Educated, Skilled Youth Can Face Future Challenges: UT Khader مسلمانوں سے اگلے 50 سال کی منصوبہ بندی پر زور

مسلمان موجودہ مسائل سے آگے بڑھ کر اگلی نسلوں کی منصوبہ بندی کریں: یو ٹی قادر

تعلیم، ہنر اور جدید ٹیکنالوجی کو ترجیح دینے پر زور، طالبات کی ترقی کو معاشرتی پیش رفت کی بنیاد قرار دیا

ہبلی، 12 ستمبر (حقیقت ٹائمز)

ریاستی وزیر صحت، اقلیتی بہبود، اوقاف اور حج یو ٹی قادر نے آج مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ اتحاد و اتفاق کو مضبوط بنانے کے ساتھ تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ مرکوز کریں اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے صرف موجودہ حالات تک محدود رہنے کے بجائے اگلے 50 سال کا واضح وژن سامنے رکھتے ہوئے تیاری کریں۔ انہوں نے کہا کہ بدلتی ہوئی دنیا میں وہی معاشرے ترقی کرتے ہیں جو تعلیم، ہنر، ٹیکنالوجی اور دوراندیش منصوبہ بندی کو اپنی ترجیحات میں شامل کرتے ہیں۔یو ٹی قادر نے اولڈ ہبلی کے بہار باڑہ میں واقع ’’اشرفِ سمنہ اکیڈمی‘‘ کے زیر اہتمام طالبات کے تعلیمی ادارے ’’الجامعۃ الاشرفیہ خدیجۃ الکبریٰ للبنات‘‘ کا دورہ کیا اور طالبات سے تفصیلی تبادلۂ خیال کرتے ہوئے تعلیم، خواتین کو بااختیار بنانے، اتحاد و اتفاق اور جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہونے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ آج دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور تقریباً ہر اہم شعبے میں خواتین اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ تعلیم، طب، سائنس، ٹیکنالوجی، انتظامیہ، کاروبار اور دیگر میدانوں میں خواتین کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ایسے حالات میں مسلم معاشرے کی لڑکیوں کو بھی معیاری تعلیم، جدید علوم اور پیشہ ورانہ مہارتوں سے آراستہ کرنا ضروری ہے تاکہ وہ مستقبل میں ہر شعبے میں مؤثر کردار ادا کرسکیں۔

یو ٹی قادر نے کہا کہ مسلمانوں کو اپنی اجتماعی ترقی کے لیے اتحاد و اتفاق کو مضبوط بنانے کے ساتھ تعلیم اور تربیت کو بنیادی ترجیح بنانا ہوگا۔ محض موجودہ مسائل کے حل پر توجہ دینے کے بجائے آنے والی نسلوں کے بارے میں طویل مدتی سوچ اپنانا ضروری ہے۔ اگلے 50 سالوں میں ہماری نسل کہاں کھڑی ہو، نوجوان کن شعبوں میں آگے بڑھیں اور ہماری بیٹیاں کن مواقع سے فائدہ اٹھائیں، اس کے لیے آج ہی سے منصوبہ بندی اور تیاری شروع ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ تعلیم صرف روزگار حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ شعور، خوداعتمادی، فیصلہ سازی کی صلاحیت، اخلاقی تربیت اور معاشی خودکفالت کا بنیادی وسیلہ ہے۔ بالخصوص اقلیتی طبقے کی لڑکیوں کو تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہر خاندان اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ایک تعلیم یافتہ لڑکی نہ صرف اپنے مستقبل کو سنوارتی ہے بلکہ پورے خاندان کی ترقی اور آنے والی نسلوں کی بہتر تربیت میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔وزیر موصوف نے کہا کہ موجودہ دور تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ مصنوعی ذہانت، رقمی خدمات، جدید مواصلاتی ذرائع اور نئی سائنسی پیش رفت نے تعلیم اور روزگار کے میدان میں بے شمار نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ اس لیے طالبات کو دینی اور عصری تعلیم کے ساتھ سائنس، ٹیکنالوجی، کمپیوٹر اور دیگر جدید علوم سے بھی واقف کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے تعلیمی اداروں پر زور دیا کہ وہ طالبات میں صرف نصابی علم پیدا کرنے کے بجائے تحقیق، تخلیقی صلاحیت، تنقیدی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور جدید ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال کا شعور بھی پیدا کریں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم و تربیت، ٹیکنالوجی اور اخلاقی اقدار کا امتزاج ہی مستقبل کی مضبوط نسل تیار کرسکتا ہے۔

یو ٹی قادر نے کہا کہ مسلم معاشرے کی ترقی کے لیے لڑکیوں کی تعلیم کو ثانوی حیثیت دینے کے بجائے اسے خاندان کی اولین ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔ جب خواتین تعلیم یافتہ، ہنرمند اور معاشی طور پر خودکفیل ہوں گی تو اس کے مثبت اثرات خاندان سے لے کر پورے معاشرے تک محسوس ہوں گے۔انہوں نے ’’اشرفِ سمنہ اکیڈمی‘‘ کی جانب سے طالبات کو تعلیم فراہم کرنے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے ادارے دینی و عصری تعلیم کے ساتھ طالبات کو مستقبل کے چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے طالبات کو مشورہ دیا کہ وہ تعلیم کو اپنی زندگی کا مستقل سفر سمجھیں، جدید ٹیکنالوجی اور بدلتے ہوئے حالات سے خود کو ہم آہنگ کریں اور اپنی صلاحیتوں کو خاندان، سماج اور ملک کی ترقی کے لیے استعمال کریں۔جناب یو ٹی قادر نے ہبلی میں انجمن اسلام کے تحت چلنے والے محبوب علی خان انگریزی اسکول کا بھی دورہ کیا اور دھارواڑ ضلع متولی کانفرنس سے خطاب بھی کیا ۔

بعد ازاں یو ٹی قادر نے شگاؤں-ساونور اسمبلی حلقہ کا دورہ کرتے ہوئے عوام سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی کانگریس پارٹی کے مقامی قائدین، کارکنان اور حامی بڑی تعداد میں پہنچے اور ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ یو ٹی قادر نے پارٹی قائدین، کارکنان اور خیرخواہوں کی جانب سے دی گئی محبت، خلوص اور احترام پر ان کا شکریہ ادا کیا۔عوامی رابطے کے دوران مقامی افراد نے مختلف مسائل اور بنیادی سہولیات سے متعلق اپنی شکایات اور مطالبات پیش کیے۔ یو ٹی قادر نے یقین دلایا کہ عوام کی جانب سے پیش کی گئی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور متعلقہ محکموں کے ساتھ تال میل قائم کرتے ہوئے مسائل کے حل کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔اس موقع پر شگاؤں-ساونور اسمبلی حلقہ کے رکن اسمبلی یاسر احمد خان پٹھان، کانگریس پارٹی کے بلاک صدور، مقامی قائدین و کارکنان، ادارے کی انتظامیہ اور تدریسی عملہ موجود تھا۔

0/Post a Comment/Comments