خشک سالی سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے حکومت پوری طرح تیار: ایشور کھنڈرے
بیدر میں مونگ اور اُڑد کی فصلوں کو 95 فیصد تک نقصان، اسمبلی اجلاس میں خشک سالی کے اعلان پر بحث ہوگی
بیدر، 11 اگست (حقیقت ٹائمز)
بیدر ضلع میں جون اور جولائی کے دوران بارش کی کمی کے باعث مونگ اور اُڑد کی فصلوں کو تقریباً 95 فیصد جبکہ سویابین اور تور دال کی فصلوں کو تقریباً 50 فیصد نقصان پہنچا ہے۔ ضلع میں پیدا ہونے والی خشک سالی کی صورتحال سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے حکومت پوری طرح تیار ہے اور مشکل کی اس گھڑی میں کسانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہ بات دیہی ترقی و پنچایت راج کے وزیر اور بیدر ضلع کے قدرتی آفات کے نگران وزیر ایشور کھنڈرے نے کہی۔ایشور کھنڈرے نے منگل کو ضلع کے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے خشک سالی کی صورتحال اور فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا۔ انہوں نے بیدر تعلقہ کے اشٹور، چونڈی اور چاولّی جبکہ بھالکی تعلقہ کے احمد آباد، کمل نگر کے سنگم، ہولسمودر اور ڈگّی گاؤں میں کسانوں کے کھیتوں کا دورہ کیا اور کسانوں سے براہِ راست ان کے مسائل اور مشکلات دریافت کیں۔
وزیر نے کہا کہ کسی بھی کسان کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ حکومت کسانوں کے ساتھ ہے اور فصلوں کو پہنچنے والے نقصان سمیت ان کے مسائل کے حل کے لیے ضروری اقدامات کرے گی۔انہوں نے متعلقہ افسران کو متاثرہ فصلوں کا جامع سروے کرنے اور فصل کٹائی کے تجربات مکمل کرنے کی ہدایت دی، تاکہ نقصان کی درست تفصیلات حاصل کرکے امدادی اقدامات کیے جاسکیں۔ انہوں نے محکمہ زراعت کے افسران کو خشک سالی سے متعلق امدادی اقدامات کے بارے میں کسانوں کو مناسب رہنمائی فراہم کرنے کی بھی ہدایت دی۔چونڈی گاؤں میں وزیر نے کسان سدّپا کے تین ایکڑ رقبے پر بارش کی کمی سے متاثرہ مونگ کی فصل کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے یقین دلایا کہ درج فہرست ذاتوں کی ترقیاتی کارپوریشن کے تحت ٹیوب ویل کی منظوری کے لیے ضروری کارروائی کی جائے گی۔ بعد ازاں انہوں نے کسان سبھاش اور گروپادیا کے کھیتوں میں بھی متاثرہ مونگ اور اُڑد کی فصلوں کا جائزہ لیا۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایشور کھنڈرے نے کہا کہ بارش کی کمی کے باعث ضلع میں مونگ اور اُڑد کی فصلوں کو تقریباً 95 فیصد نقصان پہنچا ہے، جبکہ سویابین اور تور دال کی فصلیں بھی تقریباً 50 فیصد متاثر ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کسانوں کے بینک کھاتوں میں 246 کروڑ روپے براہِ راست منتقل کیے گئے تھے، جبکہ ریاستی آفات سے متعلق امدادی فنڈ اور قومی آفات سے متعلق امدادی فنڈ کے تحت 270 کروڑ روپے کسانوں کو فراہم کیے گئے تھے۔ رواں سال بھی فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے کر حکومت کی جانب سے ضروری معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔خشک سالی کے سرکاری اعلان سے متعلق انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس کے لیے مقررہ معیار طے کر رکھے ہیں اور اسمبلی اجلاس میں خشک سالی کی صورتحال اور اس کے سرکاری اعلان کے معاملے پر بحث کی جائے گی۔وزیر نے کہا کہ ضلع میں کہیں بھی پینے کے پانی کی قلت کا مسئلہ پیدا ہونے کی صورت میں اسے فوری طور پر حل کیا جائے گا۔ گزشتہ سال پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے 4 کروڑ روپے کی گرانٹ منظور کی گئی تھی، جبکہ رواں سال 6 کروڑ روپے فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے منظورہ رقم ڈپٹی کمشنر کے کھاتے میں موجود ہے۔
مقامی سطح پر روزگار فراہم کرنے پر زور
ایشور کھنڈرے نے کہا کہ بیدر ضلع میں وی بی جی رام جی اسکیم کے تحت تقریباً 30 ہزار افراد کو روزگار فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ مقامی افراد کو ان کے اپنے گاؤں میں ہی روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ انہیں روزگار کی تلاش میں دوسرے اضلاع یا ریاستوں کی جانب نقل مکانی نہ کرنا پڑے۔انہوں نے بتایا کہ روزگار کی ضمانت اسکیم کے تحت ضلع میں اب تک 48 کروڑ روپے کے کام مکمل کیے جاچکے ہیں اور جلد ہی مزید فنڈ جاری کیا جائے گا۔اشٹور گاؤں میں وزیر نے وی بی جی رام جی روزگار ضمانت اسکیم کے مستحقین سے ملاقات کرکے ان کے مسائل دریافت کیے اور بعض مستحقین میں روزگار کارڈ بھی تقسیم کیے۔اس موقع پر رکن اسمبلی رحیم خان، ڈپٹی کمشنر شلپا شرما، ضلع پنچایت کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر گریش بادولے، میونسپل کارپوریشن کے کمشنر مکل جین، ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ پردیپ گنٹی، جوائنٹ ڈائریکٹر زراعت دیویکا سمیت ضلع اور تعلقہ سطح کے مختلف افسران موجود تھے۔
Post a Comment