A Two-Decade Gap Could Not Stop Junaid Sajid Khan’s Education Journey دو دہائیوں کا وقفہ بھی تعلیمی سفر نہ روک سکا

تعلیم میں تاخیر منزل کی راہ میں رکاوٹ نہیں

مولانا جنید ساجد خان نے دو دہائیوں بعد دوبارہ تعلیم شروع کرکے ایم اے کی ڈگری حاصل کرلی

 ممبئی 12  ستمبر (جاوید جمال الدین)

ممبئی کے مولانا جنید ساجد خان کا تعلیمی سفر اس حقیقت کی حوصلہ افزا مثال ہے کہ حصولِ علم کے لیے نہ عمر رکاوٹ بنتی ہے اور نہ ہی تعلیم میں آنے والا وقفہ منزل کے حصول میں حائل ہوسکتا ہے۔ دینی علوم کے حصول میں تقریباً 10 سال گزارنے کے بعد انہوں نے عصری تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا اور بی اے کے بعد ایم اے کی ڈگری بھی حاصل کرلی۔ حالیہ جلسۂ تقسیمِ اسناد میں انہوں نے اپنی ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔مولانا جنید ساجد خان نے ابتدائی اسکولی تعلیم کے بعد دینی علوم کی طرف توجہ دی اور جامعہ غوثیہ، ممبئی میں ہدایت سے فضیلت تک تقریباً 10 سال دینی تعلیم حاصل کی۔ اسی دوران انہوں نے حفظِ قرآن کی سعادت بھی حاصل کی۔ دینی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے عصری تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا، بارہویں جماعت کی تعلیم مکمل کی اور یشونت راؤ چوہان مہاراشٹر اوپن یونیورسٹی سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد ایم اے کی تعلیم جاری رکھی اور یہ مرحلہ بھی کامیابی سے مکمل کرلیا۔

جنید ساجد خان کے نزدیک دینی اور عصری تعلیم ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں نوجوانوں کے لیے دونوں طرح کی تعلیم ضروری ہے۔ دینی تعلیم انسان میں اخلاق، کردار، ذمہ داری اور انسانی اقدار کا شعور پیدا کرتی ہے، جبکہ عصری تعلیم اسے بدلتے ہوئے معاشرتی، پیشہ ورانہ اور عملی تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے میں مدد دیتی ہے۔ اس لیے نوجوانوں کو کسی ایک شعبے تک محدود رہنے کے بجائے دینی اور عصری تعلیم کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا چاہیے۔تعلیم کے ساتھ مولانا جنید ساجد خان عملی زندگی میں بھی متعدد ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ وہ ایک زیورات کی کمپنی میں انتظامی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں اور اسی کمپنی کی مسجد میں امامت بھی کرتے ہیں۔ رات کے وقت مکتب میں بچوں کو دینی تعلیم دیتے ہیں، جبکہ صبح نمازِ فجر کے بعد گونڈی میں قائم جامعات میں عالمہ کورس کی طالبات کو تدریس کرتے ہیں۔ اس طرح ان کی روزمرہ زندگی ملازمت، امامت، تدریس اور اپنی تعلیم کے درمیان مسلسل مصروف رہتی ہے۔

اپنے تعلیمی سفر کے بارے میں جنید ساجد خان کہتے ہیں کہ دینی تعلیم مکمل کرنے کے بعد عصری تعلیم کی طرف واپس آنا آسان نہیں تھا، تاہم حصولِ علم کا جذبہ برقرار رہا۔ تقریباً دو دہائیوں کے وقفے کے بعد انہوں نے دوبارہ تعلیم شروع کی اور بی اے سے ایم اے تک کا سفر کامیابی کے ساتھ مکمل کیا۔ ان کے مطابق اگر انسان کے اندر حوصلہ، عزم اور مستقل مزاجی موجود ہو تو دیر سے شروع کیا گیا تعلیمی سفر بھی کامیابی کی منزل تک پہنچ سکتا ہے۔انہوں نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ کسی امتحان میں ناکامی یا تعلیم میں آنے والے وقفے کو زندگی کی آخری ناکامی نہ سمجھیں۔ بہت سے نوجوان کسی مرحلے پر تعلیم ادھوری چھوڑنے کے بعد مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں، حالانکہ انہیں حالات سے ہار ماننے کے بجائے دوبارہ کوشش کرنی چاہیے۔ زندگی میں مشکلات اور رکاوٹیں آتی رہتی ہیں، لیکن انسان کو اپنا حوصلہ نہیں چھوڑنا چاہیے۔مولانا جنید ساجد خان نے حدیثِ مبارک ’’من جدّ وجد‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ محنت اور مسلسل کوشش کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ ان کا اپنا تعلیمی سفر بھی اس بات کی مثال ہے کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو انسان کئی برس کے وقفے کے بعد بھی کتاب، تعلیم اور علم کی دنیا میں واپس آ سکتا ہے۔مولانا جنید ساجد خان کی کامیابی ان تمام نوجوانوں کے لیے حوصلہ افزا پیغام ہے جو کسی وجہ سے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ چکے ہیں یا دوبارہ تعلیم حاصل کرنے کے بارے میں تذبذب کا شکار ہیں۔ ان کا سفر یہ سبق دیتا ہے کہ تعلیم کے راستے میں تاخیر ہوسکتی ہے، لیکن عزم، محنت اور مستقل مزاجی برقرار رہے تو منزل کا حصول ممکن ہے۔

1/Post a Comment/Comments

Post a Comment