کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب، پگڑی اور دیگر محدود مذہبی علامتوں کی اجازت
اقلیتی ڈائریکٹوریٹ کا اپنے زیرِ انتظام اسکولوں اور کالجوں کو نئی ہدایات پر عمل کا حکم
بنگلورو، 9 ستمبر (حقیقت ٹائمز)
ریاستی حکومت نے ریاست کے تمام سرکاری، امدادی اور نجی اسکولوں، تعلیمی اداروں اور پری یونیورسٹی کالجوں میں یکسانیت، مساوات، سیکولرازم اور سب کے لیے یکساں تعلیم کو یقینی بنانے کے مقصد سے لباس اور روایتی مذہبی علامتوں سے متعلق نئی ہدایات جاری کی ہیں۔ حکومت نے 5 فروری 2022 کو جاری سابقہ حکم کو واپس لیتے ہوئے 13 مئی 2026 کو نیا حکم جاری کیا تھا، جس پر عمل درآمد کے لیے اقلیتی بہبود محکمہ کے تحت چلنے والے رہائشی اسکولوں، کالجوں اور مولانا آزاد اسکولوں کو بھی ہدایت دی گئی ہے۔حکومت کے نئے حکم کے مطابق تعلیمی اداروں میں مقررہ یونیفارم برقرار رہے گا اور طلبہ کو ادارے کی جانب سے مقررہ یونیفارم پہننا لازمی ہوگا۔ تاہم مقررہ یونیفارم کے ساتھ محدود روایتی اور عقیدے یا مذہبی طریقۂ کار سے متعلق علامتیں استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، بشرطیکہ ان سے یونیفارم کی بنیادی نوعیت متاثر نہ ہو اور ادارے کے نظم و ضبط، سلامتی، طلبہ کی شناخت، تدریسی ماحول یا عوامی نظم و ضبط میں خلل نہ پڑے۔حکم میں واضح کیا گیا ہے کہ طلبہ کی جانب سے عام طور پر استعمال کی جانے والی بعض روایتی علامتوں، جن میں پگڑی، جنیو یا مقدس دھاگا، شیو دھاگا، رودراکشی، سرپوش اور حجاب سمیت اسی نوعیت کی دیگر محدود روایتی و مذہبی علامتیں شامل ہوسکتی ہیں، کو مقررہ شرائط کے تحت استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔
حکومت نے واضح کیا کہ کسی طالب علم کو ایسی روایتی یا عقیدے پر مبنی علامت پہننے کی وجہ سے تعلیمی ادارے، کلاس روم، امتحانی کمرے یا کسی تعلیمی سرگرمی میں داخلے سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح کسی طالب علم کو ایسی علامت پہننے کے لیے مجبور بھی نہیں کیا جاسکتا اور حکومت کی جانب سے اجازت دی گئی محدود روایتی علامت کو زبردستی اتارنے کے لیے بھی مجبور نہیں کیا جاسکے گا۔البتہ امتحانات کے دوران قومی اور ریاستی سطح پر نافذ لباس سے متعلق ضابطوں کو متعلقہ حکام حالات کے مطابق نافذ کرسکیں گے۔ حکومت نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ اجازت دی گئی علامتیں طلبہ کی شناخت میں رکاوٹ نہیں بننی چاہئیں اور سلامتی یا نظم و ضبط کے تقاضوں سے متصادم نہیں ہونی چاہئیں۔نئی ہدایات میں کہا گیا ہے کہ اس حکم پر عمل درآمد مذہبی غیر جانب داری، مساوات، عدم امتیاز، انسانی وقار، بھائی چارے، سیکولرازم، سائنسی مزاج، عقلی فکر اور تعلیم کے حق جیسے آئینی اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔حکومت نے تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ کسی بھی طالب علم کے ساتھ مذہب، روایت یا لباس کی بنیاد پر امتیازی یا توہین آمیز رویہ اختیار نہ کیا جائے۔ اسکول ترقی و نگرانی کمیٹیوں، کالج ترقیاتی کمیٹیوں، انتظامی بورڈز، اداروں کے سربراہان اور متعلقہ افسران کو طلبہ کے ساتھ باوقار اور مساوی سلوک یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
حکم میں بسونا کے پیغام ’’ایو نموّا‘‘ یعنی ’’یہ بھی ہمارا ہے‘‘ کے جذبۂ شمولیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں ایسا ماحول قائم کیا جائے جہاں کسی بھی طالب علم کو تعلیم سے محروم نہ ہونا پڑے اور ساتھ ہی ادارے کا نظم و ضبط بھی برقرار رہے۔حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ نئے حکم کے منافی کوئی سابقہ سرکلر، فیصلہ، ہدایت، روایت یا ادارہ جاتی حکم قابلِ عمل نہیں ہوگا۔ محکمہ اسکولی تعلیم و خواندگی کے کمشنر اور محکمہ پری یونیورسٹی تعلیم کے ڈائریکٹر کو ریاست کے تمام تعلیمی اداروں میں نئی ہدایات پر عمل درآمد کے لیے ضروری احکامات جاری کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ادھر اقلیتی ڈائریکٹوریٹ نے بھی 29 جولائی 2026 کو جاری سرکلر کے ذریعے اپنے زیر انتظام تمام رہائشی اسکولوں، کالجوں اور مولانا آزاد اسکولوں کو حکومت کے 13 مئی 2026 کے نئے حکم پر لازمی طور پر عمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ سرکلر پر اقلیتی ڈائریکٹوریٹ کی ڈائریکٹر یاسمین بیگم جی والیکر کے دستخط موجود ہیں۔
Post a Comment