ملیکارجن خاندان کے خلاف بی جے پی کی ذاتی تنقید ناقابلِ برداشت: سید خالد احمد
الزامات عائد کرنے سے قبل حقائق کی جانچ ضروری، نازیبا زبان سیاسی اقدار کے منافی
داونگیرے، 5 ستمبر (الطاف رضوی)
مائنز اینڈ ارتھ سائنس کے وزیر ایس ایس ملیکارجن، رکن پارلیمان ڈاکٹر پربھا ملیکارجن اور رکن اسمبلی سمرَتھ شمانور کے خلاف بی جے پی قائدین کی جانب سے مبینہ طور پر توہین آمیز اور ذاتی نوعیت کے بیانات پر آل انڈیا یوتھ کانگریس کے سکریٹری سید خالد احمد نے سخت اعتراض کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی قائدین کو ایس ایس ملیکارجن اور ان کے خاندان کے افراد کے بارے میں گفتگو کرتے وقت اپنی زبان پر قابو رکھنا چاہیے اور ذاتی حملوں سے گریز کرنا چاہیے۔اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں سید خالد احمد نے کہا کہ بی جے پی قائدین کو کانگریس حکومت کے وزراء، ارکان پارلیمان اور ارکان اسمبلی پر الزامات عائد کرنے سے قبل اپنے ماضی پر نظر ڈالنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی قائدین، جن میں یشونت راؤ جادھو بھی شامل ہیں، کسی بھی الزام کو عائد کرنے سے پہلے اس کے حقائق کی مکمل جانچ کریں۔انہوں نے کہا کہ ایس ایس ملیکارجن کا خاندان داونگیرے ضلع کی ہمہ جہت ترقی کے لیے مسلسل کام کررہا ہے اور عوامی مفاد کے مختلف مسائل پر توجہ دے رہا ہے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن ذاتی نوعیت کی نازیبا زبان اور توہین آمیز بیانات کسی بھی صورت مناسب نہیں ہیں۔
سید خالد احمد نے بی جے پی کے دورِ حکومت میں مبینہ بدعنوانی کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب کرناٹک میں بی جے پی اقتدار میں تھی تو بدعنوانی کے الزامات عروج پر تھے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے اُس وقت کے قومی صدر امیت شاہ نے بھی اس وقت کی یڈیورپا حکومت کو ملک کی مبینہ طور پر سب سے زیادہ بدعنوان حکومت قرار دیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ بی ایس یڈیورپا، کرشنیا شیٹی اور جناردھن ریڈی سمیت بعض بی جے پی قائدین بدعنوانی سے متعلق معاملات میں جیل جاچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے پس منظر کے باوجود بی جے پی قائدین کا کانگریس حکومت پر بدعنوانی کے الزامات لگانا قابلِ افسوس ہے۔ ان کے مطابق کرناٹک کی موجودہ حکومت نے ضمانتی اسکیموں کے ذریعے عوام کے مختلف طبقات کو سہارا فراہم کیا ہے اور حکومت کی کارکردگی سے مایوس بی جے پی قائدین مبینہ طور پر بے بنیاد الزامات کا سہارا لے رہے ہیں۔داونگیرے میں بی جے پی کے سابق دورِ اقتدار کا حوالہ دیتے ہوئے سید خالد احمد نے کہا کہ اس وقت شہر کی ترقی کے لیے کیا اقدامات کیے گئے، اس کا اندازہ اشوکا روڈ پر ریلوے پل کے قریب فلائی اوور اور نجی بس اسٹینڈ کی موجودہ صورتحال سے لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے دورِ اقتدار میں بعض قائدین ذاتی مفادات کے حصول میں مصروف رہے اور شہر کی ترقی پر مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی۔سید خالد احمد نے بی جے پی قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی میں تبدیل نہ کریں اور عوامی مسائل پر تعمیری بحث کریں۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں شائستگی اور اخلاقی اقدار کو برقرار رکھنا تمام سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے۔
Post a Comment