گنا میں بزرگ شہری کی مبینہ تذلیل پر ملی کونسل کا اظہارِ تشویش
واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات، ملوث افراد کی گرفتاری اور متاثرہ شہری کے تحفظ کا مطالبہ
نئی دہلی، 10 ستمبر (حقیقت ٹائمز)
آل انڈیا ملی کونسل کے قومی معاون جنرل سکریٹری سلیمان خان نے مدھیہ پردیش کے ضلع گنا میں ایک بزرگ مسلم شہری کی سرِعام تذلیل، ان سے ناک رگڑوانے اور مبینہ طور پر تشدد کیے جانے کے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔آل انڈیا ملی کونسل کے مرکزی دفتر سے جاری پریس بیان میں سلیمان خان نے کہا کہ گائے کو لات مارنے کے مبینہ الزام کی بنیاد پر بعض عناصر کی جانب سے ایک بزرگ شہری کو عوامی مقام پر ذلیل کرنا، ان سے سجدے کی مانند انداز میں دندوت کروانا اور ان کی تذلیل کرنا قانون کی بالادستی، انسانی وقار اور بنیادی شہری حقوق پر سنگین حملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک جمہوری اور آئینی ملک میں کسی فرد، تنظیم یا ہجوم کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے اور خود عدالت بن کر کسی شہری کی تذلیل یا سزا دینے کا اختیار حاصل نہیں۔ اگر کسی شخص کے خلاف کوئی جرم یا الزام تھا تو اس کی تحقیقات اور قانونی کارروائی کا اختیار صرف متعلقہ قانونی اداروں اور عدالتوں کو ہے۔
سلیمان خان نے مزید کہا کہ ہجوم کے ذریعے آئین اور قانون کو نظرانداز کرتے ہوئے کسی بزرگ شہری کی اس طرح تذلیل کرنا ملک میں قانون کی حکمرانی اور نظم و ضبط کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا کرتا ہے۔ ایسے واقعات معاشرے میں خوف اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا کرنے کے ساتھ قانون پر عوام کے اعتماد کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔آل انڈیا ملی کونسل نے حکومتِ مدھیہ پردیش اور متعلقہ پولیس انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ تذلیل اور مبینہ تشدد میں ملوث تمام افراد کی شناخت کرکے انہیں فوری گرفتار کیا جائے اور قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔کونسل نے متاثرہ بزرگ شہری اور ان کے اہل خانہ کی مکمل سلامتی اور تحفظ یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔سلیمان خان نے واضح کیا کہ آئین اور قانون کی حکمرانی کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ایسے عناصر کے خلاف بروقت اور مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو اس سے معاشرے میں قانون شکنی اور انارکی کے رجحانات کو تقویت مل سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ معاملے میں کسی قسم کی جانبداری کے بغیر قانون کے مطابق کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔
Post a Comment