Mumbai Mourns Veteran Urdu Teacher and Scholar Muhammad Hussain Parkar اردو کو غیر اردو داں طبقے تک پہنچانے والا استاد رخصت

اردو کو غیر اردو داں طبقے تک پہنچانے والے محمد حسین پرکار نہیں رہے

استاد، ادیب، محقق اور مترجم کی رحلت، یومِ اساتذہ پر علمی و ادبی حلقوں میں سوگ

ممبئی، 7 ستمبر (جاوید جمال الدین) 

ممبئی کی معروف علمی، ادبی اور تدریسی شخصیت، ہندوستانی پرچار سبھا، گاندھی میموریل ریسرچ سینٹر کے سابق اردو افسر، سینئر معلم، ادیب، محقق، مترجم اور غیر اردو داں طبقے کو اردو زبان سے روشناس کرانے کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے والے محمد حسین پرکار مختصر علالت کے بعد 87 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کی اہلیہ کا تقریباً 2 برس قبل انتقال ہو چکا تھا، جبکہ پسماندگان میں 3 بیٹیاں شامل ہیں۔محمد حسین پرکار گزشتہ تقریباً ایک ماہ سے کھار کے ہندوجا اسپتال میں زیر علاج تھے۔ جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب انہوں نے اسپتال میں آخری سانس لی۔ ان کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی ممبئی کے علمی، ادبی، تدریسی اور سماجی حلقوں میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے ان کی وفات کو اردو زبان و ادب اور شعبۂ تعلیم کے لیے بڑا نقصان قرار دیا۔ بعد ازاں جنوبی ممبئی کے ناریل واڑی قبرستان میں ان کی تدفین عمل میں آئی، جہاں عزیز و اقارب، شاگردوں، دوستوں اور مختلف شعبوں سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد موجود تھی۔

یومِ اساتذہ پر ایک استاد کی رخصتی

محمد حسین پرکار کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو درس و تدریس سے ان کی غیر معمولی وابستگی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ بیماری اور علاج کے دوران بھی ان کا ذہن اپنے شاگردوں اور تعلیم کے شعبے سے جدا نہیں ہوا۔ نیم بے ہوشی کی حالت میں بھی وہ بعض اوقات اپنے طلبہ کو پکارتے اور تدریس سے متعلق گفتگو کرتے تھے۔ یہ ایک معنی خیز اتفاق ہے کہ اپنی زندگی کا بڑا حصہ تعلیم، تدریس اور شاگردوں کی رہنمائی میں گزارنے والے اس استاد کا انتقال یومِ اساتذہ کے موقع پر ہوا۔مرحوم شرافت، سادگی، تحمل اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کا پیکر تھے۔ ان کے قریبی احباب اور شاگردوں کے مطابق وہ نہایت نرم گفتار، شریف النفس اور کم آمیز طبیعت کے مالک تھے۔ وسیع علمی صلاحیتوں کے باوجود ان کی شخصیت میں نمود و نمائش کا کوئی شائبہ نہیں تھا۔ وہ خاموشی، یکسوئی اور پوری دلجمعی کے ساتھ اپنے علمی و تدریسی فرائض انجام دینے کو ترجیح دیتے تھے۔

کوکن سے ممبئی کے علمی حلقوں تک سفر

محمد حسین پرکار کی پیدائش 22 جون 1939ء کو کوکن کے تاریخی و خوبصورت موضع بانکوٹ، ضلع رتناگیری میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں کے اسکول میں حاصل کی، جبکہ ثانوی تعلیم داپولی کے نیشنل ہائی اسکول سے مکمل کی۔ میٹرک کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے ممبئی آئے اور اسماعیل یوسف کالج سے گریجویشن کیا۔ بعد ازاں ممبئی یونیورسٹی سے ایم اے اور بی ایڈ کی اسناد حاصل کیں۔تعلیم سے گہری وابستگی اور بالخصوص بالغوں کی تعلیم کے شعبے میں دلچسپی کے باعث انہوں نے مزید علمی تربیت حاصل کی اور انگلینڈ کی مانچسٹر یونیورسٹی سے بالغوں کی تعلیم میں اعلیٰ تعلیمی ڈپلومہ حاصل کیا۔ ان کی علمی تربیت نے بعد کے برسوں میں ان کے تدریسی سفر کو منفرد سمت عطا کی، خصوصاً غیر اردو داں افراد کو اردو زبان سکھانے کے میدان میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

تدریس سے بیرونِ ملک خدمات تک

عملی زندگی میں محمد حسین پرکار نے ممبئی کے معروف تعلیمی اداروں برہانی کالج اور مہاراشٹر کالج میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ وہ اپنے مضمون پر مضبوط گرفت اور ہر لیکچر کی بھرپور تیاری کے لیے معروف تھے۔ ان کے سابق ساتھیوں کے مطابق وہ کلاس روم کو محض رسمی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک علمی امانت سمجھتے تھے۔اسی دوران انہیں کویت کے ایک معروف ادارے میں ملازمت کی پیشکش ہوئی، جسے انہوں نے قبول کر لیا۔ وہ تقریباً 10 برس تک کویت میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دیتے رہے۔ ایک دہائی بعد ممبئی واپس آئے اور اپنی علمی و لسانی خدمات کا ایک نیا باب شروع کیا۔

ممبئی واپسی کے بعد وہ ہندوستانی پرچار سبھا، گاندھی میموریل ریسرچ سینٹر سے وابستہ ہوئے اور تحقیق افسر اردو کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ بعد میں ادارے میں ان کی شناخت ایک فعال، مخلص اور باصلاحیت اردو افسر کے طور پر قائم ہوئی۔

غیر اردو داں افراد کو اردو سکھانے کا خاموش مشن

محمد حسین پرکار کی سب سے نمایاں اور منفرد خدمات میں غیر اردو داں افراد کو اردو زبان سکھانا شامل تھا۔ ہندوستانی پرچار سبھا میں ان کے دور میں اردو سیکھنے کے خواہش مند ایسے افراد کے لیے کلاسیں شروع کی گئیں جن کا تعلق مختلف زبانوں، مذاہب اور پیشوں سے تھا۔ان کلاسوں کے ذریعے بڑی تعداد میں غیر اردو داں افراد نے اردو رسم الخط، زبان اور ادب سے واقفیت حاصل کی۔ ان کے شاگردوں میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔ پرکار صاحب کے نزدیک اردو محض ایک زبان نہیں بلکہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی روایت اور مختلف طبقات کے درمیان رابطے کا مؤثر ذریعہ تھی۔وہ نہایت صبر، محبت اور تحمل کے ساتھ اپنے شاگردوں کی رہنمائی کرتے تھے۔ ان کے شاگردوں کے مطابق وہ سوال کی نوعیت سے کبھی پریشان نہیں ہوتے تھے اور ہر سوال کا جواب اطمینان اور شفقت کے ساتھ دیتے تھے۔

ادب، تحقیق، تنقید اور ترجمے میں خدمات

محمد حسین پرکار نے درس و تدریس کے ساتھ تنقید، تحقیق، انشائیہ نگاری اور ترجمہ نگاری کے میدان میں بھی اپنی علمی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ ان کی تحریروں میں زبان و ادب کے ساتھ سماجی اور تہذیبی شعور بھی نمایاں تھا۔ہندوستانی پرچار سبھا کے ماہانہ رسالے ’’ہندوستانی زبان‘‘ میں ان کے اداریے اور مضامین خاصی اہمیت رکھتے تھے۔ وہ زبان و ادب کے مسائل کو سنجیدگی، سادگی اور عام فہم اسلوب میں پیش کرنے کا ہنر رکھتے تھے۔ان کی اہم تصانیف میں ’’اچھے ادب کی پہچان‘‘، ’’اردو ادب اور گاندھیائی افکار‘‘، ’’باقی نشاں ہمارا‘‘، ’’پریم چند: نئی جہتیں‘‘ اور ’’سعادت حسن منٹو: عصرِ حاضر کے آئینے میں‘‘ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے مراٹھی زبان کی متعدد کتابوں کو اردو میں منتقل کیا اور مراٹھی و اردو کے درمیان علمی و ادبی روابط کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

’’میں نے انہیں کبھی غصے میں نہیں دیکھا"

محمد حسین پرکار سے اردو سیکھنے والے گھوڑبندر، تھانے کے 85 سالہ باپو پٹوردھن نے اپنے استاد کی رحلت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین نہیں ہورہا کہ ان کے استاد اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ ان کے مطابق پرکار صاحب سے ان کے مراسم تقریباً 20 برس پرانے تھے اور اس طویل عرصے میں انہوں نے انہیں کبھی غصے میں نہیں دیکھا۔باپو پٹوردھن نے بتایا کہ طالب علمی کے زمانے میں انہوں نے بعض ایسے سوالات بھی کیے جن پر کوئی دوسرا شخص ناراض ہوسکتا تھا، لیکن پرکار صاحب ہمیشہ اطمینان اور تحمل سے جواب دیتے تھے۔ وقت کے ساتھ استاد اور شاگرد کا تعلق گھریلو رشتے میں تبدیل ہوگیا تھا۔ عید کے موقع پر وہ پرکار صاحب کے گھر جاتے، جبکہ دیوالی پر پرکار صاحب ان کی رہائش گاہ تشریف لاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہفتے میں کم از کم ایک مرتبہ دونوں کی گفتگو ضرور ہوتی تھی اور ان کا انتقال ان کے لیے ذاتی نقصان سے کم نہیں۔

ہندوستانی پرچار سبھا میں ایک محبت کرنے والی شخصیت

سینئر صحافی جاوید جمال الدین جاوید نے محمد حسین پرکار کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی پرچار سبھا سے ان کی وابستگی اردو زبان و ادب سے محبت کرنے والوں کے لیے ہمیشہ یادگار رہے گی۔انہوں نے بتایا کہ پرکار صاحب نے انہیں ہندوستانی پرچار سبھا کے اردو کتب خانے کا رکن بنوایا اور سہ ماہی رسالہ ’’ہندوستانی زبان‘‘ کی رکنیت حاصل کرنے میں بھی مدد کی۔ ان کے مطابق جنوبی ممبئی کے برنی روڈ پر واقع گاندھی میموریل کے دفتر جانے پر پرکار صاحب ہمیشہ خندہ پیشانی اور محبت سے پیش آتے تھے۔جاوید جمال الدین جاوید نے کہا کہ غیر اردو داں افراد کو اردو سکھانے کے لیے کلاسیں پرکار صاحب کے دور میں شروع ہوئیں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد ان کلاسوں میں داخلہ لیتے رہے۔ ان کے بقول یہ پرکار صاحب کی ایک خاموش مگر نہایت اہم خدمت تھی، جس کے ذریعے انہوں نے اردو کو ان لوگوں تک پہنچایا جن کا اردو زبان سے پہلے کوئی تعلق نہیں تھا۔

’’ایک نیک سیرت اور اصول پسند انسان‘‘

برہانی کالج کے سابق مدرس پروفیسر سید اقبال نے محمد حسین پرکار کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا تصور ذہن میں آتے ہی ایک نیک سیرت، شریف النفس اور اصول پسند انسان کی تصویر ابھرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پرکار صاحب نے کبھی اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ 1980ء کی دہائی میں برہانی کالج میں ان کی تقرری کے بعد ملاقات سے ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ انتہائی پڑھے لکھے اور اپنے پیشے سے مخلص انسان ہیں۔ ان کی دیانت داری اور اپنے کام کے تئیں سنجیدگی نے ان کے احترام میں اضافہ کیا۔پروفیسر سید اقبال کے مطابق پرکار صاحب ہر لیکچر کی مکمل تیاری کے ساتھ آتے اور انتہائی محنت سے پڑھاتے تھے۔ فارغ اوقات میں وہ اکثر لائبریری میں مطالعے میں مصروف نظر آتے۔ وہ مزاجاً کم آمیز اور طبیعتاً سادہ تھے، جس کے باعث شاید بہت سے لوگوں کو ان کی علمی شخصیت کی وسعت کا اندازہ نہیں ہوسکا۔انہوں نے بتایا کہ ہندوستانی پرچار سبھا میں خدمات کے دوران پرکار صاحب اپنے دوستوں اور شناسا افراد سے نہایت محبت سے ملتے، لائبریری سے کتابیں اور رسائل نکال کر دیتے اور اردو زبان و ادب سے متعلق ہر ممکن تعاون کرتے تھے۔

شاگردوں کے لیے خصوصی محبت

پروفیسر سید اقبال نے کہا کہ محمد حسین پرکار کے غیر اردو داں شاگرد ان کی زندگی کا ایک اہم حصہ تھے۔ انہوں نے اپنے غیر اردو داں شاگردوں کے لیے دل میں ایک خاص مقام بنا رکھا تھا اور یہ خدمت برسوں تک خاموشی کے ساتھ جاری رکھی۔ان کے مطابق پرکار صاحب شہرت کے طلب گار نہیں تھے اور نہ ہی اپنی خدمات کا چرچا پسند کرتے تھے، لیکن ان کے ذریعے اردو زبان سے محبت کرنے والوں کی ایک ایسی نسل تیار ہوئی جس کا اردو سے پہلے کوئی تعلق نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج پرکار صاحب ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن اپنے شاگردوں کے دلوں اور اپنی علمی و ادبی خدمات کے ذریعے وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔محمد حسین پرکار کی رحلت کے ساتھ ممبئی کے علمی، ادبی اور تدریسی حلقے سے ایک ایسی شخصیت رخصت ہوگئی جس نے اپنی زندگی تدریس، تحقیق، تنقید، تصنیف اور ترجمے کے ذریعے علم و ادب کی خدمت میں گزاری۔ تاہم ان کی سب سے نمایاں شناخت یہ رہے گی کہ انہوں نے اردو کو صرف اردو داں طبقے تک محدود رکھنے کے بجائے غیر اردو داں افراد تک پہنچانے کے لیے عملی جدوجہد کی۔انہوں نے زبان کو محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ مختلف طبقات اور تہذیبوں کے درمیان رابطے کا وسیلہ سمجھا۔ سادگی، دیانت، اصول پسندی، علم دوستی اور تدریس سے بے لوث وابستگی ان کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے۔ ان کی رحلت ممبئی کے علمی و ادبی حلقوں کے لیے یقیناً ایک بڑا نقصان ہے، تاہم ان کے شاگرد، تصانیف، تراجم اور اردو زبان کے فروغ کے لیے انجام دی گئی خدمات انہیں طویل عرصے تک زندہ رکھیں گی۔

0/Post a Comment/Comments