سہارنپور کلکٹوریٹ کی قدیم مسجد کا انہدام قابلِ مذمت: آل انڈیا ملی کونسل
مبینہ رات کی کارروائی پر عدالتی جائزے کا مطالبہ، عبادت گاہوں اور وقف املاک کے تحفظ پر زور
نئی دہلی، 6 ستمبر (حقیقت ٹائمز)
آل انڈیا ملی کونسل نے اتر پردیش کے ضلع سہارنپور کے کلکٹوریٹ احاطے میں واقع ایک صدی سے زائد قدیم مسجد کو مبینہ طور پر رات کی تاریکی اور صبح سویرے بھاری پولیس فورس کی موجودگی میں منہدم کیے جانے کے واقعہ پر شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کارروائی کی سخت مذمت کی ہے۔کونسل کے مرکزی دفتر سے جاری ایک بیان میں قومی معاون جنرل سکریٹری سلیمان خان نے الزام عائد کیا کہ سہارنپور کلکٹوریٹ کی تاریخی مسجد، جو ان کے مطابق برطانوی دور میں 1911 سے قبل قائم ہوئی تھی، کو اچانک انہدامی کارروائی کے ذریعے مسمار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی قدیم عبادت گاہ کے خلاف اس طرح کی کارروائی آئینی حقوق اور قانونی عمل کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا کرتی ہے۔سلیمان خان نے عبادت گاہوں سے متعلق 1991 کے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے تحت 15 اگست 1947 کو موجود مذہبی مقامات کی حیثیت کو تبدیل کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ مذکورہ مسجد ایک صدی سے زائد عرصے سے قائم تھی اور مسلسل استعمال کی بنیاد پر وقف جائیداد کے طور پر قانونی تحفظ کی مستحق تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انتظامیہ کی کارروائی نے مذکورہ قانونی اور آئینی اصولوں کو نظرانداز کیا۔انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ مسجد انتظامیہ قانونی طور پر عدالت عالیہ سے رجوع کرنے کی تیاری کررہی تھی، لیکن اسے مناسب قانونی موقع فراہم کیے بغیر عجلت میں انہدامی کارروائی انجام دی گئی۔ ان کے مطابق اس دوران عوامی نمائندوں اور مقامی باشندوں کو محدود کرکے احتجاج یا عوامی ردعمل کی آواز کو دبانے کی کوشش بھی کی گئی۔
آل انڈیا ملی کونسل نے مطالبہ کیا کہ مذکورہ انہدامی کارروائی کا فوری طور پر اعلیٰ سطحی عدالتی جائزہ لیا جائے اور کارروائی کے قانونی جواز، طریقۂ کار اور انتظامی فیصلوں کی مکمل جانچ کی جائے۔کونسل نے اقلیتوں کی عبادت گاہوں، تاریخی مذہبی مقامات اور وقف املاک کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عبادت گاہوں سے متعلق 1991 کے قانون پر اس کی روح کے مطابق سختی سے عمل درآمد ہونا چاہیے۔ کونسل نے تمام جمہوری اور انصاف پسند قوتوں سے بھی اپیل کی کہ وہ آئینی دائرے میں رہتے ہوئے ایسے واقعات کے خلاف آواز بلند کریں۔سلیمان خان نے کہا کہ آل انڈیا ملی کونسل انصاف کے حصول کے لیے تمام دستیاب قانونی اور آئینی راستے اختیار کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے آئینی ڈھانچے اور قانون کی بالادستی کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کو خاموشی سے قبول نہیں کیا جائے گا۔
Post a Comment