آپریشن سفید ساگر: کارگل کی جنگ کی وہ فضائی داستان جو پردۂ اسکرین پر اب سامنے آئی
فضائیہ کے جوانوں کی قربانی، قیادت کے فیصلے اور جنگ کے پسِ پردہ سیاسی کھیل کی کہانی
از : قیصر پرویز
کارگل کی پہاڑیوں پر جب برف کے نیچے خون گرم ہو رہا تھا، تو آسمان پر بھی ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی تھی۔ ’آپریشن سفید ساگر‘ وہ کہانی ہے جو اب تک پردے پر ادھوری رہی تھی۔ یہ سلسلہ فضائیہ کے جوانوں کی قربانیوں کو صرف ہیرو بنانے کے بجائے ان کے فیصلوں، ڈر اور ہمت کے ساتھ سامنے لاتا ہے۔
پہلے جتنی فلمیں اور ڈرامے بنے، زیادہ تر تخیل کی اڑان تھے یا صرف زمینی لڑائی پر مرکوز۔ یہ سلسلہ الگ انداز اختیار کرتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی صرف فوجی چال نہیں تھی۔ امن کے معاہدے کے بعد بھی کچھ لوگ سرحد پار کرنے کی تیاری میں مصروف تھے۔ پرویز مشرف کی وہ سازش جو تاریخ کے صفحوں میں چھپی رہی، یہاں کھل کر سامنے آتی ہے۔ ناظر کو لگتا ہے کہ وہ صرف جنگ نہیں دیکھ رہا، بلکہ اس کے پیچھے چھپی سیاست اور دھوکے کو بھی محسوس کر رہا ہے۔
اداکاری نے اس کہانی کو جاندار بنا دیا ہے۔ جمی شیرگل کا ونگ کمانڈر ٹونی ڈھانوآ قیادت کا وہ چہرہ ہے جو خاموشی میں بھی بولتا ہے۔ سدھارتھ کا اجے اہوجا کردار قربانی کو صرف نعرہ نہیں بناتا، بلکہ دل میں اتار دیتا ہے۔ منو رشی چڈھا نے مشرف کو ایسا پیش کیا ہے کہ کردار کی سردی اور حساب کتاب دونوں محسوس ہوتے ہیں۔ وینائے پاتھک کا نواز شریف بھی سیاسی الجھنوں کا آئینہ بن کر سامنے آتا ہے۔’
آپریشن سفید ساگر‘ صرف ایک جنگی سلسلہ نہیں۔ یہ پوچھتا ہے کہ آسمان پر لڑنے والے جوان زمین پر بیٹھے فیصلہ سازوں سے کتنے دور ہوتے ہیں۔ یہ سلسلہ دیکھنے کے بعد کارگل صرف پہاڑوں کی لڑائی نہیں رہتی، بلکہ آسمان کی وہ داستان بن جاتی ہے جو اب تک بیان نہیں ہوئی تھی۔ ایک ایسا آپریشن جو تاریخ کے صفحوں میں سفید ساگر کی طرح چمکتا رہے۔
Post a Comment