آکسفورڈ کالج آف انجینئرنگ میں ڈاکٹر ندیم الہدیٰ کا منہ کے کینسر پر خصوصی خطاب
مصنوعی ذہانت سے بیماریوں کی پیش گوئی اور بروقت تشخیص میں جدید طبی تحقیق کے کردار پر روشنی
بنگلورو، 9 ستمبر (حقیقت ٹائمز)
قدوائی میموریل انسٹی ٹیوٹ آف آنکالوجی کے پروفیسر و اورل کینسر شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر ندیم الہدیٰ نے بدھ کے روز بنگلورو کے آکسفورڈ کالج آف انجینئرنگ میں بھارتی طبی تحقیقی کونسل کے تعاون سے منعقدہ خصوصی ورکشاپ میں ’’منہ کے کینسر کا ایک جامع جائزہ‘‘ کے موضوع پر خصوصی خطاب کیا۔یہ ورکشاپ ’’ضابطہ سے علاج تک: مصنوعی ذہانت پر مبنی بیماریوں کی پیش گوئی‘‘ کے عنوان سے منعقد کی گئی تھی، جس کا اہتمام کالج کے محکمہ کمپیوٹر اطلاقیات اور حیاتی ٹیکنالوجی کی جانب سے کیا گیا۔ ورکشاپ کا مقصد جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ذریعے بیماریوں کی بروقت شناخت، پیش گوئی اور علاج کے شعبوں میں ہونے والی پیش رفت سے طلبہ اور شرکا کو روشناس کرانا تھا۔اپنے خطاب میں ڈاکٹر ندیم الہدیٰ نے منہ کے سرطان سے متعلق اہم طبی پہلوؤں، اس کی شناخت اور علاج کے سلسلے میں ضروری معلومات پیش کیں۔ انہوں نے جدید طبی تحقیق میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار اور بیماریوں کی بروقت تشخیص کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔

اس موقع پر ڈاکٹر ندیم الہدیٰ نے آکسفورڈ تعلیمی اداروں کے چیئرمین ڈاکٹر ایس این وی ایل نرسمہا راجو سے ان کے دفتر میں ملاقات بھی کی۔ دونوں کے درمیان تعلیم، طبی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال ہوا۔
Post a Comment