Davangere Congress Protests Alleged Voter List Irregularities داونگیرے میں ووٹر فہرست کی مبینہ بے ضابطگیوں پر احتجاج

ووٹر فہرست کی مبینہ بے ضابطگیوں پر داونگیرے ضلع کانگریس کا احتجاج

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ایس آئی آر عمل کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ

داونگیرے، 29 ستمبر (الطاف رضوی)

 ووٹر فہرست کی نظرثانی کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور انتخابی فہرست سے اہل ووٹروں کے نام خارج کیے جانے کے الزامات کے خلاف داونگیرے ضلع کانگریس کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔احتجاج کے بعد ضلع انتظامیہ دفتر کے سامنے ڈپٹی کمشنر ایم۔ گنگادھر سوامی کو عرضداشت پیش کی گئی، جس میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کے عمل سے متعلق الزامات کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے داونگیرے کی رکن پارلیمان ڈاکٹر پربھا ملیکارجن نے کہا کہ الیکشن کمیشن جمہوری نظام کا ایک اہم اور آزاد ادارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کسی ادارے کی غیر جانب داری اور ساکھ کے بارے میں سوالات اٹھیں تو شفافیت کے ساتھ ان کا جواب دیا جانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ آئین اور جمہوریت کے تحفظ کی ذمہ داری رکھنے والے اداروں کو غیر جانب دارانہ انداز میں اپنے فرائض انجام دینے چاہئیں۔ کسی بھی ادارے کے بارے میں عوام کے اعتماد کو متاثر کیے بغیر شکایات اور اعتراضات کا ازالہ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کسی ایک سیاسی جماعت کا معاملہ نہیں بلکہ جمہوری اقدار، آئینی حقوق اور حقِ رائے دہی سے متعلق مسئلہ ہے۔ڈاکٹر پربھا ملیکارجن نے کہا کہ جمہوری نظام میں ہر شہری کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہے، جو انتخابی نظام کی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر فہرست کی نظرثانی کے دوران بڑی تعداد میں نام خارج کیے جانے سے متعلق الزامات سامنے آئے ہیں، اس لیے ان معاملات کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق کرناٹک میں SIR کے دوران ایک کروڑ سے زائد ووٹر ASDDO زمرے میں شامل کیے گئے ہیں۔ اس زمرے میں غیر حاضر، مستقل طور پر منتقل ہو چکے، فوت شدہ اور ممکنہ طور پر دوہری رجسٹریشن جیسے معاملات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی ووٹر کا نام حتمی طور پر حذف کرنے سے قبل متعلقہ شخص کو اپنا موقف پیش کرنے اور اعتراض درج کرانے کا مناسب موقع دیا جانا چاہیے۔رکن پارلیمان نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کی کارروائی کے حوالے سے خود کمیشن کے ارکان کی جانب سے اختلافِ رائے سامنے آنے کے پس منظر میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو استعفیٰ دینا چاہیے اور SIR سے متعلق پورے عمل کی تحقیقات کرائی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ کے حق اور جمہوری نظام کے تحفظ کے لیے کانگریس کی جدوجہد جاری رہے گی۔

داونگیرے جنوبی کے رکن اسمبلی سمرتھ ملیکارجن شامنور نے کہا کہ SIR کے عمل کی وجہ سے عام لوگوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض مقامات پر انتخابی اہلکاروں کے گھروں پر پہنچنے کے بعد راشن کارڈ سمیت مختلف دستاویزات طلب کیے جانے سے لوگوں میں خدشات پیدا ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بعض شہریوں کو یہ اندیشہ ہے کہ ان کے دستاویزات یا سرکاری فلاحی اسکیموں پر اثر پڑ سکتا ہے یا ان کا حقِ رائے دہی متاثر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر فہرست سے متعلق اٹھنے والے اعتراضات کے ازالے کے لیے شفاف اور قابلِ اعتماد طریقۂ کار ضروری ہے۔سمرتھ ملیکارجن شامنور نے کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتوں کو متحد ہوکر عوام کے ووٹ اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ 30 ستمبر کو دہلی میں انڈیا اتحاد کی میٹنگ منعقد ہونے والی ہے، جس کے بعد قومی، ریاستی اور ضلعی سطح پر آئندہ کی حکمتِ عملی طے کیے جانے کی توقع ہے۔انہوں نے کہا کہ جمہوری اقدار اور شہریوں کے حقِ رائے دہی کے تحفظ کے لیے احتجاج اور قانونی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔احتجاج میں ضلع کانگریس صدر ابراہیم خلیل اللہ، کے پی سی سی ترجمان ڈی۔ بسواراج، سابق رکن اسمبلی ہری ہر ایس۔ رامپا، کے۔ چمن صاب، سعید چارلی، کے۔ پی۔ پالیا، خواتین ضلع کانگریس صدر انیتا بائی مالتیش، ایوب پہلوان، آر۔ ایچ۔ ناگبھوشن، جی۔ ایس۔ منجوناتھ، گڈی گوڈل، اے۔ ناگراج، ایس۔ ملیکارجن، بی۔ ایچ۔ ویربھدرپا، ہلکانی گنیش، انٹیک منجنا، نانچنائیکا، ہریشا کینگلاہلی، ایچ۔ جے۔ معین الدین، ایس۔ ایس۔ گریشا، ڈولی چندرو، ورونا بینہلی، منجمّا، درکشینمّا سمیت خواتین قائدین، پارٹی عہدیداران اور کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

0/Post a Comment/Comments