دوسری بار ایشیائی کھیلوں میں شاہین اختر کا تاریخی انتخاب
ہندوستان کی واحد خاتون آفیشیٹنگ ریفری کی حیثیت سے جاپان میں خدمات انجام دیں گی
ممبئی 10 ستمبر (جاوید جمال الدین)
ممبئی سے تعلق رکھنے والی معروف کیراٹیکا اور بین الاقوامی تکنیکی عہدیدار شاہین اختر نے ایک اور تاریخی اعزاز اپنے نام کرلیا ہے۔ وہ جاپان میں ستمبر 2026 میں منعقد ہونے والے 20ویں ایشیائی کھیلوں میں بطور آفیشیٹنگ ریفری خدمات انجام دینے والی واحد ہندوستانی خاتون ہوں گی۔ اس سے قبل چین میں منعقدہ 19ویں ایشیائی کھیلوں میں بھی وہ پہلی اور واحد ہندوستانی خاتون آفیشیٹنگ ریفری کی حیثیت سے ملک کی نمائندگی کرچکی ہیں۔سابق قومی چیمپئن اور 8ویں ڈگری بلیک بیلٹ شاہین اختر کو ہندوستان اور جنوبی ایشیا میں عالمی کیراٹے فیڈریشن اور ایشیائی کیراٹے فیڈریشن کے تحت اعلیٰ ترین اور سب سے زیادہ اہل خاتون ریفریوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ ملک کی سینئر ترین خاتون کیراٹیکا میں شامل ہیں اور ایتھلیٹ کے ساتھ ساتھ ریفری کی حیثیت سے بھی بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی نمائندگی اور خدمات انجام دے چکی ہیں۔
شاہین اختر نے 2008 میں اسکاٹ لینڈ میں منعقدہ دولت مشترکہ چیمپئن شپ اور ٹوکیو میں ہونے والی عالمی چیمپئن شپ میں بطور ایتھلیٹ ہندوستان کی نمائندگی کی۔ انہوں نے مسلسل 6 برس ریاستی سطح کا ٹائٹل اور مسلسل 4 برس قومی ٹائٹل اپنے نام کیا۔ ان کا شاندار کھیلوں کا سفر عالمی اور ایشیائی چیمپئن شپ، پریمیئر لیگ، یوتھ لیگ، دولت مشترکہ اور جنوبی ایشیائی چیمپئن شپ جیسے بین الاقوامی مقابلوں تک پھیلا ہوا ہے۔45 برس کی مسلسل مشق، محنت اور کیراٹے سے غیر معمولی وابستگی کے نتیجے میں شاہین اختر نے ہندوستانی کیراٹے میں ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔ اکتوبر 2019 میں چلی میں منعقدہ عالمی چیمپئن شپ کے دوران انہیں عالمی کیراٹے فیڈریشن کے ساتھ بطور ریفری ایک دہائی مکمل کرنے کے اعتراف میں کانسی کے اعزازی پن سے نوازا گیا تھا۔ وہ عالمی کیراٹے فیڈریشن کے خواتین کھیل کمیشن کی سابق رکن بھی رہ چکی ہیں۔

اپنے تازہ اعزاز پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے شاہین اختر نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ان کا سفر نوجوانوں، خصوصاً لڑکیوں، کو کیراٹے کو ایک سنجیدہ اور باوقار پیشہ ورانہ کیریئر کے طور پر اپنانے کی ترغیب دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور بہت سے نوجوان کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مناسب مواقع کے منتظر ہیں۔ ان کے مطابق یہ اعزاز کیراٹے کے کھیل کے لیے اپنی زندگی وقف رکھنے کے عزم کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ایشیائی کھیلوں کے بعد شاہین اختر آسٹریلیا میں منعقد ہونے والی عالمی کیراٹے فیڈریشن سیریز اے چیمپئن شپ میں بطور ریفری فرائض انجام دیں گی، جبکہ ان کا بین الاقوامی سفر اکتوبر میں پولینڈ میں ہونے والی عالمی چیمپئن شپ تک جاری رہے گا۔شاہین اختر اپنی اکیڈمی شاہین اکیڈمی آف مارشل آرٹس کے ذریعے نوجوان کھلاڑیوں کو تربیت بھی فراہم کررہی ہیں۔ ان کی اکیڈمی کیراٹے انڈیا آرگنائزیشن سے وابستہ ہے۔ ان کی طویل بین الاقوامی وابستگی، تجربے اور خدمات کو ہندوستان میں کیراٹے کے فروغ اور نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے اہم قرار دیا جاتا ہے۔
Post a Comment