Afsar Kodlipet Calls for Collective Action Against Drugs in Davanagere افسر کوڈلی پیٹ کا داونگیرے کو منشیات سے پاک بنانے پر زور

داونگیرے کو منشیات سے پاک بنانے کے لیے اجتماعی کوشش ضروری: افسر کوڈلی پیٹ

نوجوانوں کے ہاتھوں میں منشیات کے بجائے قلم و کتاب دینے، بیداری اور بحالی پر مشترکہ توجہ کی اپیل

داونگیرے، 19 ستمبر (حقیقت ٹائمز)

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے ریاستی جنرل سکریٹری افسر کوڈلی پیٹ نے کہا ہے کہ داونگیرے کو منشیات سے پاک بنانے کی ذمہ داری صرف پولیس محکمہ کی نہیں بلکہ حکومت، منتخب عوامی نمائندوں، پولیس، شہری سماج، والدین، اساتذہ، مذہبی رہنماؤں اور ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔وہ 18 ستمبر کو دلت سینا اور اس کی معاون تنظیموں کی جانب سے داونگیرے میں منشیات کے خلاف منعقدہ عوامی بیداری مہم سے خطاب کر رہے تھے۔ پروگرام کی صدارت دلت سینا کی یوتھ ونگ کے ریاستی صدر نور اللہ نے کی۔افسر کوڈلی پیٹ نے کہا کہ کرناٹک میں منشیات سے متعلق مقدمات میں اضافہ تشویش کا باعث ہے۔ کرناٹک پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں منشیات اور نفسیاتی اثر رکھنے والے مادوں سے متعلق قانون کے تحت درج مقدمات کی تعداد 2024 میں 4,187 سے بڑھ کر 2025 میں 6,825 ہوگئی، جو تقریباً 63 فیصد اضافہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کا مسئلہ صرف امن و قانون تک محدود نہیں بلکہ نوجوانوں کی صحت، تعلیم، خاندان اور مستقبل سے بھی براہِ راست متعلق ایک سنگین سماجی مسئلہ ہے۔انہوں نے پولیس محکمہ کی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ منشیات کی فروخت اور نقل و حمل کے نیٹ ورک کے خلاف مسلسل اور مؤثر قانونی کارروائی کے ساتھ ساتھ اسکولوں، کالجوں اور عوامی مقامات پر وسیع پیمانے پر بیداری مہم چلانے کو بھی ترجیح دی جانی چاہیے۔

افسر کوڈلی پیٹ نے کہا کہ منتخب عوامی نمائندوں کو نوجوانوں کے لیے کھیل، تعلیم، ہنرمندی کی تربیت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے چاہییں، تاکہ انہیں مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جاسکے۔انہوں نے شہری سماج کے کردار کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو منشیات سے دور رکھنے کے لیے برادری کی سطح پر مسلسل بیداری مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کی لت میں مبتلا افراد کو سماج سے دور کرنے کے بجائے انہیں مناسب علاج، مشاورت اور بحالی کی سہولت فراہم کرنے میں مدد کی جانی چاہیے۔مذہبی رہنماؤں اور مذہبی اداروں کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مساجد، مندروں اور گرجا گھروں سمیت مذہبی ادارے اپنے سماجی اثر و رسوخ کو مثبت انداز میں استعمال کرتے ہوئے نوجوانوں میں اخلاقی شعور، ذمہ داری، خود اعتمادی اور نشہ سے پاک زندگی کے بارے میں بیداری پیدا کرسکتے ہیں۔

افسر کوڈلی پیٹ نے کہا، ’’ہمارے نوجوانوں کے ہاتھوں میں منشیات نہیں بلکہ قلم اور کتاب ہونی چاہیے۔ ان کے ہاتھوں میں منشیات کے بجائے تعلیم کے وسائل، ذہن میں مایوسی کے بجائے خواب اور زندگی میں نشے کے بجائے روشن مستقبل کے مقاصد ہونے چاہییں۔‘‘انہوں نے کہا کہ منشیات کے خلاف جدوجہد کو صرف پولیس کی ذمہ داری سمجھنے کے بجائے سماج کے ہر طبقے کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر کام کرنا ہوگا۔ نوجوانوں کو منشیات سے دور رکھتے ہوئے انہیں تعلیم، کھیل، ہنرمندی کی تربیت اور روزگار کی جانب لے جانے کے لیے جامع سماجی کوشش ضروری ہے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ منشیات کو مسترد کریں، نوجوانوں کے ہاتھوں میں قلم اور کتاب دیں اور ان کے روشن مستقبل کے لیے اجتماعی طور پر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ داونگیرے کو منشیات سے پاک بنانے کے لیے تمام طبقات کو مل کر آگے آنا ہوگا۔اس عوامی بیداری مہم میں داونگیرے تنظیمِ فنڈ ایسوسی ایشن کے عارف، محبوبِ الٰہی ٹرسٹ کے یو۔ منصور، ایس ڈی پی آئی کے ضلعی صدر اے۔ آر۔ طاہر، سماجی کارکنان داداپیر دوڈّمنے اور ٹی۔ اسگر، عام آدمی پارٹی کے عادل خان، سریش، اولیا مسجد کے سکریٹری بشیر صاحب، ریٹائرڈ پولیس افسر الطاف، جبی حضرت سمیت مختلف تنظیموں کے رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی۔

0/Post a Comment/Comments