SDPI Calls for Official Language Status for Urdu in Karnataka اردو کے سرکاری درجہ کے لیے ایس ڈی پی آئی کا مطالبہ

اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دینے کے لیے ایس ڈی پی آئی کا مطالبہ

سرکاری خدمات اور معلومات اردو میں فراہم کرنے پر زور

بنگلورو، 21 ستمبر (حقیقت ٹائمز)

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا، کرناٹک نے جنوبی کنڑ اور اڈپی اضلاع میں تلو کو اضافی سرکاری زبان کا درجہ دینے کے ریاستی حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اسی طرز پر اردو کو بھی پورے کرناٹک میں سرکاری زبان کا درجہ دینے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ وزیر اعلیٰ ڈی۔ کے۔ شیوکمار کے نام پیش کردہ یادداشت میں ایس ڈی پی آئی کرناٹک کے ریاستی صدر عبدالمجید نے تلو زبان کے تحفظ اور فروغ کے لیے طویل عرصے سے جدوجہد کرنے والے زبان کے کارکنوں، عوامی نمائندوں اور ساحلی خطے کے عوام کو مبارکباد پیش کی۔ نہوں نے کہا کہ تلو کو سرکاری سطح پر اضافی شناخت دینے کا فیصلہ لسانی تنوع اور جمہوری اقدار کے احترام کی عکاسی کرتا ہے۔

یادداشت میں ایس ڈی پی آئی نے کہا کہ اردو بھی کرناٹک کی اہم زبانوں میں شامل ہے اور اس کی ادبی، ثقافتی، تاریخی اور تعلیمی اہمیت ہے، اس لیے اردو بولنے والی آبادی کی دیرینہ ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے بھی سرکاری سطح پر مناسب شناخت دی جانی چاہیے۔ پارٹی کے مطابق مردم شماری کے اعداد و شمار میں اردو کرناٹک کی اہم مادری زبانوں میں شامل ہے اور ریاست کے تعلیمی نظام میں بھی اس کی نمایاں موجودگی ہے۔ایس ڈی پی آئی کے مطابق ریاست میں اس وقت 3,934 سرکاری اردو میڈیم اسکول اور 302 امدادی اردو میڈیم اسکول ہیں، اس طرح سرکاری اور امدادی اردو میڈیم اداروں کی مجموعی تعداد 4,236 بنتی ہے۔پارٹی نے ان اعداد و شمار کی بنیاد پر اردو میڈیم تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولتوں، تدریسی معیار اور خالی اسامیوں پر بھی توجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

یادداشت میں کہا گیا ہے کہ اردو محض بول چال کی زبان نہیں بلکہ اس کا اپنا رسم الخط، وسیع ادبی سرمایہ، صحافت، تعلیمی ادارے اور یونیورسٹی سطح پر مطالعات کا باقاعدہ نظام موجود ہے۔ ایس ڈی پی آئی کا موقف ہے کہ انتظامی سطح پر اردو کو زیادہ مؤثر شناخت ملنے سے اردو بولنے والے شہریوں کے لیے سرکاری خدمات، اطلاعات، درخواست فارم اور عوامی نوعیت کی معلومات اپنی مادری زبان میں حاصل کرنے کے امکانات بہتر ہوسکتے ہیں۔پارٹی نے آئین کی دفعہ 345 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاستوں کو سرکاری امور کے لیے ایک یا ایک سے زیادہ زبانوں کو اختیار کرنے کا آئینی اختیار حاصل ہے۔ یادداشت میں پڑوسی ریاست تلنگانہ کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہاں 2017 میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا اور کرناٹک بھی اپنی لسانی و انتظامی ضروریات کے مطابق اس طرز کے انتظام پر غور کرسکتا ہے۔

ایس ڈی پی آئی نے اپنے مطالبات میں اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دینے، مرحلہ وار انتظامی سطح پر اردو کے استعمال کا طریقۂ کار وضع کرنے، سرکاری دفاتر میں اردو میں درخواستیں وصول کرنے اور عوامی معلومات فراہم کرنے کی سہولتیں بڑھانے کے ساتھ اردو میڈیم اسکولوں میں خالی تدریسی اسامیوں کو پُر کرنے پر زور دیا۔اس کے علاوہ اردو میڈیم اداروں کے بنیادی ڈھانچے اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے، اردو ادب، ثقافت اور تحقیق کے لیے مزید تعاون فراہم کرنے اور سرکاری بھرتیوں، مسابقتی امتحانات اور عوامی خدمات سے متعلق معلومات اردو میں وسیع پیمانے پر دستیاب کرانے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ایس ڈی پی آئی نے واضح کیا کہ اردو کو سرکاری شناخت دینے سے ریاست میں کنڑ زبان کی بنیادی حیثیت متاثر نہیں ہوگی۔ پارٹی کے مطابق مختلف زبانوں کو مناسب احترام اور سہولت فراہم کرنا کرناٹک کی کثیر لسانی اور کثیر ثقافتی روایت کو مزید مضبوط کرسکتا ہے۔عبدالمجید نے یادداشت میں کہا کہ زبان کا احترام اس زبان سے وابستہ لوگوں کا احترام ہے اور تمام زبانوں کے لیے مساوی احترام جمہوریت کی خوبصورتی ہے۔ ایس ڈی پی آئی نے وزیر اعلیٰ ڈی۔ کے۔ شیوکمار سے اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دینے کے مطالبے پر ضروری قانونی اور انتظامی اقدامات شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔

0/Post a Comment/Comments