عدالت کے حکم اور محکمہ کی ہدایات کے باوجود 8 برس سے تقرری زیرِ التوا
امیرالدین شراہٹی کے لیے افسر کوڈلی پیٹ نے وزیر اعلیٰ سے فوری کارروائی کی اپیل کی
داونگیرے، 8 ستمبر (حقیقت ٹائمز)
ایس ڈی پی آئی کے ریاستی جنرل سکریٹری اور داونگیرے جنوبی اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخاب کے امیدوار افسر کوڈلی پیٹ نے الزام عائد کیا ہے کہ دھارواڑ کے امیرالدین شراہٹی کو ہمدردانہ بنیاد پر ملازمت فراہم کرنے کے سلسلے میں عدالت کے واضح حکم اور محکمہ اسکولی تعلیم کی ہدایات کے باوجود گزشتہ 8 برس سے تقرری نہ ہونا متعلقہ حکام کی غفلت کا ثبوت ہے۔افسر کوڈلی پیٹ نے اس سلسلے میں کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کو خط روانہ کرتے ہوئے امیرالدین شراہٹی کو فوری طور پر ہمدردانہ بنیاد پر ملازمت فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ دھارواڑ ضلع کے کسی بھی نجی امداد یافتہ کالج میںدستیاب غیر تدریسی خالی آسامی پر اہل امیدوار امیرالدین شراہٹی کی تقرری کے لیے متعلقہ حکام کو فوری ہدایات جاری کی جائیں۔
امیرالدین شراہٹی کے والد شمس الدین شراہٹی دھارواڑ کے جے ایس ایس پری یونیورسٹی پیشہ ورانہ تعلیم شعبہ میں اٹینڈنٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ دورانِ ملازمت 11 ستمبر 2011 کو 54 برس کی عمر میں ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کے زیر کفالت بیٹے امیرالدین شراہٹی بی اے کے فارغ التحصیل ہیں اور فی الحال بے روزگار ہیں۔
اس معاملے میں کرناٹک ہائی کورٹ کی دھارواڑ بنچ نے رٹ عرضی نمبر 106240/2015 میں 8 مارچ 2018 کو جاری کردہ حکم کے ذریعے متعلقہ حکام کو چار ماہ کے اندر امیرالدین کو ہمدردانہ بنیاد پر ملازمت فراہم کرنے کی ہدایت دی تھی۔بعد ازاں محکمہ اسکولی تعلیم، پری یونیورسٹی شعبہ کے ڈائریکٹر کے دفتر سے بھی 30 جنوری 2025 اور 9 جون 2026 کو جاری کردہ احکامات میں امیرالدین کی ہمدردانہ بنیاد پر تقرری کے سلسلے میں دھارواڑ ضلع کے نجی امداد یافتہ کالجوں میں دستیاب غیر تدریسی خالی آسامیوں سے متعلق تجاویز حاصل کرکے پیش کرنے کی ہدایت متعلقہ حکام کو دی گئی تھی۔افسر کوڈلی پیٹ نے کہا کہ عدالت کے حکم اور محکمہ کی مسلسل ہدایات کے باوجود اب تک کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ ملازمت کے انتظار میں امیرالدین کو کئی برس سے مختلف سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پڑ رہے ہیں، جس کے باعث ان کے خاندان کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدالت کے حکم کے باوجود کسی امیدوار کو برسوں تک انتظار کرانا انتہائی ناانصافی ہے۔ ہمدردانہ بنیاد پر تقرری کا بنیادی مقصد ہی ایسے خاندان کی مدد کرنا ہے جو اپنے کفیل کی وفات کے بعد مالی مشکلات سے دوچار ہوجاتا ہے۔ اس لیے اہل امیدوار کی تقرری میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔وزیر اعلیٰ کو روانہ کردہ اپنے خط میں افسر کوڈلی پیٹ نے عدالت کے حکم اور محکمہ کی ہدایات کو مدنظر رکھتے ہوئے دھارواڑ ضلع کے کسی بھی نجی امداد یافتہ کالج میں دستیاب غیر تدریسی آسامی پر امیرالدین شراہٹی کو ہمدردانہ بنیاد پر مقرر کرنے کے لیے متعلقہ حکام کو فوری احکامات جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے وزیر اعلیٰ سے اس معاملے میں حکومت کی سطح پر فوری مداخلت کرتے ہوئے کئی برس سے ملازمت کے منتظر امیرالدین شراہٹی کو انصاف فراہم کرنے اور عدالت کے حکم پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے کی اپیل کی۔
Post a Comment