت کرکے موجودہ منصوبے کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور ان کی ضروریات کے مطابق اسے مزید مؤثر بنایا جائے۔

ڈی کے شیوکمار نے اقلیتی بہبود محکمہ کے تحت کام کرنے والے تمام کارپوریشنوں اور بورڈوں کے صدور کو ریاست کے مختلف علاقوں کا دورہ کرنے اور مقامی اقلیتی برادریوں کے مسائل براہِ راست سننے کی ہدایت دی۔ انہوں نے بجٹ میں اعلان کردہ مولانا آزاد اسکولوں کو کرناٹک پبلک اسکول کی طرز پر ترقی دینے، خواتین کے لیے کالج شروع کرنے اور دیگر منصوبوں کو جلد از جلد عملی شکل دینے پر بھی زور دیا۔
تعلیم اور ہاسٹل نظام کے جائزے کے لیے کمیٹیاں
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ اقلیتوں کی تعلیم سے متعلق امور کا جائزہ لینے کے لیے راجیہ سبھا رکن منصور خان کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ اسی طرح اقلیتی ہاسٹلوں میں طلبہ کو فراہم کیے جانے والے کھانے کے معیار اور انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے شمالی کرناٹک میں رکن اسمبلی یاسر پٹھان اور جنوبی کرناٹک میں رکن کونسل بلقیس بانو کی صدارت میں الگ الگ کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں۔دونوں کمیٹیوں نے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے اپنی رپورٹ پیش کردی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان رپورٹوں کی بنیاد پر ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
اجلاس میں منتخب اقلیتی ہاسٹلوں میں طلبہ کے ذریعے خود میس چلانے کے منصوبے کو تجرباتی بنیاد پر نافذ کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اس اقدام کے ذریعے طلبہ کی شرکت کے ساتھ ہاسٹل کے کھانے کے انتظام کو بہتر بنانے اور نظام میں مزید شفافیت و ذمہ داری پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ نے محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے تیار کیے گئے مفید منصوبوں کو محض اعلانات تک محدود نہ رکھنے بلکہ انہیں مقررہ مدت کے اندر مؤثر طور پر نافذ کرنے کی سخت ہدایت دی۔اجلاس میں وزیر صحت و خاندانی بہبود، اقلیتی بہبود، حج و اوقاف یو ٹی قادر، وزیر خوراک، شہری رسد و صارفین امور رضوان ارشد، بنگلورو ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے چیرمین این اے حارث، سابق وزیر رحیم خان، وقف بورڈ کے صدر علی بابا حسینی، اقلیتی کمیشن کے صدر یو نثار احمد، اقلیتی ترقیاتی کارپوریشن کے صدر الطاف خان، عیسائی ترقیاتی کارپوریشن کے صدر پروفیسر جیفٹ، حج کمیٹی کے چیرمین ذوالفقار ٹپو، وزیر اعلیٰ کے اقتصادی مشیر ایل کے عتیق، محکمہ مالیات کے ایڈیشنل چیف سکریٹری رتیش کمار سنگھ اور محکمہ اقلیتی بہبود کے سکریٹری منوج جین سمیت دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔
Post a Comment